65

سموگ کی وجوہات ،اثرات اور بچائو کی تدابیر تحریر: سید وقار جاوید نقوی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر گجرات

گزشتہ ایک دہائی سے ہم نے پوری دنیا میں ماحول کے اندر زبردست تبدیلیاں رونما ہوتے ہوئے دیکھی ہیں۔ ان تبدیلیوں میںبارشوں کے معمولات میں زبردست تبدیلی،زلزلے، سیلاب اور سونامی، زمینی و فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیاں، گلوبل وارمنگ، اوزون ،سموگ، تیزابی بارش اور بہت سے کیڑوں ،جانوروں اور پرندوں کا معدوم ہوجانا شامل ہیں۔جنگلات کی بے دریغ کٹائی، نئے درختوں کانہ لگانا، شہروں کا بے ہنگم پھیلائو،جگہ جگہ پر احتیاطی تدابیر کے بغیر چھوٹی فیکٹریوں کا قیام،بڑی صنعتیں ،صنعتی فضلہ کو بغیر ٹریٹمنٹ کے نہری اور دریائی پانی میں ملانا، آبادی میں اضافہ، ماحولیاتی قوانین سے عدم واقفیت دوسری بہت سی وجوہات کے ساتھ ساتھ ان تبدیلیوں کے وقوع پذیر ہونے کا اہم ماخذ ہیں۔سموگ کیا ہے؟سموگ ایک قسم کی فضائی آلودگی کا نام ہے جو دیکھنے کی حد کو کم کردیتی ہے۔سموگ کی اصطلاح سب سے پہلے 1900 کے اوائل میں دھویں اور دھند کے مرکب کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔یہ کسی علاقہ میں بڑے پیمانہ پر کوئلہ کے جلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دھویں اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کے مرکب کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس کے علاوہ گھروں میں جلنے والی لکڑیاں اور کھیتوں میں بڑے پیمانے پر جلائی جانے والی فصلوں کی باقیات بھی دھویں کا موجب بنتی ہیں جو کہ سموگ پیدا کرنے کا کام کرتا ہے۔1950 کی دہائی میں ایک نئی قسم کی سموگ کا پتا چلاجسے فوٹوکیمیکل سموگ کے طور پر جانا جاتا ہے۔آجکل زیادہ تر جو سموگ ہم دیکھتے ہیں وہ فوٹوکیمیکل سموگ ہی ہے۔جب سورج کی روشنی نائٹروجن آکسائیڈ اور ہوا میں موجود کم از کم ایک وولاٹائل آرگینک کمپائونڈ(VOC) کے ساتھ ردعمل کرتی ہے تو فوٹوکیمیکل سموگ پیدا ہوتی ہے۔نائٹروجن آکسائیڈ کاروں،بسوں، ٹرکوں وغیرہ کے دھویں، کوئلہ کے پاور پلانٹس اور فیکٹریوں کے دھویں کے اخراج سے پیدا ہوتی ہے جبکہ وولاٹائل آرگینک کمپائونڈ(VOC) پٹرول، پینٹ اور صفائی میں استعمال ہونے والے محلول کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔جب سورج کی روشنی ان کیمکلز پر پڑتی ہے تو وہ فضائی ذرات اور زمینی سطح پر اوزون اور سموگ کا باعث بنتے ہیں۔اوزون مددگار یا نقصان دہ ہوسکتی ہے، فضاء میں اونچائی پر موجود اوزون کی تہہ ہمیں سورج کی خطرناک الٹراوائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے لیکن یہی اوزون جب زمینی سطح کے قریب آجائے تو انسانی صحت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔اوزون پھیپھڑوں کے ٹشو زکو نقصان پہنچاتی ہے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں خاص طور پر (Asthma) دمہ کے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے اسکی وجہ سے پھیپھڑوں کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، سانس لینے میں کمی، درد، چکر اور گہرا سانس لینے میں مشکلات پیداہوتی ہیں،یہ آنکھوں اور ناک کی جلن کا سبب بنتی ہے اور یہ ناک اور حلق کی حفاظتی جھلیوں کو خشک کردیتی ہے جس وجہ سے انفیکشن سے لڑنے کی جسمانی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور بیماریوں سے حساسیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔سموگ انسانوں اور جانوروں کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور پودوں کو مار دیتی ہے اور یہ ہوا کو بھی بھورا یا سرمئی رنگ دے کرنہ صرف بدصورت بنا دیتی ہے بلکہ اسکی وجہ سے دیکھنے کی حد بہت کم ہوجاتی ہے جس سے ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔سموگ اکثر بھاری ٹریفک، بلند درجہ حرارت، سورج کی روشنی اور پرسکون ہوائوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس کے پیدا ہونے کا انحصار براہ راست درجہ حرارت اور ہوا پر ہے۔حرارتی تقلیب کی وجہ سے گرم ہوا اوپر نہیں اٹھتی بلکہ زمین کی سطح کے قریب ہی موجود رہتی ہے جس سے سموگ بڑھ جاتی ہے اس کے ساتھ اگر ہوا بند ہو تو سموگ وہیں اس علاقہ میں قید ہو کر رہ جاتی ہے اور کئی دنوں تک اس علاقہ میں چھائی رہتی ہے۔سموگ بڑے شہروں میں بہت عام ہے جہاں صنعتوں کے ساتھ ساتھ بے ہنگم ٹریفک موجود ہوتی ہے۔امریکہ سمیت بہت سے ممالک نے سموگ کو کم کرنے کے قوانین تشکیل دیے ہیں ۔ سموگ اب بھی بہت سے علاقوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہم کچھ رویوں کو بدل کر اس کو کم کر سکتے ہیں جیسا کہ کاروں پر بلاوجہ سفر کرنے سے گریز کریں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، اپنی کار، موٹر سائیکل کا خیال رکھیں باقاعدگی سے ٹیوننگ کروائیں، آئل بدلوائیں اور ٹائروں میں ہوا مناسب رکھیں تاکہ گاڑی صحیح مائلیج دے اور گیسوں کے اخراج میں کمی ہو۔ٹھنڈے اوقات جیسے صبح یا رات کے وقت پٹرول ڈلوائیں تا کہ پٹرول گرم ہو کر بخارات بن کر نہ اڑے جو اوزون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ان پینٹس کا استعمال کم سے کم کریں جو زیادہ مقدار میں وولاٹائل آرگینک کمپائونڈ(VOC) پیدا کرتے ہیں۔ کھیتوں اور فصلوں میں پٹرول سے چلنے والی سپرے مشینوں کا استعمال کم سے کم کریں اسکی جگہ پر انسانی طاقت یا بجلی سے چلنے والی مشینیں استعمال کی جائیں۔سموگ کے شکار دنیا کے دس اہم ترین شہروں میں بد قسمتی سے اس سال پاکستان کا شہر لاہور پہلے نمبر پر آچکا ہے، بھارتی دارالحکومت دہلی کا دوسرا نمبر ہے اس کے علاوہ چین کا شہر بیجنگ،ایران میں احراز ،منگولیہ میں اولان باتور، سعودی عرب میں ریاض، مصرمیں قاہرہ ، بنگلہ دیش میں ڈھاکہ، روس میں ماسکو،اور میکسیکو سر فہرست ہیں۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر حکومت پنجاب کے اعلانیہ کے مطابق سموگ کے دوران ہمیں چاہیے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں ، زیادہ وقت گھروں میں گزاریںاور گلیوں یا سڑکوں پر بلاوجہ چلنے سے گریز کریں، گھروں کی صفائی کے لیے گیلا کپڑا استعما ل کریں ، سفر کے دوران ہیلمٹ اور چشمے کا استعمال لازمی کریں اور سفر کے بعد آنکھیں پانی سے دھوئیں اور اپنے ناک اور منہ کو ماسک یا کپڑا سے لپیٹ کر رکھیں تاکہ سموگ کے برے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔اس کے علاوہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میںطلباء و طالبات کے لیے سموگ سے متعلق احتیاطی اور معلوماتی لیکچرز کا بھی اہتمام کیا جانا چاہیے۔ ضلع گجرات میں سموگ سے بچائو کیلئے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے بھرپور اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، اولین ترجیح شہریوں کو آگاہی مہم کو دی جارہی ہے اس مقصد کیلئے ضلع بھر میں سیمینار منعقد کئے جائیں گے، کالجز و سکولوں میں طلبہ و طالبات کو زیر و پیریڈ کے دوران آگاہی فراہم کی جائے گی۔ آگاہی مہم کے دوران شہریوں کو بتایا جائے گا کہ وہ گھر سے نکلتے وقت منہ کو کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں یا ماسک استعمال کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، گھروں کی صفائی کیلئے گیلا کپڑا استعمال کریں، کھڑکیا ں ، دروازے بند رکھے جائیں۔ شہری اپنی گاڑیوں کی بروقت ٹیوننگ کرائیں، سفر کے دوران ٹائروں میں ہوا پوری رکھیں تاکہ بہتر مائلج ملے اور کم فیول استعمال ہو، ممکن ہو تو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کی جائے۔ ضلع گجرات میں محکمانہ طور پر سموگ سے بچائو کیلئے اقدامات میں نمایاں ترین دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے اور ایسی گاڑیوں کے مالکان پر جرمانے عائد کرنے کیساتھ فیکٹریوں کو سیل کیا گیا ہے، فضائی آلودگی میںبھٹہ خشت کا کردار نہایت نمایاں ہے ، انکے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو جائیں جبکہ ماحولیات ڈیپارٹمنٹ اس عمل کی نگرانی کرے گا۔ ضلع بھر کے تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ یقینی بنایا جائے کہ سینٹری سٹاف کوڑے کرکٹ کو آگ نہ لگائے بلکہ سالڈ ویسٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے جبکہ زراعت ڈیپارٹمنٹ کسانوں کو آگاہی فراہم کرے گا کہ وہ دھان کی کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ نہ لگائیں تاہم خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف مقدمات درج ہونگے۔ سب سے آخر میں سب سے اہم درخواست، ہم سب کو اجتماعی طور پر اور انفرادی طور پر شجر کاری پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، درخت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی مدد سے ہم سموگ، آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں