11

برسلز: جموں و کشمیر کے حوالے سے حالیہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

برسلز(پ۔ر)وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فارق حیدر خان نے کہاہے کہ قابض بھارتی حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے منگل کے روز یورپی پارلیمنٹ برسلز میں کشمیرای یو ویک کے آغاز پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یورپی پارلیمنٹ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر کے ہمراہ کشمیرای یو ویک کے منتظم چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید اور پارلیمنٹ میں ان تقریبات کے میزبان رکن ای یو پارلیمنٹ (ایم ای پی) شفق محمد بھی موجود تھے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہاکہ یہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔ بالخصوص یہ کاروائی میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ جب تک کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس متنازعہ خطے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوجاتا، اس وقت تک اس علاقے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔انھوں نے مقبوضہ کشمیرمیں چودہ ہزار افراد کو گرفتار کرکے بھارتی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے اور کرفیو کے باعث خوراک و ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے بتایاکہ لائن آف کنٹرول بھی بھارتی فوجیوں سے محفوظ نہیں، حالیہ دنوں بھارتی گولہ باری کی وجہ آزاد کشمیرکے ایل او سی کے قریب رہنے والے بیس ہزار کے قریب باشندے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے عالمی برادری خصوصا مغربی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں محاصرہ ختم کروائے اور کشمیریوں کا حق خودارادیت انہیں دلوانے میں ان کی معاونت کرے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے یورپی پارلیمنٹ برسلز میں کشمیر ای یو ۔ ویک کی ہفت روزہ تقریبات کے سلسلے میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ آج تین ماہ ہوگئے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور مسلسل کرفیو کی وجہ سے وہاں لوگوں کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ میڈیا کانفرنس کے دوران رکن ای یو پارلیمنٹ شفق محمد نے امید ظاہر کی کہ یورپ بھارتی کی طرف سے اس پار کشمیر کے مسلسل محاصرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ایک سو دن ہوچکے ہیں کہ کشمیر کا مکمل محاصرہ ہے۔ حتی کشمیر کی تمام لیڈرشب جن میں موجودہ وزیراعلی اور سابقہ وزیراعلی بھی شامل ہیں، گرفتار ہیں یا نظربند ہیں۔ انھوں نے لائن کنٹرول نے دونوں طرف کے کشمیریوں کو تقسیم کیا ہوا۔ لوگوں ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ کبھی کبھی دریا کے دونوں کناروں پر کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے اپنے احساسات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے بتایاکہ یورپی پارلیمنٹ میں کشمیرای یو ویک کی سالانہ ہفت روزہ تقریبات گذشتہ ایک دہائی سے جاری ہیں۔ ان تقریبات کا مقصد تنازعہ کشمیر کے حقائق کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ایک سو دنوں سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا رابطہ منقطع ہے اور کشمیرکے مظلوم لوگ عالمی برادری خصوصا یورپ کے مہذب معاشرے کی طرف دیکھ رہے کہ وہ ان کی مدد کریں گے۔ عالمی برادری خصوصا یورپی یونین کو چاہیے کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کرے اور ان پر مظالم کو روکوایا جائے۔یورپی پارلیمنٹ برسلز میں کشمیرای یو ویک کی سالانہ تقریبات کا آغاز گذشتہ روز کشمیر پر ایک تصویری نمائش سے ہوا ۔ کشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام مسئلہ کشمیر پر یہ سالانہ تقریبات جمعہ آٹھ نومبر تک جاری رہیں گی۔ کشمیرای یو ۔ویک یا یورپ میں ہفتہ کشمیر میں بین الاقوامی کانفرنس، متعددسیمینارز، مباحثے، ورکشاپس، کشمیرپردستاویزی فلم اور عکاسی اور دست کاری کی اشیا کی نمائش شامل ہے۔ خاص طور پر فرنچ بلج فوٹو گرافر سدریک گربے ہائے کی مقبوضہ کشمیر سے لی گئی تصاویر دکھائی جارہی ہیں۔یورپی پارلیمنٹ میں ان تقریبات کی میزبانی کے فرائض رکن ای یو پارلیمنٹ شفق محمد اور دیگر اراکین پارلیمنٹ انجام دے رہے ہیں۔ اس بار کشمیرای یو ویک ایسے وقت ہورہا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں تین ماہ سے کرفیو نافذ ہے اور وہاں کے مظلوم لوگوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہاہے۔منگل کو کشمیر ای یو ویک کے دوسرے روزکشمیرکونسل ای یو کے زیراہتمام ای یو پارلیمنٹ میں ایک سیمینار بھی منعقد ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات، بشمول وہاں انسانی حقوق کی صورتحال، خاص طور پر مسلسل کرفیو کے دوران شہری حقوق اور کشمیری خواتین کی زندگی پر اثرات کے حوالے سے بحث ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں