177

جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کی خدمات ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں:مفتی محمد زبیر تبسم

اوسلو(پ۔ر)جدید اورقدیم علمی نیٹ ورک کے بانی ممتاز ماہر تعلیم مفسر قرآن عظیم سیرت نگار اور ہزاروں علما و مشائخ کے استاد حضرت ضیا الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری کی خدمات ہماری تاریخ کا سنہری باب ھیں انہوں نے قیام پاکستان کے ٹھیک دس سال بعد بھیرہ شریف کی گمنام بستی میں میں عظیم علمی مرکز کھولا پھر کیا تھا اطراف و اکناف عالم سے علم کے پیاسے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں جوک در جوک پہنچنے لگے ان خیالات کا اظہار اظہار حضرت ضیا الامت حضرت رحم اللہ علیہ کے بائیسویں عرس کے موقع پر غوثیہ مسلم سوسائٹی کے خطیب علامہ مفتی محمد زبیر تبسم نے کیا انہوں نے کہا کہ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ انھوں نے تصنیف و تالیف کا کام بھی جاری رکھا رکھا اور اس دور کی عظیم تفسیر ضیا القرآن اور مشہور سیرت کی کتاب ضیا النبی بھی تصنیف فرماکر قوم کے نوجوانوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا اس وقت ان کے جانشین سابق وفاقی وزیر حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ اس علمی نیٹ ورک کی سرپرستی فر ما رھے ھیں اور آج یہ علمی ادارہ الکرم یونیورسٹی کی صورت میں کام کر رہا ہے یاد رہے دنیا اسلام کی سب سے بڑی اور قدیم یونیورسٹی جامع الازھر بھیرہ شریف کو پاکستان میں نمائندہ تسلیم کر چکی ہے اس وقت 100 سے زائد بھیرہ شریف کے طلبا جامعہ ازہر میں زیر تعلیم ہیں بھیرہ شریف کے اس علمی نیٹ ورک سے اس وقت تین سو ادارے وابستہ ہیں جہاں پچاس ہزار کے قریب طلبہ وطالبات جدید اور قدیم علم کے زیور سے آراستہ ہو کر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اسلام اور پاکستان کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں عرس شریف کی تقریبات تین دن تک جاری رہیں گی جس میں ملک و بیرون ملک سے لاکھوں لوگوں شرکت کریں گے جبکہ ممتاز علمی شخصیات خطاب کریں گے مرکزی خطاب جانشین حضور جانشین ضیاالامت حضرت پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب چانسلر الکرم یونیورسٹی بھیرہ شریف کا ھو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں