79

سفر سے پہلے راستے کا تعین تحریر:حمیداللہ بھٹی

وقت آگیا ہے کہ ہم اب طے کر لیں کہ کرنا کیا ہے؟ لگتا تو یہی ہے کہ ہم بہتر برس میں یہ بھی طے نہیں کرسکے کہ کشمیریوں کا ساتھ دینا ہے یا اُنھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنا ہے صاف دکھائی دیتا ہے ہماری پالیسیاں حکومت بدلنے کے ساتھ ہی یکسرتبدیل ہوجاتی ہیں ہماری کوئی پالیسی طویل مدتی نہیں اوراِس بارے میں نہ ہم نے ابھی تک کچھ سوچا ہے جیسے حالات بنتے ہیں آفتادکو ٹالنے کے لیے اقدامات کر لیتے ہیں جونہی قدرے حالات بہتر ہوتے ہیں ہم بھی سب پریشانیاں بھول جاتے ہیں یہ کوئی اچھا طرزِ عمل نہیں بہتر برس منزل کی راہ متعین کرنے کے لیے کافی مدت ہے لیکن آج بھی ہم نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ رکھا ہے حالات کی آندھی کبھی کسی طر ف اور کبھی کسی طرف دھکیل دیتی ہے لیکن ہم نے بھی جیسے کچھ نہ سیکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے کی ہمیں تو جب کوئی چاہے استعمال کر سکتاہے امریکہ نے روس کی جاسوسی کرنی ہو تو اڈے دیکر دوسری سُپر طاقت کو ناراض کرنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتے افغانستان سے روس کو نکالنے کے لیے لاکھوں افراد کو جائے پناہ دیکر اور بدلے میں کلاشنکوف کلچر ،ہیروئن کلچر اور دہشت گردی کا تحفہ خوشی سے وصول کر لیتے ہیںمگر افغان بھائیوں کی طرفداری نہیں چھوڑتے پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب امریکہ کوافغان دہشت گرد دکھائی دینے لگے طالبان کو تربیت اور اسلحہ دیکر امریکہ نے روس کو تباہ کرایا مگر انھی طالبان کوافغان منظر نامے پر مضبوط ہوتے دیکھ کرامریکہ خوف محسوس کرنے لگا جنھیں کچلنے کی فیصلہ ہوا تو ایک بار پھر پاکستان کا کندھا استعمال کیا گیا نتیجہ یہ نکلا آج لاکھوں افغان پاک سرزمین پر پناہ لینے کے باوجود پاکستان کو شک و شبے کی نظر سے دیکھتے ہیں وہی بھارت جو روس کی جارحیت کا حمایتی رہا اور امریکی حملے کی بھی تائید کی وہ افغان اشرافیہ کا پسندیدہ ہے جس کے بعدکیا اِس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم غلطیوں کا ادراک کریں حیرانگی ہے کہ یہ بھی طے نہیں کر سکے کہ ہم نے کرنا کیا ہے کِس طرف جانا ہے جب تک راستے کا تعین نہیں ہوگاسفرکیسے ختم ہو سکتا ہے کیا یہ بھی ہمیں کسی اور ملک نے بتانا ہے کہ ملک ایسے چلائیں؟بھارت ہندو ریاست کی طرف سفر کرتے کرتے آج جنونی اور انتہاپسند ملک بن چکا ہے مسلمانوں کو ہندو کسی نہ کسی بہانے قتل کر دیتے ہیں لیکن عدالتیں انصاف کی بجائے حملہ آوروں کو بے گناہ قرار دے کر رہا کردیتی ہیں سکھ ،عیسائی اور دلت بھی آئے روز ہندوجنونیوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں کلبھوشن جیسا دہشت گرد بھارتی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے مگر دنیا کا عجیب پیمانہ ہے سب اقوام بھارت کی طرفدار ہیں جس پاکستان نے دہشت گرد کچلنے کے لیے ہزاروں جانوں کی قربانی دی اربوں کی املاک تباہ کرائیں اُسی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں ڈال دیتی ہے اور بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لیے پاکستان کو ڈھیروں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں تب جا کر کچھ ملک مطمئن ہوتے ہیں لیکن گرے لسٹ سے وہی بھی نہیں نکالنے کے لیے مدد نہیں کرتے اِس کا ایک مطلب ہے ہم منزل کی طرف جانے والے راستے کا تعین نہیں کر سکے اسی لیے دنیا کی نظروں میں مشکوک ہیں بھارت جیسے ملک میںآرایس ایس جیسی جماعتوں کے تعاون سے بی جے پی اقتدار میں ہے اور کشمیرپر اپنے ہی وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپناحصہ بنا چکی ہے اور نریندرمودی جیسا قاتل جنونی کہتا ہے پاکستان جو مرضی کرتا رہے دنیا ہم پر دبائو نہیں ڈال سکتی ۔ارے بھئی کیوں دبائو نہیں ڈال سکتی ؟کیا ہم اپنا مقدمہ ہی صیح طرح دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکے یا قرضوں میں جکڑی معیشت کی بنا پر کوئی ہماری آواز نہیں سنتا جو بھی ہے مقدمہ بھی ہم نے پیش کرنا ہے اور معیشت بھی ہم نے بہتر کرنی ہے جب سب کچھ ہم نے کرنا ہے تو اقدامات سے گریزاں کیوں ہیں؟سعودی عرب اور امارات دونوں مسلم ملک ہیں جن سے تعاون کے لیے ہم ہر وقت آمادہ وتیار رہتے ہیں کیسی ستم ظریفی ہے وہ بھی پاکستان کو پُرامن رہنے کا درس دیتے ہیں اوربھارت کے طرفدار ہیں بھارت جیسا عیار ملک پہلے روس کی آنکھ کا تارارہا اب امریکہ کا منظورِ نظر ہے ہم استعمال ہوکر بھی بے توقیر ہیں یہ ہماری کوتاہیوں کا کیا دھرا ہے خرابیاں کہاں ہیں اور انھیں کیسے دور کرنا ہے؟ یہ جائزہ بھی ہم نے لینا ہے اورخرابیوں و کوتاہیوں کو بھی ہم نے دور کرنا ہے کسی اور نے آکر ہمیں اُنگلی پکڑ کا نہیں بتانا کہ کس طرف جانا ہے کیسے اور کب جانا ہے؟کچھ باتیں منزل کی طرف سفر شروع کرنے سے پہلے سوچنے والی ہیں مگر ایسا لگتا ہے ہم راستے اور منزل کا تعین کیے بنا ہی سفر کر تے جارہے ہیں اسی لیے بہتر برس گزرنے کے باوجود ترقی کی منزل سے دور ہیں اورقرضے لیکر ملک چلا رہے ہیں پاکستان کو اللہ نے بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے پہاڑ ہیں میدان ہیں صحرا ہیں نخلستان ہیں معدنیات ہیں کیا نہیں ہمارے پاس؟پھر بھی ہر حکمران قرضوں کے لیے کشکول لیے گھوم رہا ہے اگر ٹیکس چوری ختم ہوجائے،غیر ضروری درآمدات سے ہاتھ اُٹھا لیں اور کرپشن پر قابو پالیں تو معیشت بہتر ہو سکتی ہے مگرسچ یہ ہے کہ ملکی وسائل کا استعمال ٹھیک طرح نہیں ہورہا ۔ملائشیا کے مہاتیرمحمد نے کشمیر پر بھارتی قبضے کی مزمت کی جواب میں بھارت نے ملائشیا سے آئل درآمد کرنا چھوڑ دیا ہے ترکی نے پاکستانی موقف کی حمایت کی اور کشمیر کے متعلق بھارتی اقدام کو غلط قرار دیا تو جنونی مودی نے ترکی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے کرتارپورراہداری کھولنے میں رکاوٹیں ڈال رہاہے مباداسکھ پاکستان کے قریب نہ ہوجائیں کیا ہم نے بھی کبھی ایسا کیاہے؟ ہمیں تو ایرانی جنرل بھی سبق سکھانے کی بات کرتا ہے دبئی کا وزیرِ خارجہ دھمکیاں دیتا ہے لاکھوں مہاجرین کا بوجھ اُٹھا کر بھی افغان حکومت ہم سے نالاں ہے پھر بھی ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ اپنی پالیسیوں کا جائزہ ہی لے لیں اور انھیں درست کرنے کی کوشش کریں جب منزل کی طرف جانے والے راستے پر نہیں چلیں گے تو یادرکھیں منزل ملناتو کُجا مزیدمسائل کی کھائیوں میں گرتے جائیں گے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے فوج اور حکومت کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لیے پُرعزم ہے بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرہ ہے مشرقی سرحد پربلا اشتعال فائرنگ روز کا معمول ہے آئے روزہونے والی پاک بھارت افواج کی جھڑپوں سے کسی وقت بھی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اِ س لیے حالات کا تقاضہ ہے کہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم متحد ہوجائے اور کسی شرپسند کو مزموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دے لیکن مولانا فضل الرحمٰن اتحاد پیدا کرنے کی بجائے نفاق کے بیج بو رہے ہیں ن لیگ اور پی پی کی کرپٹ قیادت بھی ہلہ شیری دے رہی ہے کیا قومیں اِ س طرح ترقی کرتی ہیں اور قوموں کے رہنما ایسے ہوتے ہیں ؟ جو خطرے کو دیکھ کر آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں ۔جی نہیں۔قوم کو خطرات میں گھرا دیکھ کرفائدے کے لیے بلیک میل کرنا مفادپرستی اور اغیارپرستی ہے پھر بھی کسی کو ترقی نہ کرنے کاپچھتاواہے توسمجھ لیں یہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور،دکھانے کے اور والی بات ہے لیکن ایسے رہنمائوں کو لگام قوم نے ہی ڈالنی ہے کب ڈالنی ہے؟ وقت کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے ووٹ ڈالتے وقت ہیراپھیریوں کا بدلہ آپ نے لینا ہے اگر آپ نے رہبروں کے روپ میں چھپے رہزنوں کو پہچان لیا تو منزل کی طرف جانے والے راستے کا تعین بھی ہوجائے گا پھر منزل کی طرف سفر بھی شروع ہو جائے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں