83

نئے پاکستان کی پرانی عدالتیں۔۔۔۔تحریر: طلعت بٹ ممبر اوسلو سٹی کونسل

درد نے میرے دامن کو یوں تھام رکھا ہے جیسے اس کا بھی میرے سوا کوئی نہیں
“لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے سانحہ ساہیوال کیس میں ملوث تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔”زندگی عموما آسودگی سے عبارت ہے مگر دنیا میں روز و شب نت نئے واقعات، حادثات و سانحات بھی جنم لیتے رہتے ہیں۔ اکا دکا سانحات ایسے دلخراش واقع ہوتے ہیں کہ قیامت صغری کا منظر پیش کرتے انسانی روح کو زخموں سے چور چور کر گزرتے ہیں۔ اور انسان اسقدر نڈھال ہو جاتا ہے کہ اسے زمانے سے خیر کی توقع ہی عبث دکھائی دیتی ہے ۔نظام قدرت ہے کہ گر چہ وقت کی مرہم ان زخموں کو بظاہر بھر دیتی ہے مگر ان کا ذکر چھڑتے ہی قلب و روح سے دوبارہ ٹیسیں نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ آج میں بھی اسی صورت حال سے دوچار ہوں۔ جسم میں جان نہیں رہی اور دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔غالب خستہ حال نے شاید کسی ایسی ہی صورت میں مبتلا اس شعر میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہو گا۔

حیراں ہوں دل کو روں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
رواں برس بروز ہفتہ 19 جنوری کی سہہ پہر کیا آپ کو یاد ہے؟
اس روز سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔ پولیس کی فائرنگ سے شادی میں شرکت کیلئیجانے والا خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور3 بچے زخمی ہوگئیتھے جبکہ پولیس کی جانب سے 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔پولیس کا بیانیہ سراسر غلط بیانی پر مبنی تھا۔ بعد ازاں اس سانحہ کی تفصیلات کو تمام میڈیا میں خاطر خواہ بیان کر دیا گیا ۔ تفصیلات کو دوہرانا مقصود بھی نہیں ۔ اور زیادہ تکلیف دہ بھی۔ بقول محسن بھوپالی ۔

ان کو فرصت ہی نہیں بات کی تمہید سنیں ہم وہ پاگل ہیں جو تفصیل میں پڑ جاتے ہیں
ممکن ہے آپ سوچیں کہ مظلومین کا برائے راست مجھ سے کوئی رشتہ و تعلق نہیں ہے پھر میں نے اپنے آپ کو اس اذیت میں کیوں مبتلا کر رکھا ہے؟
کیا انسانیت کا رشتہ خاندانی رشتوں سے کمتر رشتہ ہے ؟ ہرگز نہیں! میرے رب کا فرمان ہے۔

“ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے”
من قتل نفسا بِغیرِ نفس و فساد فِی الرضِ فنما قتل الناس جمِیعا۔ (القران
اور میرا رب ہی بلاشبہ بہتر جاننے والا ہے۔
سوچتا ہوں :
1 ۔ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عزت مآب جناب عمران احمد خان نیازی آج کتنے شادمان ہوں گے کہ وہ حسب وعدہ پاکستان میں ریاست مدینہ والا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔2 ۔ تحریک انصاف کیقایدین، زعما، راہنما، اراکین و خیر خواہ کتنے سرشار ہوں گے کہ مملکت خدا داد میں ناانصافی کا نظام تبدیل کر کے عوامی خدمت کی نئی مثال قائم کر ڈالی ۔
3 ۔ سپہ سالار افواج پاکستان کو ضرور آسودگی نصیب ہوئی گی کہ انہوں نے نالاہق حکمرانوں اور فرسودہ نظام کو چلتا کرنے اور موجودہ نظام انصاف لانے میں اور اسے سہارا دینے میں اپنا حصہ ڈالا۔
4 ۔ عدالت عظمی کے منصف اعلی کو اطمینان قلب حاصل ہوا ہو گا کہ ان کی ماتحت عدلیہ عدل کا بول بالا کرنے میں کامران ہوئی۔
5 ۔ محکمہ پولیس کے ارباب اختیار کا سر فخر سے بلند اور ان کے مورال میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہو گا۔ کہ انسداد دہشت گردی کے معزز و مکرم منصف نے محکمہ پولیس پر لگے تمام مکروہ الزامات حرف غلط کی طرح مٹا دیے اور محکمہ پولیس کی ساکھ کو دوبارہ عزت و تکریم بخشی ۔
6 ۔ عوام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہو گی۔ ان کے نزدیک جن کا مسئلہ ہے وہی خاندان بھگتے۔ ان پہ تو برائے راست اس فیصلے کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے والا۔ “تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو”
پھر سوچتا ہوں ان 3 معصوم بچوں پہ کیا گزر رہی ہو گی ؟
1 ۔ جن کے والد دلنواز کو بلا جواز ان کی نظروں کے سامنے دن دھاڑے موت کی ابدی وادیوں میں اتار کر انہیں سایہ شفقت سے مستقل محروم کر کے اس بے رحم معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
2 ۔ ان کی والدہ محترمہ جو آخری دم تک اپنے جسم کی ڈھال سے ان کی زندگی کو محفوظ بناتے ہوئے چار سو برستی گولیوں کو اپنے سینے میں جزب کرتی جان کی بازی ہارگئی۔
3 ۔ ان کی 13 سالہ بہن جو ان کے ساتھ لاڈ پیار سے نہ صرف کھیلتی ہو گی بلکہ چندا ماموں کی کہانیاں سنا کر انہیں بہلاتی پھسلاتی ہو گی۔ اور جس نے شادی میں شرکت کی غرض سے رنگ برنگے کپڑے پہن کر اٹھکیلیاں کرنے کا سوچ رکھا ہو گا۔ گولیوں سے چھیدے جسم سے رواں دواں سرخ خون سے رنگے اس کے پورے جسم کے اس خوں نشین منظر نے ان بچوں کے شعور و لاشعور میں کیا ابدی اثرات چھوڑے ہوں گے۔
خدایا !
اتنے بڑے سانحے کا کوئی ایک شخص بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرا؟
کیا پاکستانی معاشرہ مکمل بے حس ہو چکا ؟ اور کیا اس میں ایک حقیقی جوہری تبدیلی کی خواہش مکمل مفقود ہو چکی ؟
بلاشبہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ مولانا ظفر علی خان نے اللہ رب العزت کے فرمان کو ان دو مصروں میں بیان کیا ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
آخرش اپنی بھیگی آنکھوں کی نمی کو خشک کرتے ہوئے مملکت خدا داد کی موجودہ صورتحال میں بہتری کی توقع کے ساتھ قتیل شفائی کے درج ذیل اشعار یاد آئے۔
درد سے میرا دامن بھر دے، یا اللہ! پھر چاہے دیوانہ کر دے، یا اللہ!
یا دھرتی کے زخموں پر مرہم رکھ دے یا میرا دل پتھر کر دے، یا اللہ!

اپنا تبصرہ بھیجیں