55

یورپی پارلیمنٹ برسلز میں کشمیرای یو ویک پیر کو شروع ہوگا

برسلز(پ۔ر) بلجیم کے دارالحکومت برسلزمیں کشمیرای یو ۔ویک کے حوالے سے تقریبات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ یہ تقریبات کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام چارنومبر پیرکے روز یورپی پارلیمنٹ میں شروع ہورہی ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر مہمان خصوصی کی حیثیت سے ان تقریبات کا افتتاح کریں گے۔ یہ تقریبات جمعہ آٹھ نومبر تک جاری رہیں گی۔اس بار یورپی ہیڈ کوارٹرز میں ہفتہ کشمیر کی تقریبات ایسے وقت ہورہی ہیں جبکہ بھارت نے تین ماہ قبل جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور نئی دھلی کی طرف سے تین ماہ قبل مقبوضہ وادی میں نافذ کیا گیا کرفیو اب بھی جاری ہے۔کشمیرای یو ۔ویک یا یورپ میں ہفتہ کشمیر میں بین الاقوامی کانفرنس، متعددسیمینارز، مباحثے، ورکشاپس، کشمیرپردستاویزی فلم اور عکاسی اور دست کاری کی اشیا کی نمائش شامل ہے۔ خاص طور پر فرنچ بلج فوٹو گرافر سدریک گربے ہائے کی مقبوضہ کشمیر سے لی گئی تصاویر دکھائی جائیں گی۔ یورپی پارلیمنٹ میں ان تقریبات کی میزبانی کے فرائض ایم ای پی شفق محمد اور دیگر اراکین یورپی پارلیمنٹ انجام دیں گے۔ہفتہ کشمیرکے دوران مقبوضہ کشمیرکی تازہ ترین صورتحال پر مبنی تصاویر اور اس بارے میں تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی جارہی ہے جس میں گذشتہ تین ماہ سے کرفیو کے دوران کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے بارے میں حقائق شامل ہیں۔ کشمیرای یو ۔ویک کی تقریبات میں آزادکشمیراورمقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے علاوہ شمالی امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے بھی مندوبین شریک ہونگے۔ تقریبات کے افتتاحی پروگرام میں اراکین پارلیمنٹ، سیاسی اورسماجی شخصیات، دانشوروں اورمعاشرے دوسرے طبقات سے تعلق رکھنے والے اہم افراد کو مدعوکیاگیاہے۔ہفتہ کشمیر کے بارے میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے کشمیرای یو ۔ویک کی سالانہ تقریبات کا سلسلہ گذشتہ گیارہ سالوں سے جاری ہے۔اس کے علاوہ بھی کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے دیگر مواقع پر بھی مسئلہ کشمیرپر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام وقتافوقتا یورپ کے قانون ساز، تحقیقی اورعلمی اداروں میں اجلاسوں، کانفرنسوں ، مباحثوں اورسیمیناروں کا انعقادکیاجاتاہے ۔ مختلف یورپی ممالک میں کونسل کی طرف سے کشمیرپر ایک ملین دستخطی مہم بھی جاری ہے۔ ان پروگراموں اورتقریبات کی وجہ سے یورپ کی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قابل توجہ آگاہی پیداہوگئی ہے۔ان تقریبات کے انعقادکے سلسلے میں کشمیرکونسل ای یو کے ساتھ یورپ کی دیگرکشمیری تنظیمیں بھی تعاون کررہی ہیں۔ کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے بتایاکہ ان تقریبات کا مقصد مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگرکرناہے اور مسئلہ کشمیرکے حوالے سے آگاہی پیداکرناہے۔ علی رضا سید نے بتایاکہ اس دفعہ کشمیرکونسل ایو۔ویک کی تقریبات زیادہ اہم ہیں کیونکہ اس باربھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مقبوضہ وادی کو اپنے محاصرے میں لے لیا ہے۔ بھارتی فوجیوں نے تین ماہ کے کرفیو کے دوران مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کی انتہاکردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں