8

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے شہری حقوق بحال کروائے، یورپی پارلیمنٹ میں سیمینار کے مقررین کا مطالبہ

برسلز(پ۔ر)یورپی پارلیمنٹ میں تنازعہ کشمیرخصوصا مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی سیمینار کے مقررین نے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا محاصرہ ختم کروائے، انکے شہری حقوق بحال کروائے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔سمینار کا اہتمام کشمیرکونسل ای یو نے یورپی پارلیمنٹ میں جاری کشمیرای یو ویک کی سالانہ تقریبات کے سلسلے میں کیا جس کی میزبانی کے فرائض برطانیہ سے کشمیری نژاد رکن ای یو پارلیمنٹ شفق محمد کررہے ہیں۔سیمینار کے دوران مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات، بشمول وہاں انسانی حقوق کی صورتحال، خاص طور پر مسلسل کرفیو کے دوران شہری حقوق کی پامالی اور کشمیری خواتین کی زندگی پر ان مشکلات کے اثرات کے حوالے سے بحث ہوئی۔سیمینار کی صدارت رکن ای یو پارلیمنٹ شفق محمد نے کی جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر اراکین یورپی پارلیمنٹ فل بینن، تریسہ گرفین اور نوشینہ مبارک، سابق رکن ای یو پارلیمنٹ ڈاکٹر سجاد حیدر کریم، چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید، خاتون دانشور و لیکچرار سعدیہ میر، کشمیری نژاد سیاسی کارکن زینب درابو، کشمیرگلوبل کونسل کی رکن ثریا صدیقی، مورخ اور ڈی کانتی کننگ میگزین کے ایڈیٹر مسٹر ای ووت کلی اور سٹوڈنٹ انٹرنیشنل لیگ کشمیر کی شریک بانی مس خولہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھارت کے ہاتھوں انتہائی ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ نوے دن گزرگئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کرفیو میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ زندگی کا تمام نظام تعلیم، روزگار، صحت اور شہریوں کے حقوق غرضیکہ ہرچیز منجمد کردی گئی ہے۔ آٹھ ملین کی آبادی محاصرہ میں ہے اور مقبوضہ وادی کشمیر ایک جیل کا منظر پیش کرری ہے۔ بقول انکے، آزاد کشمیر کے ایل او سی پر رہنے والے لوگ بھی بھارتی گولہ باری سے محفوظ نہں، اسی خوف کے باعث حالیہ دنوں بیس ہزار افراد دیگر علاقوں کو نقل مکانی کرچکے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہاکہ ہم مغربی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کا محاصرہ ختم کروائے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے میں مدد کریں۔رکن ای یو پارلیمنٹ شفق محمد نے برطانیہ اور آئرلینڈ کے مابین ماضی میں مسائل اور اختلافات کا حوالہ دیا اور پھر دیوار برلن کا حوالہ دیا جو جرمن قوم کو تقسیم کررہی تھی۔ انھوں نے کہاکہ لائن کنٹرول نے دونوں طرف کے کشمیریوں کو تقسیم کیا ہوا۔ لوگوں ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ کبھی کبھی دریا کے دونوں کناروں پر کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے اپنے احساسات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ شفق محمد نے امید ظاہرکی کہ یورپ بھارت کی طرف سے دوسری طرف کے کشمیر کے مسلسل محاصرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ایک سو دن ہوچکے ہیں کہ کشمیر کا مکمل محاصرہ ہے۔ حتی کشمیر کی تمام لیڈرشب جن میں موجودہ وزیراعلی اور سابقہ وزیراعلی بھی شامل ہیں، گرفتار ہیں یا نظربند ہیں۔ چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت طویل عرصے سے چل رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ اس جدوجہد کی پاداش میں ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اب مقبوضہ علاقے میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ پوری وادی کے لوگ بھارتی حکام کے محاصرے میں ہیں، ان کا کھانا اور ادویات بند ہیں اور ہرقسم کے بنیادی حقوق پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اپنے تجارتی مفادات کے تحت بھارت سے انسانی حقوق کے بارے میں سوال کرنے سے کتراتے ہیں۔ علی رضا سید نے واضح کیا کہ ہم حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔سیمینار میں شرکت کے لیے کینیڈا سے آئی ہوئی کشمیری نژاد دو خواتین (ماں اور بیٹی) کے تاثرات شرکا کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث بنے۔ ثریا صدیقی جو کشمیرگلوبل کونسل کی رکن ہیں، نے اپنی پرنم آنکھوں کے ساتھ بتایاکہ جب وہ نوے کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر میں تھیں اور ان کے شوہر فاروق صدیقی (فاروق پاپا) جو اہم کشمیری رہنما ہیں، قید تھے۔ اس وقت بھارتی حکام نے ان کی کمسن بیٹی کو اس کی سالگرہ پر باپ سے ملنے نہیں دیا۔ مجھے اور میری بیٹی کو آج بھی یاد ہے کہ بھارتی حکام کے اس ظالمانہ رویئے کی وجہ سے اس وقت ہم کس کرب میں مبتلا ہوئے تھے۔ انھوں نے کہاکہ آج ہزاروں کشمیری بھارتی جیلوں میں قید ہیں اور ان کے خاندانوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے پیارے کہاں اور کس جگہ زیرحراست ہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ وہ لوگ کس دکھ اور اذیت میں مبتلا ہوں گے۔ فاروق پاپا اور ثریا صدیقی کی صاحبزادی خولہ صدیقی جو سٹوڈنٹ انٹرنیشنل لیگ کشمیر کی شریک بانی ہیں، کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں کشمیری نواجوانوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ خولہ صدیقی جو کم عمری سے ہی اپنے خاندان کے لیے خطرات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر سے باہر زندگی بسر کررہی ہیں، نے کہاکہ نوجوانوں کو تحریک آزادی کشمیر میں موثر کردار ادا کرنا ہوگا اور اس تحریک کو دوام بخشنا ہوگا۔ یہ مظلوم کشمیری کی آواز ہے جسے دنیا کے ہرگوشے تک پہنچاناہے۔سیمینار کے اختتام پر تمام شرکا بشمول وزیراعظم آزاد کشمیر اور اراکین ای یو پارلیمنٹ و دیگرسیاسی و سماجی شخصیات نے پارلیمنٹ کے مین کوریڈور میں کشمیر کو بولنے دو کے عنوان سے پلے کارڈز ہاتھوں میں اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یورپی پارلیمنٹ برسلز میں کشمیرای یو ویک کی سالانہ تقریبات کا آغاز پیر کے روز کشمیر پر ایک تصویری نمائش سے ہوا ۔ کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام مسئلہ کشمیر پر یہ تقریبات جمعہ آٹھ نومبر تک جاری رہیں گی۔ کشمیرای یو ۔ویک یا یورپ میں ہفتہ کشمیر میں بین الاقوامی کانفرنس، متعددسیمینارز، مباحثے، ورکشاپس، کشمیرپردستاویزی فلم اور عکاسی اور دست کاری کی اشیا کی نمائش شامل ہے۔ خاص طور پر فرنچ بلج فوٹو گرافر سدریک گربے ہائے کی مقبوضہ کشمیر سے لی گئی تصاویر دکھائی جارہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں