29

ڈینگی کو دھمکیاں تحریر حمیداللہ بھٹی

رواں برس کے دوران ڈینگی کی وجہ سے پنجاب میں درجنوں اموات ہوئی ہیں راولپنڈی اورلاہور میں توصورتحال کافی خراب رہی احتیاطی تدابیر میں کوتاہی اور بروقت اقدامات میں سُستی کی وجہ سے ڈی سی سطح پر کچھ تبادلے بھی کیے گئے لیکن سچ یہ ہے کہ شہبازشریف جتنی بھاگ دوڑ نہیں ہو ئی اسی ووجہ سے اموات میں نہ صرف اضافہ ہوابلکہ وبا کی لپیٹ میں کئی مزیدعلاقے آئے سابق حکومت میں ڈینگی مچھر کی وجہ سے پیدا ہونے والی وبا پر قابو پانے کے لیے ہنگامی حالات کے مطابق اقدامات ہوتے رہے بالخصوص ممبر صوبائی اسمبلی کی موت کے بعدتو انتہائی منظم طریقے سے کام ہواآگاہی مُہم کا سلسلہ شروع ہوا جس کے لیے ریلیاں اور سیمینار ہوئے تاکہ عام لوگ بھی محفوظ رہنے کے لیے اپنی بساط کے مطابق احتیاطی تدابیرکر سکیں لیکن اب لگتا ہے حکمرانوں کو دیگر مصروفیات سے فرصت نہیںجس کی وجہ سے کچھ شعبے بہت نظر انداز ہونے لگے ہیں جن میں صحت کا شعبہ بھی ہے مگر ہر کوتاہی اور سُستی کا نتیجہ ہمیشہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے اب بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔راولپنڈی اور لاہور جتنی گجرات میں ڈینگی نے تباہی نہیں کی جس کی ایک اہم وجہ تو یہ ہے کہ یہاں صاف پانی کے جوہڑ ختم کرنے پر اچھا کام کرنے کے ساتھ گندے پانی کی نکاسی بہتر بنا کر میونسپل کارپوریشن نے شہر کو قدرے خشک بنایا ہے اگر موجودہ ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر رانی حفصہ کنول کچھ عرصہ مزید میونسپل کارپوریشن میں زمہ داریاں سرانجام دیتی رہیں تو شہر کا حلیہ مزید بہتر ہونے کا مکان ہے جس کی وجہ سے بارش کے بعدکئی کئی دنوں تک شہر کے ڈو بے رہنے کا ندیشہ ختم ہوجائے گا مگر اچھے نتائج کے لیے شہریوں کو بھی کچھ تعاون کرنا ہوگااگر شہری کوشش کریں اور خالی قطعات زمین میں کھائیاں نہ رہنے دیں تو بیماریاں جنم نہ لے سکیں اور کسی کے ڈوبنے کا خدشہ بھی نہ رہے مگر ہمارے ہاں عجیب روایت ہے جو کام کرنے کی کوشش کرے اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جو کام کرنے سے اجتناب کرے اور چائے پلا کر ہنسی مزاق میں وقت گزارے اُس کے قصیدے لکھے جاتے ہیں یہ اچھا طرزِ عمل نہیں ۔کوئی اگر یہ دعویٰ کرے کہ گجرات میں ڈینگی کے خلاف ہونے والے اقدامات یا تدابیر سے کم نقصان ہوا ہے تو مجھے ایسے دعوے سے اتفاق نہیں دفاتر میں بیٹھ کر ڈینگی کو دھمکیاں تو دی گئی ہے اورڈینگی کے خلاف بے شماربیان بھی شائع کرائے گئے ہیں مگرتلخ سچ یہ ہے عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوا ڈینگی کے خلاف ہسپتال میں وارڈ مختص کرنے کا میٹنگ میں فیصلہ ہوتا ہے لیکن حیرانگی کی بات یہ کہ محکمہ صحت کا کوئی زمہ دار میٹنگ میں شریک ہی نہیں ہوتا بلکہ جاری پریس نوٹ میں میٹنگ کے شرکا کے طور پرہائی وے،پبلک ہیلتھ ،بلڈنگ جیسے شعبوں کے آفیسران کے نام لکھ دیے گئے عین ممکن ہے کہیں کوئی وارڈ مختص ہوجہاں مریضوں کا علاج بھی ہورہا ہو بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہرطرف غیرسنجیدگی ہے شاید اسی لیے ایک آفیسر کو کئی مہربان گوتم بدھ کالقب دیتے ہیں جو صبح تھری پیس سوٹ پہن کر دفتر آتے ہیں مگر رخصت تک لباس پر شکن تک نہیں آتی ظاہر ہے جب سارا دن فضول بیٹھ کر اور گپیں ہانکنے تک محدود رہنا ہے شام سے قبل طویل مصروفیت گھڑکر اخبارات کو ارسال کرنے کو کارنامہ سمجھنا ہے توبہتری کیسے آئے گی؟ کارنامہ تو یہ ہے کہ عام لوگوں کے کام ہوں خواص کی چاپلوسی بھلا کیا کارکردگی ہے؟مسائل کا حل گفتار سے ممکن نہیں جب تک عملی طور پر کام نہ کیا جائے بلکہ مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اہل اور فرض شناس آفیسر ہی حکومت کی نیک نامی کا باعث بنتے ہیں نااہل اور کام چور بدنامی کا اشتہاربن جاتے ہیں مجھے بتایا جائے کیا دفتر میں بیٹھ کر ڈینگی کے خلاف باتیں کرنے سے ڈینگی پر قابوپایا جا سکتا ہے ؟ ؟جی نہیں۔یہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے خواب اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے جو شیخ چلی کی طرح خوابوں میں قلعے تعمیر کرتا ہے وہ زندگی بھر کچھ حاصل نہیں کرپاتاآگے بڑھنے کے لیے حرکت کرنا بہت ضروری ہے دھمکیوں سے وبا پر قابو پاناممکن ہی نہیں گوتم بدھ کی طرح بے حس و حرکت رہ کرڈینگی پر قابو پانے کی مُہم کیسے سر ہوگی؟مجھے بھی آگاہ کیا جائے۔مجھے ایک میٹنگ بہت یاد آرہی ہے لیبر ڈے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی محکمہ صحت کے ایک اعلٰی آفیسر بھی شریک تھے جنھوں نے لیبر پر گفتگو کرتے ہوئے آپریشن کی تعداد بتائی اور کہا کہ ہسپتال میں لیبر روم کی کارکردگی بہترین ہے جس پر محفل نے زوردار قہقہ لگایا اور کہا کہ لیبر کے متعلق آپ جیسی رپورٹ کسی نے آج تک پیش نہیں کی اور آپ کی گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ آپ کتنے سنجیدہ،زہین اور فرض شناس ہیں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ وہی آفیسر محکمہ صحت میں اعلٰی عہدے پر فائز بھی ہے اورسیاسی ہی نہیں سبھی کا چہیتا بھی ہے اب آپ ہی بتائیں جہاں ایسے لوگ ہونگے اور سربراہی گوتم بدھ جیسے کردار کی مالک شخصیات کررہی ہوں گی وہاں مسائل کے حل کی رفتار کیا ہوگی؟بروقت اور مناسب فیصلے بہت ضروری ہیں اور پھر فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے سے بہتری ممکن ہے اگر فیصلے بھی بروقت ہوں اور کام صدقِ دل سے کیا جائے تو قصیدے لکھوانے کی ضرورت نہیں رہتی کام ہوتو سب کو نظر آجاتا ہے لیکن جنھیں کام کرنے کی بجائے تصاویر بنوانے کا جنون ہو اور خبارات کے تعریفی ایڈشن فریم کراکر دفاتر میں آویزاں کرانے سے عشق ہو تو وہ کسی کی بھلائی خاک کرے گا؟ اب بھی بہتر ہے کہ میٹنگ کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کے زمہ داران کو بلایا جائے اور تجاویز لے کر لائحہ عمل مرتب کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا جاتا اور ڈینگی کو دھمکیاں دیکر سمجھ لیاجاتا ہے کہ ڈینگی مچھر ڈر کر بھاگ جائے اور وبا پر قابوپالیاجائے گاتو اِیسی سوچ سے بڑانقصان بھی ہو سکتا ہے پھرحکومت تو لاہورکی طرح ڈی سی بدل کرعوام کو مطمئن کر لے گی مگر سوال یہ ہے کہ جانی نقصان کا زمہ دار بھی کوئی ہوگایا غریبوں کو خاک کا رزق سمجھ کر بھلا دیا جائے گا ہمیں نقصان کے بعد متحرک ہونے کی بجائے حفاظتی تدابیر پر کام کرناچاہیے عام وخواص دونوں اکسیجن استعمال کرتے ہیں دونوں کے خون کا رنگ بھی سرخ ہوتا ہے پھر عام آدمی کو نظراندازکیوں کیا جاتا ہے؟آفیسر بھی انسانوں سے ہی ہوتے ہیں انسان تو درد منددل کا مالک ہوتا ہے لیکن بظاہر انسان آفیسر جبلت میں وحشی کیوں بن جاتے ہیں؟ ارے بھائی جب اپنی صحت پر دھیان دیتے ہو دھوپ سے بچنے کے لیے سرکار کی رقوم بے دریغ اُڑاتے ہو تو اپنے جیسے لوگوں سے بے نیازی میں کیا رازپنہاں ہے ؟کیا مرنا صرف غریبوں نے ہے؟اور حساب بھی انھی کا ہونا ہے آفیسر مرنے اور حساب دینے سے بچ جائیں گے اگر انھوں نے بھی مرنا ہے اور حساب دینا ہے تو کیا حساب دیتے ہوئے بھی دھمکیوں سے کام نکال لیں گے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں