74

برسلز میں27 اکتوبر کے یوم سیاہ پر بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوگا

برسلز(پ۔ر)بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں 27 اکتوبر بروز اتوار کشمیرپر بھارتی قبضے کے دن کے (یوم سیاہ) کے موقع پر بھارتی سفارت خانے کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ مظاہرہ جس کا اہتمام کشمیری کمیونٹی بلجیم کررہی ہے، میں بڑی تعداد میں کشمیریوں، پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دیگر ہمدردوں اور انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ مظاہرہ دن ڈیڑھ بجے شروع ہوگا اور ساڑھے تین بجے تک جاری رہے گا۔یورپی ہیڈکوارٹرز برسلز میں ستائیس اکتوبر کا احتجاجی مظاہرہ اس بار ایسے وقت ہورہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے کرفیو نافذ ہے جس سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ان حالات میں انہیں انتہائی سخت مشکلات درپیش ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ اس مظاہرے کے دوران ایک احتجاجی یاداشت بھی بھارتی سفارت خانے کو پیش کی جائے گی جس میں بھارت سے کہاجائے گا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرے، کشمیریوں پر مظالم بندکرے، نیز کشمیرپر اپنا غیرقانونی قبضہ ختم کرکے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہو۔انھوں نے بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول کے لائن قریب آزاد کشمیر کی سویلین آبادی پر مسلسل گولہ باری اور اس کے دوران جانی نقصان کی بھی مذمت کی۔انھوں نے کہاکہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اقوام عالم بھارت کے کشمیریوں کے خلاف اس جارحانہ و ظالمانہ رویئے پر خاموش ہیں۔ ہم یہ مظاہر ہ کرکے ایک طرف عالمی برادری سے کہنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کرکے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرائے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے میں ان کی مدد کرے۔ دوسری طرف ہم بھارتی حکومت کو یہ پیغام دیناچاہتے ہیں کہ کشمیری بھارت کا غیرقانونی قبضہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ کشمیری قوم اپنے مستقبل کا آزادماحول میں فیصلہ کرناچاہتی ہے۔ افسو س سے کہناپڑتاہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن وہ کشمیریوں کے حقوق دبارہاہے اور مقبوضہ وادی میں بے گناہ لوگوں کوقتل کررہاہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں ہمارے بھائی اور بہنیں گذشتہ سات عشروں سے بھارتی ظلم و ستم کا شکارہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر ریاستی ادارے انھیں کچلنے پر لگے ہوئے ہیں۔ وادی میں بھارتی پولیس اور سیکورٹی فورسزکشمیریوں کو قتل کررہے ہیں، بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں تشدد، خوف و ہراس اور خواتین کی عصمت دری معمول بن چکاہے۔ اب تو تین ماہ سے مسلسل کرفیو نے لوگوں کی زندگی کو انتہائی دشوار بنادیا ہے۔ علی رضا سید نے بھارتی حکومت کی طرف جموں و کشمیر انسانی حقوق کمیشن کو ختم کئے جانے کی بھی مذمت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں