63

فاتح لکشمی پور …………تحریر:. عارف محمود کسانہ

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی جشن آزادی کی تیاریوں کا آغاز ہوجا تا ہے اور ان شہیدوں کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے حصول آزادی اور دفاع وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اسی ماہ اگست میں وطن عزیز کے ایک عظیم اور بہادر سپوت نے پاک سرزمین کی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جاں کانذرانہ پیش کیا۔ حب الوطنی، غیر متزلزل جذبہ، اعلیٰ درجہ کی فرض شناسی، شجاعت اور بلند ہمتی کی یہ داستان میجر طفیل محمد شہید نے ۷ اگست ۱۹۵۸ ء کو رقم کی اور پاکستان کا سب بڑا عسکری اعزازنشان حیدر کے مستحق ٹھہرے ۔ میجر طفیل محمد22جولائی1914 کومشرقی پنجاب کے شہر ہوشیارپورمیں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد کا نام چوہدری موج دین تھا۔طفیل محمد بہت ہونہار طالب علم تھے اور انہوں نے گورنمنٹ کالج جالندھر سے ایف اے کرنے کے بعد انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیردون سے 1943میں کمیشن لیا اور سولہویں پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ وہ 1944میں لیفٹینٹ،1945 میں کیپٹن 5 کے عہدہ پر فائیز ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ انہوں نے ہجرت کی اور پاکستان میں ضلع ساہی وال میں مقیم ہوئے۔ 19485 میں وہ میجر کی حیثیت سے پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین کے کمپنی کمانڈر اور بعد ازاں گلگت اسکوٹس کے گلگت کمانڈنٹ بھی رہے۔ جون1958 میں انہیں مشرقی پاکستان بھیج دیا گیا جہاں وہ ایسٹ پاکستان رائفلز کے کمپنی کمانڈر مقرر کیے گئے۔
2 اگست 1958 کی بات ہے جب بھارتی افواج نے پاکستانی علاقہ برہمن باڑیہ کے ایک سرحدی گاؤں لکشمی پور پر قبضہ کرلیا اور ایک بلند ٹیلے پر مورچہ بند ہوگئے۔ بھارتی افواج چونکہ بلندی پر تھیں اس لئے انہیں وہاں سے ہٹانا اور اپنے علاقہ کو ان سے واپس لینا بہت دشوار تھا۔اس علاقہ کی بہت اہمیت تھی اور بھارتی سمگلر بھی اس راستہ کو استعمال کرتے تھے۔ پاک فوج کی کمان کی جانب سے میجر طفیل محمد کو یہ مشن سونپا گیا کہ وہ مادر وطن کے اس حصہ کا دفاع کریں اور دشمن سے اپنا علاقہ واپس لیں۔ میجر طفیل محمد نے اپنے جاں نثاروں کی مدد سے منصوبہ بنایا اور چھ اگست کو انہوں نے تین پلاٹونوں کی مدد سے حملہ آوروں کے مورچوں پر دھاوا بول دیا۔ میجر طفیل خود تیسری پلاٹون کی اگلی صفت میں قیادت کررہے تھے۔ دشمن ان سے صرف پندرہ میٹر کے فاصلہ پر تھا اور اس نے جب یہ دیکھا کی میجر طفیل آگے بڑھ رہے ہیں تو بھارتی فوج نے ان پر مشین گن کا فائر کھول دیا۔ ان کے پیٹ میں چار گولیا ں پیوست ہوگئیں لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور رینگ کر آگے بڑھنا شروع کردیا اور دست بدست لڑائی شروع ہوگئی۔اس لڑائی کے دوران میجر طفیل نے دیکھا کہ بھارتی چوکی کا کمانڈر خاموشی سے ان کے ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا۔ میجر طفیل باوجود شدید زخمی ہونے کے رینگتے ہوئے دشمن کمانڈر کے پاس پہنچ گئے اور اپنی ایک ٹانگ پھیلا دی جیسے ہی دشمن ٹھوکر کھا کر گرا میجر طفیل نے اپنی آہنی ٹوپی سے اس کے چہرے پر ضربیں لگا کر اپنے جوان کو بچالیا۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی پوسٹ پر ہینڈ گرنیڈ پھیکنا اور اسے پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ چندگھنٹوں کی اس شدید لڑائی کے بعد لکشمی پور پر ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانے لگا۔ بھارتی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ مجیر طفیل محمد کو شدید زخمی حالت میں کومیلا کے فوجی ہسپتال میں داخل کردیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے او ر7 اگست کو ہی شہادت کے عظیم رتبہ پر فائیز ہوگئے۔ انہیں تام تر فوجی اعزاز کے ساتھ بورے والا ضلع ساہی وال کے قریب ان کے گاؤں جسے اب طفیل آباد کہاجاتا ہے سپر د خاک کردیا گیا۔5 نومبر1959 ء کواس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب نے کراچی میں ان کی صاحبزادی نسیم اختر کو ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب میں نشان حیدر کا اعزاز کا دیا۔ ہر سال سات اگست کو افواج پاکستان کی جانب سے ان کے مزار پر ایک تقریب منعقد ہوتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
میجر طفیل محمد نے بہادری کی عظیم داستاں رقم کی اور نشان حیدر پانے والوں میں ان کی انفرادیت یوں بھی ہے کہ انہیں یہ اعزاز کسی پاک بھارت جنگ میں نہیں ملا اور دوسرا یہ بھی کہ انہوں نے اس وقت کے مشرقی پاکستان کی حفاظت کے لیے اپنے خون کا نذرانہ دیا۔ سب سے بڑا اعزاز پانے والے وطن عزیز کے وہ دوسرے سپوت ہیں ان سے قبل کیپٹن سرورشہید نشان حیدر کے اعزاز سے سرفراز ہوئے تھے۔ خون جگر دے کر ہی وطن کی حفاظت ہوتی ہے اور یہ ماؤں کے جری اور بہادر سپوت ہی ایسا کرسکتے ہیں۔
واقعی پتر ہٹا تے نئیں وکدے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں