66

ہندو متعصب لوگ ہیں۔۔۔۔سردار پرویز محمود صدر کے۔ای۔اے

آپکو ہندووں سے کبھی پالا پڑا ہے؟ نہیں پڑا نا یہی تو غلط فہمی ہے ان سب لوگوں کو جنھیں ہندو کمیونٹی سے براہ راست پالا نہیں پڑا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر وہ ذی شعور شخص جو پڑھے لکھے اور بہت پڑھے لکھے ہندووں کو پتھر کے بتوں کے سامنے جھکتا دیکھتا ہے۔ اس کے دماغ میں سوال تو پیدا ہوتا ہے ۔ یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ اگر اسلام کی تعلیم خدانخواستہ کسی تک بلکل بھی نہ پہنچی ہو تو بھی ہندووں کا بتوں کو پوجنا یا بچھڑے کو معبود ماننا کبھی بھی کسی کے کامن سینس میں نہیں سماے گا۔ہمارے ہاں ہندووں کے بارے میں تجسس تو تھا کہ کتنے ترقی یافتہ لوگ ہیں۔ دنیا پر چھا جانا چاہتے ہیں۔ ان سے ملنے میں کیا ہرج ہے؟ ان سے تعلق بڑھانے میں کیا ہرج ہے؟ ویسا بھارت سے بڑی تعداد میں انجنئیرز اور آئی۔ ٹی پروفیشنلز یورپ میں جابز کرتے ہیں۔زیادہ تر لوگ واپس بھارت چلے جاتے ہیں۔ بھارت کی ٹاپ کی یونیورسٹیز ہاورڈ اور ایم۔آئی۔ٹی کے برابر یا اس سے بھی اوپر مانی جاتی ہیں۔ مثلاً آئی۔آئی ۔ٹی میں اپلائی کرنے والے امیدواروں کے صرف دو فیصد سے بھی کم امیدوار سیلیکٹ کیے جاتے ہیں۔ جبکہ ہاورڈ میں یہ شرح دس فیصد مانی جاتی ہے۔ ناروے کے ایک شہر میںہم شہر کی میونسپلٹی میں ڈیپارٹمنٹ انجنئیر کی جاب کرتے تھے۔ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو فیملی رہتی تھی۔ ہمیں لگا کہ وہ پاکستانی ہیں۔ رفتہ رفتہ جب ان سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ ان کا تعلق بھارتی پنجاب سے ہے۔ جب ہم نے بتایا کہ ہم میونسپلٹی میں ڈیپارٹمنٹ انجنئیر ہیں تو انہیں بہت تعجب ہوا کہ سرکاری محکمے میں ہمیں انجنئیر کی پوزیشن کیسے ملی؟ میں نے عرض کی کہ آپ ٹھیک ہی کہتے ہوگے۔ وہاں لگتا ہے میں اکیلا ایشئنز ہوں۔ مذکورہ فیملی سے الیک سلیک بڑھتی رہی۔ بلکہ میری دلچسپی بھی زیادہ تھی کہ جانوں کہ یہ لوگ جو دنیا کے دور دراز ملک میں رنگ و نسل اور لباس اور زبان و کلام میں اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ آخر کیا بات ہے کہ ان سے ہماری اتنی دشمنی ہے۔ کلچر ، زبان اور رنگ و نسل کے اعتبار سے تو گویا وہ لوگ گھر ہی کی لگتے ہیں۔ خاص کر یورپ کے دور دراز ملک میں جہاں گنتی کے ایشئینز رہتے ہوں۔سچ مانیں تو ہم قدیم ہندو رسم و رواج کو اپنے اس معاشرے میں آج بھی بہت عزیز رکھتے ہیں۔ نادانستگی اور لا علمی میں ہی سہی۔ اگر کوئی ہمارے ہاں ان ہندو رسم و رواج کو توڑنے کی جرات کرتا ہے تو ہم اسے جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں اور بسا اوقات اسے جان سے مار بھی دیتے ہیں۔ تو بات ہورہی تھی ہندو فیملی سے الیک سلیک کی۔میں نے چند بار مذکورہ فیملی کو گھر دعوت دی۔ لیکن ٹال مٹول کرگیے ۔ ایک دن سوچا چلیے خود ان کے گھر چلتے ہیں۔ ہمارے جانے پر انکی جنھلاہٹ اور پریشانی کی جو وجہ دیدنی تھی وہ یہ تھی کہ ہم کون سے گلاس یا برطن کو چھو رہے ہیں؟ ایک جیسے شیشے کے گلاس یاد رکھنا کہ کس میں ہم نے پانی پیا ہے۔ اور کس برطن کو چھوا ان کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔ہم سمجھ گیے کہ ہم غلط جگہ آگیے ہیں۔پچھے دنوں ہم نے انڈین چینل آن کیے۔ اور تجسس یہ تھا کہ بھارتی کیا پراپیگنڈا کررہے ہیں؟ کچھ دن تک ہم ان کے چینل دیکھتے رہے ۔ اگرچہ پراپیگنڈا خاصہ چیپ نوعیت کا ہوتا ہے انڈین چینلز پر۔ پھر بھی ایک لمبے وقت تک اسے دیکھنے سے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔کہتے تھے عمران خان اخبار ہی نہیں پڑھتا۔ حالات حاضرہ سے نابلد ہے۔ فلاں فلاں سوالات پر کوئی جواب نہیں دے سکا۔مانا کہ کرکٹ میں اچھا ہوا ہوگا لیکن راج نیتی مشکل چیز ہے۔ مودی کا اس سے کیا مقابلہ؟ یو۔این۔او میں عمران خان کی تقریر سنی تو جلدی سے انڈین چینل آن کیے دیکھیں تو سہی اس تقریر کا کیا توڑ نکالیں گے بھارتی۔ایک چینل پر کہہ رہے تھے عمران خان کے دن ہی تھوڑ ے رہ گیے ہیں۔ کیونکہ شاہ محمود قریشی ناراض ناراض پھرتے نظر آرہے ہیں۔ وہی انکی جگہ لینا چاہتے ہیں۔ اور پاکستانی سینا بھی اب تو عمران خان سے کرسی چھین لے گی۔ ایک د وسرے انڈین چینل پر چلا گیا ۔ وہاں کچھ ماہرین بیٹھا رکھے تھے جو مودی کی یو۔این۔او میں تقریر کو بقول ان کے ڈی ۔کوڈ کررہے تھے۔ بقول انکے مودی کی تقریر اتنی بلند فکر اور عالمی نوعیت کی تھی کہ دنیا کو سمجھانے کے لیے اسے ڈی۔کوڈ کرنا پڑے گا۔ حالانکہ مودی چاے بیچتے تھے۔ اور بامشکل انگلش بولتے ہیں۔ اور ساری تقریر ہندی زبان میں کردی۔ جو دنیا کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں