45

شاپر بیگ ماحولیاتی عفریت پر15اکتوبر سے گجرات میں پابندی کا فیصلہ تحریر : سید وقار جاویدنقوی

پولی تھین بیگ جسے عرف عام میں شاپر بیگ کہا جاتا ہے دنیا بھر کے ماحول کو تباہ کرنے کیلئے ایک عفریت کی صورت اختیار کر چکا ہے، پولی تھین یا شاپر بیگ انسانوں، جانوروں بشمول چرند، پرند، آبی حیات کو کسی نہ کسی طور پر متاثر کر رہا ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگوں نے دیکھا ہے کہ بڑے بزرگ گھر سے جب سودا سلف لینے جاتے تو وہ کپڑے کا تھیلہ یا کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکری اپنے ساتھ لیکر جاتے جس میں ضروریات زندگی کی اشیاء ڈال کر گھر لائی جاتیں، دودھ ، دہی کیلئے گھر سے برتن لیکر جایا جاتا تھا مگر پھر اچانک پولی تھین یا شاپر بیگ کا دور شروع ہوا ، نہایت خطرناک کیمکل سے بنے ان شاپر بیگز کی قیمت خاصی کم ہونے کی وجہ سے کپڑے کا تھیلہ، کھجور کی ٹوکری کا رجحان یکسر ختم ہوگیا ، آج اگر ہم ایک پائو لیموں خریدیں یا ٹوتھ پیسٹ، بچوں کیلئے کاپی یا پنسل ، سبزی، انڈے،ہوٹل سے کھانا، دوودھ، دہی، کپڑے، جوتے، یہاں تک کہ کم مقدار میں آٹا خریدنا ہو تو آپکو شاپر میں ڈال کر تھما دیا جائے گا اور اگر مائع شے ہو تو اس صورت میں دوکاندار آپکو شاپر ڈبل بھی کر دے گا۔ یہی شاپر ایک ہی بار استعمال ہونے کے بعد اسی روز شام تک کوڑے کے ڈھیر میں آجائے گا جسے میونسپل ادارے کا ورکر اٹھا کر ڈمپنگ پوائنٹ پر پہنچا دے گا۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں روزانہ20کروڑ پلاسٹک بیگز یا شاپرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔2004میں کئے گئے سروے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ 2015میں پاکستان میں پلاسٹک بیگز کا سالانہ استعمال 122بلین تک پہنچ گیا تھا،اگر اس تعداد کو روزانہ کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے تو تقریبا پاکستان کی آبادی پر ایک پلاسٹک بیک فی کس روزانہ آتا ہے۔شاپر بیگ ہے کیا اور کب بنا؟ بتایا جاتا ہے کہ پلاسٹک ایک پولیمر ہے جو کہ ایک یا مختلف کیمیائی اجزاء سے مل کرتیار کیا جاتا ہے،1965میں سویڈن کی ایک کمپنی نے پولیتھین بیگز کو متعارف کرایا پاکستان میں پلاسٹک کے شاپر بیگز80کی دھائی میں متعارف کرائے گئے ، پولیتھین کی آمد نے کاغذی لفافوں کی مارکیٹ ختم کر دی، موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ہو یا صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز گوجرانوالہ ہو یا گجرات اور اسکے قصبہ جات ہر جگہ شاپر بیگز نے پاکستان میں ماحول کو آلودہ کیا ہوا ہے، گٹر بند ، نالیاں شاپر بیگ اور چپس کے بیگوں سے اٹی پڑی ہیں یہاں تک کہ شمالی علاقہ جات کے پرفضا مقامات کے ماحول کو بھی انہیں شاپر بیگز نے پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے جبکہ شاپر بیگ کو کوڑے کیساتھ انہیں جلانے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن اگر انہیں جلایا نہ جائے تو یہ عفریت سینکڑوںسال تک ماحول میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے، شہری علاقوں کے سیوریج سسٹم کیساتھ یہی شاپر بیگ نہروں، دریائوں میں جاکر آبی حیات کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں تو دوسری طرف دیہی علاقوں کے قریب بنائے گئے ڈمپنگ پوائنٹس سے شاپر بیگ ہوا کیساتھ اڑ کر یا کسی اور طرح کھیتوں میں پہنچتے ہیں جہاں گھاس چرتے ہوئے مویشی یہ شاپر بھی نگل جاتے ہیں اور موت کا شکار بنتے ہیں۔ لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مردہ جانوروں کے پوسٹمارٹم کے دوران اکثر انکے معدے سے شاپر برآمد ہوتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی عموماً دو اقسام استعمال کی جاتی ہیں، جن میں سے ایک قدرتی ہے، جو درختوں اور جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ پلاسٹک کی دوسری قسم لیبارٹری یا فیکٹری میں تیار کی جاتی ہے۔قدرتی پولیمر کی پہلی قسم کے دائرے میں نشاستہ یا اسٹارچ اور سیلولوس، جبکہ دوسری قسم میں پروٹین شامل ہے، جس میں لکڑی، ریشم، چمڑا وغیرہ آتے ہیں۔ قدرتی پولیمر کی تیسری وہ قسم ہے جس میں ڈی این اے اور آر این اے آتے ہیں، جو ہمارے نشوونما کے ضامن ہیں مصنوعی پولیمر دراصل لیبارٹریز میں تیار کیا جانے والا پلاسٹک ہے۔ اس کی عام اقسام میں پولی تھین، پولی اسٹیرین، سینتھیٹک ربڑ، نائیلون، پی وی سی، بیکولائٹ، میلامائن، ٹیفلون اور آرلون وغیرہ شامل ہیں۔پولی تھین دراصل ایک سیال مادہ ہے جسے باآسانی کسی بھی شکل و صورت میں ڈھالا جاسکتا ہے اور کسی بھی رنگ میں رنگا جاسکتا ہے، جبکہ اسے نرمی اور ملائمیت کی کسی بھی حد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اسی خصوصیت نے اسے انتہائی سستے پولی تھین لفافوں، بیگ اور دیگر کارآمد اشیاء کی تیاری میں مقبول عام بنایا ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولی تھین یا شاپر بیگ زمین کی زرخیزی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، جہاں پولی تھین بیگز یا شاپر ہوگا وہاں زمین میں اگنے والی سبزیوں، پھلوں، درختوں کو زمین سے غذائی اجزا نہیں مل سکیں گے اور یوں انکی بڑھوتی متاثر ہوگی جس کا لازمی نتیجہ غذائی پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلے گا اور لازمی طور پر اس سب سے زیادہ متاثر انسان ہونگے، پولی تھین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ سینکڑوں سال ایکو سسٹم میں موجود رہ سکتا ہے لیکن اگر اسے ختم کرنے کیلئے جلایا جائے تو اسکا دھواں نہایت خطرناک ہے جو انسانی آنکھوں، جلد اور نظام تنفس پر بری طرح سے اثر انداز ہوتا ہے ، سردرد کا موجب بھی بنتا ہے یہاں تک کہ جان لیوا صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔مختصر یہ کہ پلاسٹک اور پولی تھین اپنے ضرر رساں، مضر صحت اور انتہائی نقصان دہ اثرات سے انسانی زندگی، حیوانات و نباتات، چرند پرند اور ہمارے پورے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرتا ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی لگائی جاچکی ہے اور کئی ممالک پابندی لگانے پر غور کرر ہے ہیں تاہم پاکستان بھر میں قائم تقریباً 8 ہزار یونٹس میں سالانہ 55 ارب پولی تھین بیگ تیار کرتے ہیں جن سے ماحول کو ہونیوالے نقصانات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔ پولی تھین یا شاپر بیگ کیوجہ سے ماحول کو درپیش سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ فیصلہ کر چکی ہے کہ 15اکتوبر سے ضلع گجرات میں شاپر بیگ کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہوگی ۔ شہریوں کو شاپر بیگ کے نقصانات سے آگاہ کرنے کیلئے باقاعدہ طور پر آگاہی مہم کا آغاز بھی کیا جاچکا ہے ، اسی مقصد کیلئے جناح پبلک سکول میں سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا جس کا موضوع Say No To Plasticتھا۔ اس اہم سیمینار میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے شاپر بیگ پر پابندی کی تاریخ کا اعلان کیا جبکہ اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر شبر عتیق، سابق صوبائی وزیر تعلیم میاں عمران مسعود، میاں ہارون مسعود، اے ڈی سی جی گجرات توقیر الیاس چیمہ، اے سی گجرات محمد جمیل، سی ای او ایجوکیشن افضل شاہد، ڈی ایچ او ڈاکٹر ایاز ناصر چوہان سمیت مختلف محکموں کے سربراہان، میڈیا کے نمائندگان، سکولوںکے طلبہ و طالبات بھی شریک ہوئے ۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے سیمینار سے خطاب میں بتایا کہ شاپر بیگ پر پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے شہریوں کو شعور کی فراہمی پہلی ترجیح قرار دی گئی ہے اس مقصد کیلئے یونیورسٹی، کالجز اور سکولوںکے طلبہ و طالبات پر مشتمل 60رکنی فرینڈز آف کلین اینڈ گرین گجرات گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو ہر علاقے، ہر بازار میں جاکر گھروں، دوکانوں پر شاپر سے نقصانات اور اسکے متبادل بارے آگاہی فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہریوں کو شاپر بیگ کے متبادل کے طور پر کپڑے کے بیگز فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات عمل میںلائے جائیں گے تاکہ انکے روز مرہ معمولات بھی متاثر نہ ہوں۔سیمینار کے دوران جناح پبلک سکول اور کرسچیئن ماڈل گرلز سکول جلالپور جٹاںکے طلبہ و طالبات نے ٹیبلوز کے ذریعے نہایت موثر انداز میں پولی تھین یا شاپر بیگز کے نقصانات بارے حاضرین کو آگاہ کیا اور داد حاصل کی۔ ڈپٹی کمشنر گجرات کی ہدایات کے مطابق شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن گجرات ڈاکٹر رانی حفصہ کنول ، ڈی ایم او فہد اعجاز ، چیف ایگزیکٹوا فیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی افضل شاہد بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں، گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات کے پروفیسر عادل شیخ اور انکی ٹیم بھی پوری طرح متحرک ہے جبکہ میڈیا اس اہم قومی ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے ضلعی انتظامیہ کا دست و بازو ثابت ہو رہا ہے، ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد اور انکے ٹیم کلین اینڈ گرین گجرات پرعزم ہیں کہ گجرات کے شہری اجتماعی شعور کا مظاہر ہ کرتے ہوئے شاپر بیگ کے استعمال کی روک تھام کے اس اہم مشن میں ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دینگے تاہم شہری اور دیہی علاقوں میں درپیش چیلجنز سے نمٹنے کیساتھ آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ پاکستان دیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں