72

مارچ کے مقاصد اور کامیابی کے امکانات تحریر حمیداللہ بھٹی

مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے نہ صرف یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان میں ریاستی رٹ سے شخصیات زیادہ مضبوط ہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی گیا ہے کہ اسلام کا نام لے کر کوئی سیاسی یا عالمِ دین کچھ بھی کر سکتا ہے عمران خان اور طاہر القادری کے لانگ مارچ اور دھرنے کے آگے باربا ر حکومتی رٹ ڈھیر ہوتی رہی مظاہرین سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے رہے بلکہ سپریم کورٹ جیسی عدالت کی عمارت کا تقدس پامال کیا گیامگرریاستی رٹ کہیں نظر نہ آئی ممبرانِ اسمبلی کو پارلیمنٹ میں جانے سے روکا گیا پارلیمنٹرین چُھپ چُھپا کر اجلاس میں شرکت کرتے رہے لیکن ریاست اُن کی کوئی مدد نہ کرسکی طاہرالقادری نے تو قبریں کھودنے اور کفن پہننے کی ریہرسیل بھی کر لی خیر اُن کے پاس تو ماڈل ٹائون میں مرنے والوں کے لیے انصاف نہ ہونے کا جواز تھا اور عمران خان بھی دھاندلی بے نقاب کرنے کے لیے کچھ حلقے کھولنے کا مطالبہ پورانہ ہونے کی بنا پر طیش کے عالم میں اسلام آباد چڑھ دوڑے لیکن ایک صد چھبیس دن کا دھرنا دے کر بھی وزیرِ اعظم سے استعفٰی لینے میں ناکام رہے کیونکہ پارلیمنٹ کی طاقت نے مستعفی ہونے کی مخالفت کردی پی پی جیسی جماعت بھی چند ہزار لوگوں کے بل بوتے پر حکومت بدلنے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ ہو گئی۔اب کیا ہے؟کیوں دھرنا دیا دیا جا رہا ہے؟ 2018کے انتخاب کتنے صاف شفاف تھے یا اِداروں کی نتائج تبدیلی میں کوئی کردار تھا میں پڑے بغیر انتخابی عزرداریوں کو دیکھیں تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ نتائج چیلنج کرنے کی بہت کم پٹیشن دائر ہوئیں حالانکہ قبل ازیں بڑے پیمانے پر ہارنے والے امیدوار عدالتوں کا رُخ کرتے مگر گزشتہ الیکشن میں ایسی بھاگ دوڑ بہت کم نظر آئی ہے بلکہ جو انتخابی عزرداریاں پیش کی گئیں اُن کے فیصلوں سے نتائج پر کچھ خاص اثر نہیں پڑا چند ایک جگہوں پر کچھ دھاندلی کے آثار ملے مگراُن کا ماضی کی انتخابی تاریخ کے حوالے سے جائزہ لیں تو صورتحال بہت بہتر دکھائی دیتی ہے اکثریتی امیدواروں نے نتائج تسلیم کیے اورانتخابی عمل پر اطمنان کا اظہار کیا مگر مولانا فضل الرحمٰن کے غصے کو مدنظررکھتے ہوئے نتائج پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو صاف محسوس ہوتا ہے حکومت کے خلاف تحریک کا انتخاب کو بہانہ بنایا گیا ہے وگرنہ وہ خود بھی بخوبی اِس امر سے آگاہ ہیں کہ نتائج میں کوئی ہیراپھیری نہیں ہوئی اگر نتائج مرتب کرنے میں کسی طرف سے مداخلت ہوئی ہوتی تو سیاستدان کب خاموش رہنے والے تھے اب تک عدالتوں میں چنگھاڑتے حریفوں کی مٹی پلید کررہے ہوتے جن میںمولانا فضل الرحمٰن اولیں صف میں ہوتے موجودہ آزادی مارچ کے پسِ پردہ مقاصدکچھ اورہی لگتے ہیں زاتی نفرت کے علاوہ بیرونی ہاتھ خارج اازمکان نہیں سلیکٹڈ،چہیتاجیسے الفاظ محض اِس لیے بولے جارہے ہیں کہ لوگ مطمئن رہیں ۔عمران خان کوئی تجربہ کار حکمران نہیں وہ طویل جدوجہد کے بعد حکومت میں آئے ہیں اور اگر وہ نواز شریف اور آصف زرداری کو مسلسل کرپٹ کہہ کر عوام کی نظروں میں نہ گراتے تو شاید اب حکومت میں ہونے کی بجائے سڑکوں پر جدوجہد میں ہی مصروف ہوتے عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہوئی کہ پاناما کیس اُن کے موقف کی تصدیق کرگیا کئی اہم شخصیات کے اقامے ظاہر ہونے پر عوام روایتی قیادت سے بدظن ہوئی مگر اب ایسی کوئی مثال نہیں اِکادُکا خرابیاں تو ضرور ہونگی مگر نواز شریف اور آصف زرداری جیسی لوٹ کھسوٹ نہیں ہورہی مگر ملک میں اور ملک سے باہر حریفوں پرمسلسل الزام تراشی کرکے عمران خان نے تمام مخالفین کو اکٹھا کر دیا ہے ڈیزل کے بغیر اسمبلی چلنے کی بات بھی وزیرِ اعظم کے مقام و مرتبے سے میل نہیں کھاتی اور پھر وزراکی طرف سے لانگ مارچ کاامکان ہی نہ ہونے کی باتوں اور کچھ مجبوریوںنے مولانا کو نکلنے پر مجبور کردیاہے لیکن کوئی یہ توقع رکھے کہ چند ہزار افراد کو اسلا م آباد لا کر استعفٰی لے کراقتدار میں آجائے گا ٹھیک نہیں ویسے بھی حکمران ابھی بہت زیادہ غیر مقبول نہیں ہوئے۔رواں ہفتے مشرقِ وسطٰی کے حوالے سے جو نہایت اہم خبر زرائع ابلاغ کی زینت بنی ہے وہ یہ ہے کہ ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندرمودی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سعودی عرب اور بھارت میں سٹریجک پارٹنر شپ کونسل کے قیام کا معاہدہ طے پاگیا ہے جس کی ایک شق بہت اہم ہے جس کے تحت دونوں ملکوں نے بحیر ہ ہند اور خلیج کے علاقوں کی آبی گزرگاہوں کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کر لیا ہے دونوں ملکوں نے معیشت،سیکورٹی،دفاع اور لیبر کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات پر ہونے والی پیش رفت پر بھی اطمنان کا اظہار کیا ہے قبل ازیں امریکی فوجی دستے بھی سعودی قیادت منگواچکی ہے اب بھارت کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے واضح ہوگیا ہے کہ اپنی سلامتی کے لیے ہمیشہ سے فکرمند رہنے اور پاکستان پر انحصار کرنے والی سعودی عرب کی قیادت نے متبادل زریعے تلاش کر لیے ہیں وہ یمن سے جنگ کے دوران پاکستان کی غیرجانبدار رہنے کی پالیسی کو ابھی تک بھلا نہیں پائی اور پاکستان کو اِس فیصلے تک لانے میں عمران خان کا نمایاں کردار کسی سے پوشید ہ نہیں مولانا فضل الرحمٰن کا سعودی عرب کی طرف غیرمعمولی جھکائو ہے اسی لیے واقفان حلقے موجودہ آزادی مارچ کو سعودی تھپکی کا شاخسانہ قراردیتے ہیں اگر یہ تھپکی والی بات سو فیصد درست نہیں بھی تو بہت زیادہ غلط بھی نہیں سعودی عرب اب پاکستان سے خوش نہیں اور اپنی سلامتی کے لیے امریکہ اور بھارت کی طرف دیکھنے لگا ہے مولاناکے مارچ کو سعودی ناراضگی کے تناظر میں دیکھیں تو بہت کچھ سمجھ آجاتا ہے ن لیگ اور پی پی کی آزادی مارچ میں شرکت گفتار کی حد تک نظر آتی ہے حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن کہہ چکے ہیں کہ وہ نوازشریف اور آصف زرداری کو آزاد دیکھنے کے متمنی ہیںاصل میںوہ اسلام پسند ہونے کا لیبل نہیں لگوانا چاہتیں عام خیال یہ تھا کہ مارچ کے شرکا کا نہ صرف لاہور میں استقبال ہوگا بلکہ طعام و قیام کامثالی بندوبست بھی ہوگا لیکن لاہور میںایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ بندوبست خاک ہونا تھا لاہوری مارچ میں کہیں نظر نہیں آئے اسی لیے کھانے کے لیے مارچ کے شرکا داتا دربار کے لنگر سے شکم سیری کرتے رہے حالانکہ عام حالات میں وہ شرک و بدعت قرار دیتے ہیں لاہور میں آمد کے موقع پر نظر آنے والاہجوم اسلام آباد روانہ ہوتے وقت بہت کم ہوگیا جس کی وجہ یہ ہے کہ مارچ کے شرکا کی بڑی تعداد رائیونڈ چلی گئی جس کی بنا پر مارچ سُکڑ کر رہ گیا اب یہ لوگ ایک معاہدے کے تحت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور حکومتی کی تبدیلی تک تحریک جاری رکھنے کا عزم کر تے پھرتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں فریق کہاں تک معاہدے کی پاسداری کرتے؟ہیںاگر ایک فریق معاہدے سے پھرتا ہے تو اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست رٹ منوانے کے لیے کہاں تک جاتی ہے ؟بظابدمزگی کا امکان نظرآتا ہے کیونکہ اے این پی کی سوچ مولانا کو خرابی کی طرف لے جا سکتی ہے ایسی صورتحال ن لیگ اور پی پی کے لیے آئیڈیل ہوگی مگر عمران خان کو موجودہ حالات میں کمزور کرنے سے ریاست اور ریاستی اِداروں کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں