28

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کے خلاف برسلز میں ایک احتجاجی کیمپ لگایاگیا

برسلز(پ۔ر)کشمیرکونسل یورپ (ای یو) کے زیراہتمام بدھ کے روز بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں مقبوضہ کشمیر میں کئی ماہ سے مسلسل محاصرے اور کرفیو کے خلاف ایک احتجاجی کیمپ لگایاگیا۔یہ ایک روزہ احتجاج یورپی ہیڈکوارٹرز میں پلس شومان کے مقام پرای یو ایکسٹرنل ایکشن سروس (یورپی وزارت خارجہ) کے دفتر کے سامنے منعقد ہوا۔واضح رہے کہ بھارت نے اگست کے اوائل سے ابتک جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرکے مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو لگا رکھا ہے۔احتجاجی کیمپ کے دوران مظلوم کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہارکیا گیا اور یورپی باشندوں میں آگاہی کے لیے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور تنازعہ کشمیر کے حوالے سے معلوماتی بروشرز بھی تقسیم کئے گئے۔ بروشرز میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور تنازعہ کشمیر کی وضاحت کی گئی ہے۔ بروشر میں کہاگیا ہے کہ آج ایک سو آٹھ دن ہوچکے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگایا ہوا ہے جس سے آٹھ ملین انسان بری طرح متاثر ہورہے ہیں، ان کی زندگی مفلوج ہے اور انہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔ کیمپ کا انتظام کرنے میں کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید کے ساتھ دیگر جن شخصیات نے معاونت کی جن میں ممتازسماجی شخصیات چوہدری خالد جوشی، میرشاہجہاں، سردارصدیق، چوہدری عمران ثاقب، سید اظہرشاہ ہمدانی، عامر نعیم سنی اور مہرندیم قابل ذکر ہیں۔بروشرز کی تقسیم کے علاوہ اس دوران کیمپ میں آنے والے یورپی باشندوں کو فردا فردا بھی بریف کیا گیا۔ احتجاجی کیمپ دن گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ اس موقع پر میگافون پر کشمیریوں کی حمایت میں نعرے بھی لگائے گئے اور وہاں سے گزرنے والوں لوگوں کو بتایاگیا کہ بھارت نے کس طرح کشمیریوں رہنماوں کو قید کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور وہاں کرفیو لگادیا۔ کیمپ کے منتظمین نے یورپی باشندوں سے مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں دستخط بھی لئے جو کشمیرکونسل ای یو کی ایک میلن دستخطی مہم کا حصہ ہے۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے اس موقع پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے ایک سو آٹھ دن ہوگئے ہیں لیکن اقوام عالم کی طرف سے مسلسل خاموشی ہے۔ کشمیریوں کی خاص طور پر یورپ جیسے مہذب معاشرے اور دنیا میں امن و اںصاف کے لیے اپنا کردار ادا کرنے والے یورپی حکام سے بہت توقعات تھیں۔ ہم یورپ کو یاد دھانی کرانا چاہتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے محاصرے کو ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔دیگرشرکا نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے پرفوری طور پر ایکشن لے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کروائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی حکومت کے خلاف اقدام کرے۔ انھوں نے عالمی طاقتوں بشمول امریکہ اور یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بند کرواکر کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے میں ان کی مدد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں