84

افکارتازہ…..شہرخوبصورت خواب ……عارف محمود کسانہ

ہائیڈل برگ جرمنی کا ایسا حسین اور پرسکون شہر ہے کہ ایک بار کی سیاحت کے بعد جی چاہتا کہ اسے پھر دیکھا جائے ۔ ہائیڈل برگ میں کئی مرتبہ آنا ہوا اور ہر مرتبہ یہاں کی فضا میں عجیب سی روحانی کیفیت محسوس ہوتی ہے شائد اس لیے کہ یہاں علامہ نے کچھ عرصہ قیام کیا تھا اور یہاں آنے والے علامہ کے شیدائی متلاشی آنکھوں سے ان کی راہ گزر کی تلاش میں ہوتے ہیں۔یہاں سے بہنے والے دریا نیکرکے بارے میں علامہ نے بہت خوبصورت نظم لکھی جسے جرمن زبان میں ترجمہ کرکے دریا کے کنارے ایک یادگار کی صورت لگادیا گیا ہے۔ اقبال کے شیدائی ہر سال یہاں کے سبزہ زار پر محفل مشاعرہ اور ذکر اقبال کرتے ہیں۔ علامہ کے نام سے منسوب اقبال روڈ بھی دریا کے اسی سمت واقع ہے۔ علامہ اقبال کا جس گھر میں قیام رہا وہ اقبال کے چاہنے والوں کا منتظر ہوتا ہے۔ بیرونی دیوار پر سنگ مرمر کی تختی آویزاں ہے جس پر کنندہ ہے کہ ” محمد اقبال 1938 ۔ 1877 پاکستان کے قومی شاعر اور فلسفی یہاں 1907 میں قیام پذیر رہے”۔
اس تاریخی گھر کی تصاویر بنانے کے بعد وہاں کھڑا ہو کر اس دور کے بارے میں سوچنے لگا کہ جب مواصلات کے ذرائع دور حاظر جیسے ترقی یافتہ نہیں تھے کیسے ایک نوجوان سیالکوٹ سے لندن اور پھر وہاں سے ہائیڈل برگ پہنچا اور یہاں رہ کر جرمن زبان سیکھی۔ ابھی انہی خیالات میں مگن تھا کہ اچانک اس گھر کا دروازہ کھلا اور ایک نوجوان باہر نکلا تاکہ ساتھ ملحق گیراج سے اپنی گاڑی نکال سکے۔ میں فورا اس کی جانب لپکا اور گھر کو اندر سے دیکھنے کی اجازت چاہی۔ وہ نوجوان شائد اس صورت حال سے پہلے بھی دوچار ہوچکا تھا اس لیے بڑے تحمل سے بولا کہ اندر دیکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔’’ اس گھر کے مالک نے اندر فلیٹ بنا کر کرایہ داروں کو دے رکھے ہیں اس لیے اندر جانا بے سود ہے‘‘۔ اس نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ آپ کی طرح اندر سے گھر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن ہم انہیں یہی جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ دیکھنا ہے وہ صرف بیرونی منظر ہی ہے اور وہ بھی سنگ مرمر کی ایک تختی جو جرمنی کی وزارت ثقافت نے 1966 میں مکان کی دیوار میں نصب کی ہے۔ کیا حکومت پاکستان اس گھر کو خرید کر ایک تاریخی ورثہ کے طور پر محفوظ نہیں رکھ سکتی؟ اس سوال کا ذہن میں آنا لازمی امر تھا۔ اگر یہ گھر ایک باقاعدہ میوزیم کی صورت اختیار کرلے تو یہاں آنے والے سیاحوں کو علامہ اقبال کی شخصیت اور ان کے کام سے بہتر آگاہی ہوگی۔ حکومت پاکستان اگر چاہے تو یہ کرسکتی لیکن حکومت آخر ایسا کیوں کرچاہے گی۔ حکومت پاکستان تو پہلے سے موجود مقامات کے حوالے سے غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہے۔ اس سے زیادہ بے حسی اور کیا ہوگی کہ ہائیڈل برگ یونیوسٹی میں اقبال چئیر 4 سال سے خالی ہے اور حکومت پاکستان نے اس کے لیے کوئی تعیناتی نہیں کی۔ ہائیڈل برگ یونیوسٹی جرمنی کی قدیم ترین جامعہ ہے جو 1386 میں قائم ہوئی۔ یونیورسٹی کے ساوتھ ایشین انسٹیٹیوٹ میں اقبال چئیر قائم کی گئی لیکن اب یہ چئیر 2014 ء میں پروفیسر سید وقار علی شاہ کے چلے جانے کے بعد سے خالی ہے۔ معلوم نہیں کہ دنیا کی دیگر جامعات جن میں آکسفورڈ، کیمرج، برکلے، کولمبیا اور دیگر مقامات میں قائم اقبال چئیر کا کیا حال ہے البتہ ایک قبال شناس کے مطابق جموں اور کلکتہ میں وہاں کی ریاستی حکومتوں کی جانب سے قائم گئی اقبال چئیر فعال اور کام کررہی ہیں۔ فرینکفرٹ میں مقیم معروف شاعر، ادیب اور صحافی سید اقبال حیدر متعدد بار جرمنی میں پاکستان کے سفیر، صدر پاکستان اور دیگر اعلی حکومتی شخصیات کی توجہ اس جانب مبذول کراچکے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور یہ آسامی4 سال سے خالی ہے۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں جنوبی ایشیائی شعبہ میں اردو کی پروفیسر کرسٹینا اسٹربیلد سے ملاقات بہت مفید رہی۔ ان کے دفتر میں اردو کی بہت زیادہ کتابیں دیکھ کر بہت اچھا اور انہیں اپنی کتابیں افکار تازہ اور سبق آموز کہانیاں پیش کیں جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیں۔ ان سے اقبال چئیر کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے ایک دفتر کی جانب اشارہ کیا جس کا بند دروازہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ جو قومیں اپنے قومی راہنما کے حوالے سے اس قدر بے حسی کا شکار ہو جائیں وہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں۔
ہائیڈل برگ میں ایک ہفتہ جرمن کینسر ریسرچ سینٹر اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مرکز میں مصروفیت رہی جبکہ ہر شام کو خوشگوار موسم میں ہائیڈل برگ کی سیر بہت پر لطف رہی۔پہاڑوں کے درمیان دریا اور اس کے دونوں طرف پھیلی ہوئی خوبصورت وادی بہت حسین منظر پیش کرتی ہے۔ ہائیڈل برگ کی فضا بہت صاف ہے اور غالبا یہ جرمنی کا واحد شہر ہے جہاں صنعتیں نہیں ہیں اس لیے فضائی آلودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جس گھر میں علامہ اقبال مقیم رہے اس کے عقب سے ایک گلی جس کا نام فلسفی سٹریٹ ہے بلندی کی طرف جاتی ہے جہاں سے دریا نیکر اور ہائیڈل برگ شہر اور اس کے قلعہ کا شاندار نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے جرمن میزبان ہمیں خصوصی طور پر اس طرف لے کر آئے اور واپسی کا سفر بل کھاتی ہوئی تنگ گلی جسے سانپ گلی کا نام دیا گیا ہے اور یہ بلندی سے سیدھی نیچے آتی ہے۔ ہائیڈل برگ کا پرانا شہر ایک چھوٹا سا اور پیارا شہر ہے جہاں ہر وقت سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ ہائیڈل برگ کا قلعہ قابل دید ہے اور وہاں سے شہر کا دلفریب نظارہ ہوتا ہے ۔ اس قلعہ کے اندر ادویات کے بارے میں میوزیم قائم ہے جو سیاحوں کی دلچسپی کا اہم مرکز ہے۔ ہائیڈل برگ ایسا حسین اور پرسکون شہر ہے کہایک بار کی سیاحت کے بعد جی چاہتا کہ اسے پھر دیکھا جائے ۔ علامہ نے یونہی تو اسے شہرخوبصورت خواب نہیں کہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں