70

ڈیل کی باتیں اور نوازشریف کی روانگی تحریر حمیداللہ بھٹی

حکومت نے نواز شریف سے ڈیل کر لی ہے اور عمران خان نے سابق وزیرِ اعظم کو این آراو دیدیا ہے یہ ایسی خبریں ہیں جو ہر حلقے میں سُننے کو مِل رہی ہیں عام لوگوں کو چھوڑیں فہمیدہ میں بھی وثوق سے ایسی باتیں ہورہی ہیںحکومت لاکھ تردید کرے ڈیل کی خبریں گردش کر رہی ہیںحالانکہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں سب افواہیں اور من گھڑت خبریں ہیں پھر بھی کیوں ڈیل کا راگ الاپا جا رہاہے ؟اور عدلیہ کی ساکھ سے کیوںکھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے سمجھ سے بالاتر ہے نایسا لگتا ہے کچھ حلقے ملک میں انتشارو افراتفری کے متمنی ہیں جنھیں افواہ سازی کے لیے میدان ہموار نہیں مل رہا اسی لیے وہ اِداروں کی ساکھ سے کھیل کر انارکی پھیلانا چاہتے ہیں جن سے قوم کو محتاط رہنا ہوگا اگر افواہ سازی کی فیکٹریوں پر لوگوں نے اعتماد شروع کردیا تو سیاسی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔عمران خان کہتے ہیں این آراو نہیں دوں گا اورچورڈاکو کیفرِ کردار کو پہنچیں گے مگراچانک آزادی مارچ ودھرنے کی افتاد نے بحرحل حکومت کو بے بس ولاچار کر دیا مزید یہ کہ اکثر جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کی ہاں میں ہاں ملاتی نظر آئیں اور ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے حکومت پر دبائو بڑھا تی رہیں پی ٹی آئی نے ہمیشہ سب پر دشنام طرازی کی مگر آزادی مارچ و دھرنے کی قیادت نے اسلام آباد بیٹھ کر حکمرانوں پر الزامات کی بوچھاڑ کی تو عمران خان اور اُن کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ الزام تراشی کرنا کتنا سہل اور تنقید سہنا کتنا مشکل ہے ؟عین اُس وقت جب حکومت اپوزیشن کے دبائو سے دُہری ہوئی جا رہی تھی نوازشریف کی طبعیت بگڑنے لگی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کا دھیان اپنے قائد کی طرف ہوگیا جسے حکومت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے سلسلہ جنبانی بحال کرنے کے لیے مزاکراتی کمیٹی تشکیل دیدی مگر کمیٹی بناتے ہوئے بھول گئی کہ جن زہین افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے اُن میں سے اکثریت کو اپوزیشن کے لتے لینے کے سوا کوئی کام نہیں آتا اور وہ گفتگو کے دوران بھی طعنے دینے سے باز نہیں آتے جب ایسے لوگوں کو بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی زمہ داری سونپی جائے گی تو بھلا کون سنجیدہ گفت وشنید کی طرف مائل ہوگا اسی لیے کمیٹی ممبران سے بات چیت کے دوچار دور ہونے کے بعد ہی مزاکرات کا سلسلہ رُک گیا اورگفتگو کا عمل چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی تک محدود ہوکررہ گیا ۔چوہدری برادران سیاست میں وضع داری کے قائل ہیں وہ دشمنیاں بنانے سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں اور بدترین مخالفوں سے بھی راہ رسم ختم نہیں کرتے اسی لیے حکومت کے اتحادی ہونے کے باوجود اپوزیشن کی صفوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اپوزیشن جماعتوں نے بھی اُن کی اسی خوبی کی وجہ سے اعتماد کیا اوربات چیت پر آمادگی ظاہر کی حالانکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک سال کا عرصہ گزار لینے کے باوجود اتحاد یوں سے کیے وعدے پورے نہیں کیے اورچوہدری مونس الٰہی جیسے تعلیم یافتہ وزیرک شخص کووعدے کے مطابق وفاق میں وزارت دینے سے پس و پیش سے کام لے رہی ہے مگر مشکل وقت میں مسلم لیگ ق نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے حکومت مزید مشکلات سے دوچار ہوتی اور نہ پنجاب میں نئے راہ وراسم بڑھا کر صوبائی حکومت گرانے کی کوشش کی بلکہ نازک وقت میں دل بڑا کرتے ہوئے مشکلات میں گھرے نظام کو بچانے کے لیے اپنا کندھا پیش کیا مگر جب دھرنے کا دبائو ختم ہوتے ہی حکومت بیمار نوازشریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے میں روڑے اٹکانے لگی تو چوہدری شجاعت حسین سے برداشت نہ ہوسکا چوہدری پرویز الٰہی نے بھی لچک دکھانے کا مطالبہ کردیا اپوزیشن کے دبائو اور اتحادیوں کے اصرار پر ہی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی پیروی سے نرمی کی اور حکومت نے علاج کی غرض سے نواز شریف کی ضمانت ہونے میں حائل رکاوٹیں نہ ڈالیں وگرنہ حکمرانوں کا خیال تھا کہ شریف خاندان پر دبائو ڈال کر اُنھیں ہمیشہ کے لیے سیاست بدر ہونے پر راضی کیا جائے۔چوہدری شجاعت حسین جب علاج کی غرض سے جرمنی مقیم تھے تو شہباز شریف نے ٹیلی فون پر نہ صرف عیادت کی بلکہ عابد شیر علی کو ملاقات کے لیے ہسپتال بھیجا پرویز مشرف دور میں چوہدری برادران نے شریف خاندان کے کاروبار کو تباہ ہونے سے بچایا اور جب کبھی ضرورت ہوئی حمزہ شہباز کی مدد کی جس کا پرویز مشرف نے شکوہ بھی کیا اب بھی سیاسی میدان کے حریف چوہدری اور شریف دونوں خاندانوں میں نفرت کی حد تک دوری نہیں بلکہ احترام کا رشتہ بددستور موجود ہے اِن حالات میں چوہدری شجاعت حسین کیسے نواز شریف کی تزلیل برداشت کرلیتے اسی لیے انھوں نے سخت الفاظ میں حکومتی رویے پر تنقید کردی اور نواز شریف کو علاج کے لیے بھیجنے کا مشورہ دے دیا لیکن نوازشریف کی روانگی میں کسی قسم کی ڈیل کا کوئی عمل دخل نہیںاگر ڈیل ہوتی تو پیسے لیے بغیر بیمار نواز شریف کو ملک سے باہر نہ جانے دیا جاتالیکن اپوزیشن کے دبائو کو کم کرنے اور مستقبل میں اتحادیوں کی بلیک میلنگ کے خدشے کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے مقدمات کی پیروی میں سُستی ضرور کی ہے ظاہر ہے عدالتوں نے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہوتے ہیں حکومتی وکیل جب چُپ سادھ لیے تو منصفوں کو حقائق تک کیسے رسائی کیسے ہو سکتی ہے ؟ممکن ہے حکومت ابھی مزید رسوائیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی اگر چوہدری برادران خم ٹھونک کر اپنے مشورے پر اڑ نہ جاتے ۔نوازشریف کی روانگی ملکی سیاسی منظر نامے میں نئی صف بندی پر منتج ہو سکتی ہے اگر حکومت اتحادیوں سے وعدے ایفا نہیں کرتی تویہ رویہ دونوں مسلم لیگوں کو یکجا کرنے اور مل بیٹھنے کی طرف لا سکتا ہے وضع دار چوہدری اوراحسان مند شریف خاندان تلخیوں کو بھول سکتے ہیں یہ بڑی دلچسپ صورتحال ہوگی گزشتہ عام انتخابات کے بعد جب حکومتوں کی تشکیل ہورہی تھی تب بھی ن نے ق سے تعاون لینے کی کوشش کی تھی مگر چوہدری خاندان تازہ الفت سے دستکش نہ سکا لیکن نواز شریف کے بیرونِ ملک جانے سے حلیف حریف اور حریف حلیف بن سکتے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ اگر اُسے کوئی خطرہ ہے تو وہ اپنے آپ سے ہی ہے چاہے نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے ہیںمگر اُن کی سیاسی اہمیت بددستور موجود ہے اور حکومتی رویہ اپوزیشن کی طاقت میں اضافے کا موجب ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں