88

لوٹن میں سیاست اور ادب کا خوبصورت امتزاج۔۔۔۔۔تحریر: یشب تمنا

لوٹن میں سیاسی سرگرمیاں تو سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی فضا کو ذرا تبدیل کرنے کے لئے ادبی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہاں کی سب سے مقبول ادبی تنظیم کا نام ۔۔۔حلقہ ِ ارباب ِ ذوق ۔۔۔ہے ۔ اس تنظیم کے سرپرست اعلی تو برطانوی ہاس آف لارڈز کے رکن جناب قربان حسین چوھدری ہیں لیکن اس کے روح ِ رواں اور منتظم ہمارے دوست ۔۔۔سید حسین شہید سرور ۔۔ہیں ۔ وہ خود بھی اعلی شعری ذوق رکھتے ہیں اور ادبی پروگرام اس سلیقے سے کرتے ہیں کہ مہمان شاعر اور ادیب ہی نہیں ان کے پروگرام میں شامل ہونے والے بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ میرے پرانے دوست ہیں اور کئی ماہ سے ان کا اصرار تھا کہ ان کے پروگرام میں شامل ہوا جائے۔ اس مرتبہ انھوں نے اتنے پیار سے دعوت دی کہ انکار کی کوئی صورت نہ بن سکی۔اس برس کے لئے انھوں نیلوٹن میں ایک مرکزی جگہ کا انتخاب کیا تھا جو کہ یہاں کا خوبصورت اور پر سٹی کونسل کا شکوہ۔۔۔۔۔ ٹان ہال۔۔۔۔تھا ۔پروگرام کے لئے تاریخ اکتوبر اور وقت دو بجے دوپہر کا تھا۔ یوں تو اس تنظیم کے سرپرست لارڈ قربان حسین ہیں لیکن اس پروگرام کی صدارت لوٹن کی معروف سیاسی شخصیت محترمہ سمیرا شاہد نے کی اور مہمان ِ خصوصی کا اعزاز۔۔۔یشب تمنا۔۔۔مجھ خاکسار کو بخشا گیا۔ جبکہ لوٹن کے میئر۔۔۔کونسلر طاہر ملک نے ذاتی حیثیت میں نہ صرف اس تقریب میں شرکت کی بلکہ پروگرام کے آخر تک موجود بھی رہے۔۔۔اور پروگرام کے بعد انھوں نے مجھے اور چند اور مہمان شعرا کو اپنے دفتر آنے کی دعوت دی اور ۔۔۔۔میئر آفس کی وزٹ بک۔۔۔۔ میں اپنے تاثرات درج کرنے کی درخواست بھی کی۔ اس سیاسی اور ادبی تقریب میں لوٹن شہر کے تقریبا تمام پاکستانی، کشمیری کونسلرز نے شرکت کی اور بعض کونسلرز نے اپنے تاثرات کا اظہار بھی کیا۔اس تقریب کا آغاز علامہ اعجاز احمد کی تلاوت ِ کلام ِ پاک۔۔۔۔۔ راجہ عجائب خان کی نعت ۔۔۔۔۔۔اور خواجہ زاہد کے ترانے سے ہوا۔ اس محفل سے خطاب کرنے والوں میں صدر محترمہ سمیرا شاہد، لارڈ قربان حسین، یشب تمنا ،میئر کونسلر طاہر ملک، ڈاکٹر یاسین رحمان، کونسلر جویریا حسین، نو منتخب کونسلر آصف مسعود، کونسلر کاشف چوھدری، شبیر حسین ملک، جہانگیر پوٹھی، حاجی قربان حسین چوھدری، سابق میئر مسعود اختر چوھدری اور طارق بٹ شامل تھے۔میں نے اپنی شاعری پییش کرنے سے پیشتر سامعین سے درخواست کی کہ وہ اہنے اپنے علاقے کی لائبریری سے اردو کی کتابیں ضرو جاری کرایا کریں تاکہ کونسل کو یہ بہانہ نہ مل سکے کہ اردو کتابیں پڑھی نہیں جاتیں اس لئے مزہد اردو کتابوں کی ضرورت نہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے میئر جناب کونسلر طاہر ملک اور دوسرے کونسلرز سے بھی درخواست کی کہ برطانیہ میں اردو میں لکھی جانے والی کتابوں کی اپنی مقامی لائبریریز میں موجودگی کے کئے در پیش مشکلات کا حل تلاش کریں۔ میری اس درخواست پر بہت سے کونسلر حضرات نے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ اس کے بعد میں نے بحیثیت مہمان ِ خصوصی اپنی چند نظمیں اور غزلیں پیش کیں ۔میرے علاوہ نوجوان شعرا میں سے طارق اسجد قریشی، محترمہ سیدہ منور کوثر ، ڈاکٹر صفدر سعید کے علاوہ مقامی شعرا نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔تقریب میں شامل مہمان شعرا اور دوسرے بہت سے احباب کو ۔۔حلقہ ِ ارباب ِ ذوق لوٹن ۔۔۔کی جانب سے یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیںاس محفل کی ایک بہت خوبصورت بات یہ بھی تھی کہ ہر چند مقرین کی تعداد زیادہ تھی اور وقت کم تھا لیکن سٹیج سیکریڑی کے فرائض انجام دیتے ہوئے سید حسین شہید سرور نے نہ صرف ہر شخص کو وقت دیا بلکہ اسے وقت پر اپنی بات ختم کرنے کی درخواست اس محبت اور سلیقے سے کی کہ شاید ہی کسی مقرر نے ایک دو منٹ سے زیادہ وقت لیا ہو۔ پروگرام کے ختم ہونے کے بعد پر تکلف کھانے اور کافی چائے کے ساتھ یہ خوبصورت تقریب پروگرام کے منتظم سید حسین شہید سرو کے شکریے کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں