91

پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال کا ناروے میں قرآن کریم کو جلائے جانے کے واقعے پر تشویش کا اظہار

اوسلو (پ۔ر)ناروے میں مقیم پاکستانیوں کی اہم سماجی و ثقافتی تنظیم پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین چوہدری قمراقبال نے ناروے کے شہر کرستیان ساند میں اس ہفتے قرآن کریم کو جلائے جانے کے واقعے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔اپنے ایک بیان میں چوہدری قمراقبال کہاکہ ایک شخص نے جس کا تعلق ایک اسلام مخلاف تنظیم سے ہے، کرستیان ساند شہر کے پر رونق علاقے میں پہلے ایک مجمع لگایا اور پھر لوگوں کے سامنے قرآن کریم کو آگ لگا کر عوام الناس کو مشعل کرنے کی کوشش کی۔بیان میں کہاگیا ہے کہ ناروے ایک پرامن ملک ہے اور پورے دنیا کے لوگ انسانیت سے محبت کی بنا پر اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے احترام کی وجہ سے ناروے کے لوگوں کی عزت کرتے ہیں۔ناروے میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں اور ناروے کی حکومت کی پالیسی بھی احترام انسانیت پر مبنی ہے۔ ناروے میں تمام مذاہب کے لوگوں کو انکے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔ ناروے نے یہ مقام کئی دہائیوں کی محنت اور تک و دو سے حاصل کیا اور خاص طور اسی جدوجہد کی وجہ سے اقوام عالم میں اپنے آپ کو امن کے علمبردار کے طور پر متعارف کروایا ہے۔مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کریم کی آتش سوزی کے واقعے سے جو پولیس کے سامنے ہوا، ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اس سے انسانیت سے محبت کرنے والے تمام نارویجن لوگوں اور ناروے میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی صدمہ اور دکھ ہوا ہے کہ ایک شخص قرآن کریم کو جلاتا رہا اور پولیس جانبدارانہ طور پر خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہی۔ جب ایک نوجوان نے قرآن کو جلانے والے اس شخص کو روکنے کوشش کی تو پولیس اس لڑکے کو روکنے اور اس شخص کو اس لڑکے سے بچانے کے لیے حرکت میں آئی۔اگر پولیس پہلے ہی اس شخص کو قرآن جلانے سے روک لیتی، اس پریشان کن واقعے کی نوبت ہی نہ آتی اور جتنی بدنامی پورے دنیا میں نارویجن پولیس کی ہوئی ہے، وہ نہ ہوتی۔ اگر پولیس قرآن کریم کو جلانے سے روکتی تو پورے دنیا کے لوگ شاباش دیتے اور کہتے کہ ناروے کی پولیس نے ایک شخص کو فساد پھیلانے سے روک لیا ہے۔انھوں نے کہاکہ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف ناروے میں نفرت اور انتشار پھیلتا ہے بلکہ پورے دنیا میں ناروے کی پرامن اور مثبت شہرت کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ ناروے کا قانون اور دنیا کے تمام بڑے ادیان انسانیت سے محبت اور ایک دوسرے کے احترام کا درس دیتے ہیں۔چوہدری قمراقبال نے کہاکہ ناروے کی حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کے انتہاپسندانہ ذہن رکھنے والے لوگوں کو انتشارپھیلانے اور لوگوں کو اشتعال دلانے سے روکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں