51

رہائی اورآزادی مارچ تحریر حمیداللہ بھٹی

حکمرانوں سے نجات کے لیے ایک مزہبی جماعت ایسا بڑا مارچ اور دھرنا چاہتی ہے جس سے عمران خان سیاسی منظر سے آئوٹ ہو جائے اور اگر سیاسی منظر پر موجود رہیں بھی تو بے وقعت ہو جائیں لیکن بات بنتی نظر نہیں آتی یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت بھی غلطیاں کر رہی ہے اور غلطیاں بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ پہاڑ جیسی غلطیاں ہیں طرفہ تماشہ یہ کہ ٹیکس کا دائرہ کاربڑھانے اور مہنگائی میں اضافے سمیت کئی ایسے غیر مقبول فیصلے کیے ہیں جن سے مخالفین کو اُنگلیاں اُٹھانے کے مواقع ملے ہیں مہنگائی میں اضافے سے عوام آدمی بھی مضطرب ہے مگر اپوزیشن کی خواہش کے مطابق ابھی عوام میں ہلچل نہیں بلکہ وہ حکومت کو کچھ عرصہ مزید موقع دینا چاہتی ہے ایک طرف اگر حکومت نے غلطیاں کی ہیں تو دوسری طرف کچھ اچھے اقدامات بھی کیے ہیں جس سے دبائو کا شکار معیشت سنبھل رہی ہے مثال کے طور پر ملکی درآمدات میں کمی آئی ہے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی جولائی ،اگست اور ستمبر میں تین ارب ڈالر درآمدات میں کمی ہوئی اسی طرح قرضوں کے ہجم میں چاہے غیر معمولی نہیں بلکہ معمولی ہی سہی لیکن کچھ نہ کچھ بحرحل کمی ہورہی ہے ٹیکس وصولی کی شرح بہتری کی طرف گامزن ہے منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین سے اپوزیشن کے کچھ بڑے لوگ خفا ضرور ہیں مگر ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق ترامیم سے بلیک لسٹ میں جانے کا خدشہ نہیں رہااینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010میں ترامیم کرتے ہوئے نہ صرف ملوث افراد کی سزائیں بڑھا دی گئی ہیں بلکہ مشکوک لین دین کرنے والوں کوبھی دس برس تک سزا مل سکے گی جس کی بنا پر عالمی اقوام کا یہ خدشہ ختم ہوجائے گا کہ پاکستان سے دہشت گردی میں ملوث عناصر کو مالی سپورٹ ملنے کا امکان ہے اسی طرح جنرل اسمبلی میں عمران خان نے خطاب کے دوران منجھے ہوئے عالمی رہنما کے طور پر بات کی ہے اِس لیے اپوزیشن کی عمران خان کو سیاسی منظر پربے وقعت بنانے کی خواہش تو خیر پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ اگراُن کی کارکردگی بہت اچھی نہیں توبہت بُری بھی نہیں قرضوں میں جکڑے ملک کے سربراہ کے طور پر اُن کا کردار مناسب ہے عوام بدظن نہیں اسی لیے تحریک،مارچ یا دھرنے کی متمنی اپوزیشن ٹامک ٹوئیاں ماررہی ہے مگر ہاتھ کچھ نہیں آرہا۔اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس تو ہوتے ہیں لیکن کسی نُکتے پر اتفاق نہیں ہورہا کیونکہ ہر جماعت کا ایجنڈا مختلف ہے جے یوآئی کے سربراہ کی خوہش ہے کہ اکتوبر میں ہی مارچ اور دھرنا کیا جائے مگر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی جیسی بڑی جماعتیں گومگوکی کیفیت میں ہیں کبھی تحریک نومبر تک ملتوی کرنے کی بات کی جاتی ہے کبھی طریقہ کار پر اختلافِ رائے ہوجاتا ہے اِس لیے مولانا فضل الرحمٰن کی بھاگ دوڑ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہورہا کیونکہ اپوزیشن میں بیٹھی جماعتوں کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے مسلم لیگ ن کی اولیں خواہش یہ ہے کہ جوبھی ہو سب سے پہلے میاں نواز شریف کو رہا ہونا چاہیے اور وہ تحریک کو اپنے قائد کی رہائی کی تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہے اسی طرح پیپلز پارٹی کو آصف زرداری اور فریال تالپور کی رہائی سے کم کوئی بات قبول نہیں وہ منی لانڈرنگ کیسسز کا خاتمہ اور نیب تحقیقات کو محدود کرانے کی بھی خواہشمند ہے مولانا فضل الرحمٰن جو خود قومی اسمبلی کی نشست بھی نہیں جیت سکے اپنی سیاسی بے وقعتی پر تلملائے ہوئے ہیں اورغیر اہم ہونے کی بنا پر سیاسی بساط کے خاتمے کا تہیہ کر چکے ہیں لیکن ایسا کیسے ہوگا ؟کچھ سجھائی نہیں دے رہا وہ سب جماعتوں کو اکٹھا تو بٹھا لیتے ہیں لیکن باوجود کوشش کے اپنی بات نہیں منوا پارہے جس کی کئی وجوہات ہیںاگر وہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کی بنا پر جیلوں میں بند مسلم لیگ ن کے قائداور پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی رہائی کے لیے کندھا پیش کرتے ہیں تو اُن کی اپنی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے جوپہلے ہی ڈیزل الزامات کی وجہ سے داغدار ہے مزید یہ کہ حکومتی عہدوں کی مراعات وثمرات سے جی بھر کر لطف اندوز ہونے کے باوجود انھوں نے اپنا مزہبی تشخص بنا رکھا ہے جب کرپٹ قیادت کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے تو لوگ ضرور سوال کرسکتے ہیں اے حضرت مولانا کیا آپ بھی قید سیاسی رہنمائوں کی طرح……؟مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی خود کو روشن خیال منوانے کی تگ ودو میں ہیں گزشتہ حکومت نے کئی ایک محکموں کی خواتین ملازمین کی طرف سے سرڈھانپنے سمیت حجاب کرنے پر پابندی لگا دی تھی جس پر پیرامیڈیکل اسٹاف سڑکوں پر آگیا اور نرس تنظیموں نے احتجاج کیا یہی لبرل لوگ اپنی سیاسی جماعت کومولانا کی قیادت سے دوررکھنا چاہتے ہیں اور شہباز شریف کسی مارچ کا حصہ بننے کی بجائے پارٹی کوپارلیمنٹ تک محدود رکھناچاہتے ہیں جب کہ مریم نواز کی ٹیم ہلہ گُلہ کرنا چاہتی ہے سوچ کا تضاد فیصلے میں رکاوٹ ہے ویسے بھی شریفیہ قیادت کے ساتھی موسم کی حدت اور شدت برداشت نہیں کر سکتے اسی لیے مارچ کی نوبت آنے کی صورت میں ماہِ نومبر کی تجویز دے رہے ہیں تاکہ خوشگوار موسم میں کوئی پریشانی نہ ہو پی پی کو ویسے ہی اسلامی تشخص سے چِڑ ہے اسی لیے وہ جے یو آئی کے ساتھ مل کر کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہتی جس سے دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پی پی قیادت اسلام پسند یا قدامت پسند جماعت ہے اُسے قیادت کی اسیری قبول ہے مگر اسلام پسندی کے سے لیبل الرجک ہے اور کسی تحریک کا حصہ بننے کی بجائے بلیک میلنگ سے کام نکالنے کے چکر میں ہے مراد علی شاہ کی گرفتاری پر بلاول بھٹو کی طرف سے ریڈلائن عبور کرنے کی دھمکی واضح مثال ہے ۔مولانا فضل الرحمٰن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں وہ خود قومی اسمبلی کے ممبر نہیں نہ ہی اُن کے خاندان کے افراد کے پاس حکومتی منصب ہیں اسی لیے وہ فیصلہ کن مارچ اور دھرنے کے لیے سبھی کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اُن کے بغیر چلنے والی اسمبلی کا خاتم ہو مگر بات بنتی نظر نہیں آرہی ن لیگ اور پی پی صرف اپنی قیادتوں کی رہائی تک محدود رہنا چاہتی ہیں حکومت ہٹانے سے اُنھیں کوئی سروکار نہیں مولانا بھی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف مارچ کرنا چاہتے ہیں اورچاہتے ہیں انتخابی عُذرداری کے بغیر ہی حق میں فیصلہ آجائے اب وہ سب کو یقین دلانے کی کوششوں میں ہیں کہ اسلام کے لیے مارچ یا دھرنا نہیں ہورہا پھر بھی اپوزیشن کی دوبڑی جماعتیں محتاط ہیں اور مولانا کی کسی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں جس کی بنا پررہائی اور آزادی مارچ میں کوئی قدر مشترک نہیں ہو رہی جب کوئی قدر مشترک نہیں تو قیادت کیسے متفق ہوگی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں