55

چج دی کہانی۔۔۔۔افتخار وڑائچ کالروی کی تصنیف۔۔۔۔۔تبصرہ: سکندرریاض چوہان

ضلع گجرات پاکستان کا ایک ایسا مردم خیز خطہ ہے جس کے اندر بے شمار تاریخی آثار اور واقعات نے ہم کو آگاہ کیاہے کہ یہ دھرتی ناصرف ہریالی،پانی اور زراعت سے مالامال تھی بلکہ اسی کے اندر جنگل بیلے اور ریتلیماحول کے علاوہ سطح مرتفع جیسی زمین اور پہاڑی علاقے اس کو ہر طرح کی عطائے خداوندی کی نعمت کا اعلانیہ اظہار کرتی ہے انھیں جغرافیائی خوبیوں نے اس دھرتی میں مختلف قبائل کو بھی ان کی اپنی بودوباش اور رسم ورواج اورقبائیلی ذہنیت کے ساتھ بھرپورفروغ دیاہے،اس خطے کی مردم خیزی میں اہل ادب جن میں کھوج کار،تاریخ دان،اردو،فارسی اورہندی کے شعرائے کرام،تاجر،سیاست دان ،افسانہ نگار ملکی تاریخ میں اپنا مقام رکھتے ہیں،بقول چوہدری شاہد حمیداسی تناظر میں سرسید احمد خان نے گجرات کے ایک وفد کو لاہور میں ایک ملاقات کے دوران اورجلسہ عام میں واشگاف الفاظ میں گجرات کو خطہ یونان کہا تھا کیونکہ یونان میں بھی وہ تمام خوبیاں ہیں جو گجرات کے قدیم وجدید باسیوں کو ان سے ہم آہنگ کرتی ہے۔اس خطے میں آباد اقوام میں جاٹ، گجر، آرائیں، کاشمیری، راجپوت اور دیگر ہیں تاہم یہ خطہ شروع سے ہی جاٹ اور گجر اقوام کے حوالے سے جانا جاتاہے قیام پاکستان کے بعد گجرات ہی وہ واحد ضلع تھا جہاں پرانتخابات میں ہمیشہ جاٹ اور گجر کی تقسیم پر امیدوار ووٹ حاصل کرتے تھے گجرات کے ایک حصہ کو گوجر اور دوسرے کو جٹاتر بولا جاتاہے اور یہ صورت اب اتنی زیادہ نہیں رہی تاہم یہ عصبیت ابھی بھی باقی ہے ۔المیر ٹرسٹ لائبریری گجرات میں ہرر اتوار کی شام کو اکٹھ ہوتا ہے جس میں مجھ جیسے طالب علم صاحبان علم ودانش کی گفتگو سے اپنی ادبی اور علمی تشنگی کو دور کرتے ہیں ہر موضوع پر اٹھنے والے سوالات کو انتہائی صبر سے سن کر اس پر رائے کا اظہار اور اختلاف رائے سے کسی نتیجہ پر پہنچا جاتاہے۔ اسی اتواری نشست میں گجرات میں پنجابی کے سیوک متر سانجھ پنجاب کے روح رواں افتخار وڑائچ کالروی نے اپنی پنجابی میں لکھی ہوئی کتاب جس میں مختلف تاریخی واقعات کو جاٹوں کے ساتھ منسلک کرکے مرتب کیاہیاس حوالے سے یہ نئی تصنیف چج دی کہانیپیش کی۔کتاب مین مصنف جس طرھ سے ایک خاص اسلوب رکھا ہے قاری باآسانی مضمون کا مدعاجان جاتاہے چھوٹے چھوٹیگاوں دیہاتوں سے وابستہ واقعات کا کھوج لگانا جان جھوکھوں کا کام ہے کیونکہ سینہ بہ سینہ روایات کے علاوہ علاقے کے جغرافیہ،باسیوں اور آثارسے کڑیوں کوتاریخ کی کسوٹی پر رکھنا دقت طلب کام ہے جو مصنف نے اس ڈیڑھ سوصفحات کی کتاب میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاہم کتاب کے مطالعہ کے بعد تشنگی پھر بھی برقرار رہتے ہے،کتاب میں کمپوزر کی کج فہمی اور پروف کی بھی ضرورت ہے اور فقرات کو بھی ٹھیک کرنے کی تاکہ اصل مدعابیان کیا جاسکے جیسے کتاب کیصفحہ نمبر دس کے چوتھے پیراگراف میں رقم طراز ہیں کہ “تاریخ تے حکمران دھونس دھاندلی نال وی لکھا لیندے سن” لیکن اس سے غلط مطلب سامنے آیا اگر اس کو اس طرح لکھا جاتا”وقت دے حاکم اپنی زور اتے انا دی خاطر جبرنال وی اپنے حق وچ کتاباں لکھوالیندے سن”تومطلب واضح ہوجاتا اسی طرح پنجابی میں قبر کے لیے لفظ گور بولاجاتاہے جس کو قورلکھاگیاہے۔پنجابی ایک بہترین رابطے کی زبان ہے اور اس کے متعدد لہجے ہیں لیکن بعض الفاظ پنجابی سے بدل کر اردو یا ہندی میں بنا دینا زیادتی ہوگی اور پنجابی کی اصل کونقصان دے گی۔اغلاط سے مبرا تو انسانی لکھی کتاب کوئی نہین ہوسکتی تاہم تھوڑی سی توجہ سے اغلاط کو انتہائی کم کیا جاسکتاہے۔بہرحال ایک بہت اچھی کاوش ہے اورگجرات میں کتاب کے مرتب کے رجحان کا منفرد اسلوب ہے جس کو امید ہے مصنف مزید اگے بڑھائیں گے۔طبقات اور انساب پرتحقیق وتالیف انتہائی عرق ریزی اوراحتیاط کا متقاضی ہے اوریہ فن بہت پہلے ہی وقوع پذیر ہوچکاہے ہمارے ادب میں طبقات ابن سعد اور انساب الاشرف کو ایک خاص مقام حاصل ہے اس رخ پر بے شمارعلاقہ جات میں کام شروع ہواہمارے اپنے اداریالمیر ٹرسٹ لائبریری نے عارف علی میر ایڈووکیٹ کی سرپرستی میں گجرات کے سید خاندانوں کے بارے ایک کتاب سفرسادات پروفیسر حامد حسن سید کے قلم سے شائع کی ہے۔اسی حوالے سے یورپی مورخ ڈینزل ابٹسن کی کتاب پنجاب کی ذاتیں ایک بہترین معلوماتی کتاب ہے جس میں ایک جگہ وہ رقم طراز ہیں کہ میں شمالی پنجاب کے بعض علاقوں کا خود شاہد ہوں کہ جہاں پر آباد لوگ اپنی قومیت کو بدل لیتے تھے اور نئی قومیت کے ساتھ اپنی شناخت قائم کرتے۔ڈینزل ابٹسن کے اس فقرے کے بعد سوال پیدا ہوتاہے کہ جاٹوں کا اصل وطن کونساتھا اور برصغیر پاک وہند میں بسنے والے جاٹ،گجر اور ارائیں قوم میں کس طرح فرق کرنا ہوگا کیونکہ اول تو ہم اگر ساٹھ ستر سال پیچھے مڑ کر دیکھیں توہم کو معلوم پڑ جائے گاکہ بڑے شہروں میں آباد شہریوں کو جس طرح بازار اور اشیائے ضرورت کی سہولت تھی وہ دیہاتوں میں مفقود تھی اسی لیے ہر خاندان کو چاہے وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتاہو اس کو روزہ مرہ کی ضروریات کے لیے دودھ دینے والے جانور،ان کے چارے کے لیے زمین اور اپنی ضرورت کے لیے جنس اگانے کی خاطرزرعی رقبے کی ضرورت ہوتی تھی یہ صورت حال گزشتہ چند دہائیوں سے تبدیل ہوئی ہے ورنہ ہر خاندان بہ امر مجبوری یاضروری اس کی تگ ودو کرتا دوسرا جاٹ گجر اور ارائیں ہمییشہ سے ہی زمین دار ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور تینوں کی گوتوں میں ایک جیسے نام ملتے ہیں صرف ارائیں قوم میں گوتوں میں کچھ فرق ہے اور تینوں ہی چوہدری کہلوانے میں فخر کرتے ہین جبکہ تینوں قومیں ہی ایک دوسرے سے تعصب کا شکار بھی ہیں۔تاریخی حوالوں سے دیکھا جائے تو ہندوستان میں کاشت کاری،بت پرستی اور آباد کاری کے موجود سفید ہن ہیں جو کم وبیش دوہزار سال قبل یہاں آئے،پھر سغد اورباختری قبائل نے اسپ پروری اوربھیڑ بکریوں کے ریوڑ بنانے کی شروعات کی۔یونانیوں نے یہاں پر طرز حکمرانی اور تعمیرات کے نئے انداز چھوڑنے کے علاوہ، زبان، تحریر، ثقافت، سکے ڈھالنے،بڑے بڑے بتوں کی تعمیر کا فن دینے کے علاوہ رسوم ورواج اور ہندوستانی اساطیری روایات کو بھی مشترک کرنے کی سعی کی۔یونانیوں کی بات چلی ہے تو میرے تئیس چوبیس سالہ یونان کے قیام کے دوران میں نے وہاں پر جاٹوں کی اقوام کو بھی دیکھاہے اور گوجروں کی بھی جاٹوں کی ایک گوت چیمہ تو وہاں بہت معروف ہے اور یونان کے ایک بہتے بڑے صحافی کا نام پاولوس چیمہ ہے۔ارائیں قوم کا دعوی ہے کہ محمد بن قاسم ارائیں تھا جبکہ بعض کے مطابق ارائیں عرب میں تھے اورمحمد بن قاسم کے ساتھ یہاں وارد ہوئے جنھوں نے کاشت کاری کی نئی جہتوں کو فروغ دیا میرے خیال میں یہ مبالغہ ہے کیونکہ عرب کاشتکاری کو محدود طورپر اپناتے تھے عرب سرزمین کی آب وہوا اور زمین وسیع کاشت کی حامل نہیں تھی لق ودق صحرابھی بڑی رکاوٹ تھے۔آخر میں یہ سوال افتخار وڑائچ کالروی اور دیگر کھوج کاروں کے لیے یہ چھوڑ رہاہوں کہ ان تینوں اقوام جاٹ،گجر اور ارائیں کو کس طرح شواہد ودلائلکی روشنی میں الگ شناخت دیں گے کیا کاشت کاری کا وسیع رقبہ رکھنے والا جاٹ تھا،کیا بھیڑ بکریاں اورگائے پالنے والے ہی گجر تھے اور سبزیاں،ترکاریاں اگانے والے ہی ارائیں تھے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں