73

ُُٰ ُُٰپیشی۔۔۔۔۔۔تحریر:عارف محمود کسانہ

بارگاہ رسالت مآب ۖمیں حاضری کا شرف حاصل کرنا ہر ایک مومن زندگی کی معراج ہے۔ جن کی محبت معیار ایمان ہے اور جن کی اطاعت دراصل خدا کی اطاعت ہے۔ روزضہ انور کے پاس ادب سے کھڑے ہوکر درود و سلام کے نذرانے پیش کرنے سے بڑھ کر دنیا میں اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے۔ ختم المرسلین، افضل البشر اور سب سے بڑھ کر حبیب رب العالمینۖ کے روضہ اطہر کی زیارت ایک عاشق رسول کے لئے خوشی کی انتہا ہے۔ اس عظیم سعادت کے ساتھ ذہن میں یہ تصور بھی ہوتا ہے کہ یہ بارگاہ رسالت میں پیشی ہے۔ دعوی محبت کرنے والا، اپنے آپ کو ان کا عاشق کہنے والا، ان کا نام لیوا امتی کی اپنے تمام گناہوں اور جرائم کے ساتھ پیشی ہے۔ اس تصور سے پائوں لرزتے اور ہاتھ کانپتے ہیں۔ پیشی کے اس تصور سے قوت گویائی ختم ہے اور ذہن یہی سوچتا ہے کہ کس منہ سے بارگاہ رسالت ۖمیں قدم رکھ رہے ہیں لیکن پھر قرآن حکیم کی سورہ توبہ آیت 128 ذہن میں آجاتی ہے کہ “تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول ۖ آئے ہیں، تمہاری تکلیف ان کو گراں گزرتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں” توپھر حوصلہ ہوتا ہے، ہمت بندھتی ہے اور بارگاہ میں پیشی لے قدم اٹھتے ہیں۔ قرآن حکیم کی سورہ نساء کی آیت 64 کی تعمیل میں بارگاہ رسالت اپنی عرضداشت پیش کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ”(اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے”۔ بارگاہ رسالت میں میں حاضری کی کیفیت کو ضبط تحریر کرنا ممکن ہی نہیں۔ انسانی جذبات کا اظہار الفاظ سے بہت مشکل ہے۔ قلب و ذہن اس وقت کس کیفیت سے گزرتے ہیں یہ بیان نہیں ہوسکتا۔ یوسف قدیری نے جانب بطحا اور بارگاہ رسالت میں حاضری کا کیا سلیقہ بتایا ہے کہ
یہ راہ حق ہے سنبھل کے چلنا ، یہاں ہے منزل قدم قدم پر
پہنچنا در پر تو کہنا آقا ، سلام لیجیے غلام آیا
ڈنمارک میں مقیم نوجوان نعت گو جناب عدیل احمد آسی نے بارگاہ رسالت ۖ میںحاضری کا کیا خوب منظر پیش کیا ہے کہ
میں لکھ رہا ہوں نعت وضو کرکے عشق کا
اب کیفیت ہے اور ہی میرے کلام میں
حاضر ہوا تھا روضہ اقدس پہ جس گھڑی
میں خامشی سے روتا رہا احترام میں
جب قدم گنبد خضرا کی طرف اٹھتے ہیں تو ذہن میں سورہ حجرات کی یہ آیت کریم بھی آجاتی ہے کہ
اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو بنی مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اْن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو۔ یہ حکم تو دور رسالت میں موجود لوگوں کے لئے تھا لیکن عاشق لوگ اب بھی اسی پر عمل پیرا ہیں اور وہاں سانس بھی شاستگی سے لیتے ہیں کیونکہ ا
ادب گا ھیست زیر آسمان تا زعرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید اینجا
وہاں حاضری کی کیفیت کو الفاظ میں بیاں کرنا ممکن نہیں۔ دلی جذبات اور محبت کو ئی کیسے لکھ سکتا ہے ۔ اس بارگاہ سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا اور بن مانگے ملتا ہے اور بغیر حساب کے۔
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
اْن کا کرم پھر اْن کا کرم ہے اْن کے کرم کی بات نہ پوچھو
سعودی عرب کی حکومت نے آن لائن ویزہ کے اجرا کا بہت مستحسن قدم اٹھایا ہے اور اب حرمین کی زیارت کے لئے بہت سے ممالک کے شہری چند منٹوں میں ایک سال کا ویزہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے اپنے گھر کی زیارت اور بارگاہ رسالت مآب میں حاضری کا موقع فراہم کیا۔
میں کیا اور کیا میری حقیقت سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
میں تو برا ہوں لیکن میری لاج ہے کس کے ہاتھ نہ پوچھو

اپنا تبصرہ بھیجیں