88

ڈاکٹرز کیوں پٹتے ہیں؟….ڈاکٹر عبدالرحمٰن شاہد (جرمنی)

پاکستان کے اسپتالوں میں آئے روز ڈاکٹرز کی تذلیل ہوتے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی میں مریض کا بروقت اسپتال پہنچنا اور جلد از جلد علاج کا شروع ہونا اس کی زندگی بچانے کا تعین کرتا ہے۔ اگر ایسے میں مریض اللہ کو پیارا ہو جائے تو مریض کے لواحقین جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور اس کے بعد ٹی وی اسکرینوں پر اسپتال میں دل دہلا دینے والے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بطور ڈاکٹر دیار غیر میں بیٹھ کر اس طرح کے حالات دیکھ کر اپنے ملک میں طبی سہولیات، حادثے کی صورت میں قریب موجود افراد کا رویہ اور ابتدائی طبی امداد دینے کے معاملات پر دل افسردہ ہوتا ہے۔ 
ڈاکٹرز اسپتالوں میں غیر موثر سہولیات کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال نہیں کر پاتے۔ کبھی ادویات کی کمی تو کبھی مریضوں کازیادہ ہونا آڑے آجاتا ہے. تب ہی ان پڑھ لوگ وحشیانہ انداز میں انتہائی تعلیم یافتہ ڈاکٹرز کو پیٹتے ہوئے نظر آتے ہیں.
ایمرجنسی کی صورت حال کو کس طرح مینج کیا جائے یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایمرجنسی میڈیسن جرمنی سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مشکل ترین حالات میں انسانی جان بچانے کا موثر طریقہ کار ہے۔ ڈاکٹرز کو مختلف ایمرجنسی کی صورتحال میں فوری فیصلہ سازی اور بہتر علاج فراہم کرنے کے لیے پہلے سے مختلف سطح پر تیاری کی جاتی ہے۔ ایمرجنسی کی ادویات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ خون کے نمونے اور دیگر ٹیسٹ کے رزلٹس بھی فوری موصول ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی بہت سے عوامل ہیں جو مریض کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جرمنی میں بطور ایمرجنسی سرجن ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتے ہوئے کئی سال بیت گئے۔ پاکستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبے کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے کہ کاش پاکستان میں بھی جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ ایمرجنسی میڈیسن حالیہ چند سالوں میں میڈیکل کی ایک اہم شاخ کے طورپر سامنے آئی ہے۔ اس شعبے میں ترقی سے بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
میری پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ، وفاقی وزیر صحت اور صوبائی وزرا ئے صحت سے گزارش ہے کہ بیرون ملک مقیم درجنوں ایکسپرٹس جو اپنے پیارے وطن کے لیے خدمات سر انجام دینا چاہتےہیں ان کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے اور پاکستان میں روایتی ایمرجنسی شعبے کی بجائے جدید ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے کو فروغ دیا جائے۔ اس کام کے لیے میں اور میرے جیسے درجنوں ڈاکٹرز جرمنی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک سے تعاون کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ شاید اسی طرح سے پاکستان کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز آئے روز پٹائی سے بچ جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں