53

رسوائیاں سمیٹنے کی دوڑ تحریر حمیداللہ بھٹی

عقلمندوں کا قول ہے کہ بولنے سے پہلے تول لیناچاہیے مگر کیا کریں چھوٹی زہنیت کے لوگ جب بڑے عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں تب بھی زمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے اور بغیر سوچے سمجھے بول جاتے ہیں سیانے کہتے ہیں جب خدا حُسن دیتا ہے تو نزاکت خود بخود آجاتی ہے لیکن چھوٹی زہنیت کے لوگوں کو عہدہ ملے یا حُسن ،انھیں کچھ فرق نہیں پڑتا ہاں ایسے لوگ خالی برتن کی مانند ہوتے ہیں اور بجتے رہتے ہیں کچھ پہلوان ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں کسی کو گرانا نہیں پڑتا بلکہ ایسے لوگ اپنے ہی وزن سے گرجاتے ہیں پنجاب حکومت کے مستعفی ترجمان شہباز گل بھی ایسی ہی طبعیت کے مالک ہیں اور اپنی زبان پر قابونہ رکھنے کی بنا پر عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔شہبازگل کو بیرونِ ملک سے لا کرپنجاب حکومت کے ترجمان کا منصب سونپا گیا شاید حکمرانوں کو حُسنِ ظن تھا کہ موصوف بہت با اخلاق ہیں کیونکہ کافی عرصہ بیرون ملک رہے ہیں اِس لیے سوچ سمجھ کراورشائستگی سے اظہارِ خیال کیا کریں گے مگر سوچ،اندازے اور توقعات نقشِ برآب ثابت ہوئیں وہ بھی سیاست کی وادی میں قدم رکھتے ہی چند مخصوص چہروں کی طرح ہوش وحواس کھو بیٹھے حالانکہ عہدہ نہ بھی ہوتو طرزِ تکلم میں محتاط رویہ ہی سمجھداری ہے اگر منصب بھی پاس ہوتو احتیاط اور بھی لازم ہوجاتی ہے اور زمہ دارانہ گفتگوسے ہی عزت وتوقیر ملتی ہے گزشتہ دنوں موصوف جوشِ خطابت میں کہہ گئے جسے عثمان بزدار کی شکل پسند نہیں وہ پارٹی چھوڑ جائے اور پھر پارٹی نے شہباز گل کو ہی منصب سے ہٹا دیا انھوں نے استعفے میں لکھا ہے کہ ناقص حکمرانی کی پالیسیوں کا دفاع بہت مشکل ہو گیا تھا اِ س لیے منصب سے مستعفی ہو رہا ہوں کوئی بھلا مانس پوچھے شہباز بھیا ابھی کوئی اور عہدہ آپ کو سونپ دیا جائے توکیا پالیسیاں درست ہو جائیں گی؟ مجھے یقینِ واثق ہے کہ موصوف عہدہ قبول کرنے میں جھٹ دیر نہیں لگائیں گے بلکہ نئے عزم کے ساتھ پارٹی کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے ایسی ایسی مثالیں پیش کردیں گے کہ لوگ گرگٹ کے رنگ بدلنے کو بھول جائیں ۔حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی جماعت میں گروپ بندی ہوتی ہے اسی طرح پی ٹی آئی میں بھی دھڑے بازی ہے یہ دھڑے بندی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے مواقع کی تلاش میں رہتی ہے شہباز گل تو اپنے منصب سے آگے بڑھ کر وزارتوں میں مداخلتِ بے جا کے مرتکب ہو رہے تھے لیکن اختیارات سے تجاوز کرنے والے کو کیسے لگام دی جائے کوئی بہانہ نہیں مل رہا تھا خود وزیرِ اعلیٰ کو شکایات تھیں جس کی وجہ سے وہ بھی اپنے ترجمان سے عاجز تھے اِ س لیے عثمان بزدار کے حق میں دیا جانے والا بیان ہی قصور بن گیااور استعفٰی لے لیا گیاجس کے تین فائدے ہوئے ہیں اول وزیرِ اعلیٰ نے بوجھ ہٹنے کی بنا پر سکھ کا سانس لیا ہے دوم ایک بڑے گروپ کو بھی شہباز گل ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا جواُسے بغیرووٹوں کے چھاتہ بردار کی طرح ٹپکنے والا کہتااُسے بھی اطمنان ہو گیا ہے سوم وزارتوں میں مداخلت سے پریشان بھی خوش ہو گئے ہیں کیسا عجیب شخص تھا نمبر بناتے اور مالش پالش کرنے کے باوجود رسوائی سمیٹ کر رخصت ہو ا ہے اگر بات کرنے سے قبل نتائج کے بارے سوچ لیتا اور موقعہ کی تلاش میںحاسدوں کی قوت نظر انداز نہ کرتا تو عین ممکن ہے آج بھی عہدے پر موجود ہوتا اور مختلف ثمرات سے فیض یاب ہو رہا ہوتا مگر کچھ لوگوں کوعزت اچھی نہیں لگتی اُنھیں سبھی کو بے عزت کرنے کی عادت ہوتی ہے حالانکہ یہ قانونِ قدرت ہے جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی گرتا ہے شہباز گل اپوزیشن کو بے عزت کرتے کرتے خود اپنی جماعت کے ہاتھوں بے عزت ہو کرکوچہء اقتدار سے نکل چکے ہیں اگر اُن کے دل میں یہ خیال ہے کہ فیض الحسن چوہان کی طرح اُنھیں بھی معافی مل جائے گی تو وہ غلط توقع لگائے بیٹھے ہیں کیونکہ ایک منتخب شخص کو غیر منتخب پر ہر لحاظ سے فوقیت ہوتی ہے فیض الحسن چوہان ایک منتخب عوامی نمائندے ہیں جب کہ شہباز گل ایک غیر منتخب شخص ہیں اِس لیے دوبارہ ترجمان کے عہدے پر بحالی محال ہے۔محترمہ فردوس عاشق اعوان بھی اپوزیشن کے لتے لینے میں تمام حدیں پار کر جاتی ہیں مگراُنھیں زہن نشین رکھنے والی بات یہ ہے کہ سیاست میں کچھ حرفِ آخر نہیں ہوتا آج کے دوست کل کے مخالف اور آج کے مخالف کل کے دوست ہو سکتے ہیں اِس لیے الفاظ کو انگارے نہ ہی بنایا جائے تو بہتر ہے مجھے نہ تو حکومت سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اپوزیشن سے واسطہ ہے میں تو بس اِتنا کہنا چاہتا ہوں کہ رواداری اور برداشت کی اقدار کی پیروی سے اجتناب نہیں کیا جانا چاہیے اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداربن کر حقائق کو جھٹلانے سے گریز بہترروش ہے۔مشیرعون چوہدری کی برطرفی اور شہبازگل کا استعفٰی معمولی بات نہیں یہ دونوں کردار اپنی چرب زبانی کے شکار ہوئے ہیں کیسی حیرانگی کی بات ہے کہ اپنی جماعت کو برحق ثابت کرنے کے لیے حریف جماعتوں پر بڑھ چڑھ کر حملے کرنے والے اقتدار،اختیار اور منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کاش بات سوچ سمجھ کرکرتے اور بات کرتے ہوئے اپنی حثیت کو زہن میں رکھتے تے تو آج منصب سے محروم ہونے کے باوجود توقیر نہ کھوتے اور عضومعطل نہ بنتے مگر سمجھائیں کسے؟ جب کوئی سمجھنے پر ہی تیار نہیں ۔اصل میں جب بندے کے پاس اقتداراور اختیار ہوتا ہے تو وہ خود کو عقلِ کُل سمجھنے لگتا ہے اور اپنے سوا سب کو بے وقوف سمجھنے لگتا ہے اُسے یقین ہوجاتا ہے کہ اقتدار دائمی ہے حالانکہ اقتدار بھی کبھی کسی کے پاس بھلامستقل رہا ہے؟ اگر کسی کی اصلیت جانچنی ہو تو اُسے عزت دی جائے اگر عزت دار ہوا تو سب کو عزت دے گا اگر عزت دار نہ ہوا تو سب کو بے عزت کرنے کی کوشش کرے گا مولانا ظفر علی خاں نے کیا خوب کہا ہے
اُسے بندہ نہ جانیے گا ظفر چاہے جتنا بھی ہو صاحبِ فہم وزکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
یہ دنیا عارضی ہے اِس لیے اچھی یادیں چھوڑ کر جانا چاہیے تاکہ لوگ اچھے الفاظ سے یاد کریں مگر کیا کریں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی دوڑ جاری ہے تہذیب یا اخلاق کی کم ہی پرواہ کی جاتی ہے اور سیاست تو نام ہی مخالفوں کی کردار کُشی بن گیا ہے آج عون چوہدری اور شہبازگل رسوائیاں سمیٹ کر رخصت ہو چکے مگرکوئی سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیںبلکہ ایسے انجام سے دوچار ہونے کے لیے ایک چھوڑو ہزار تیار بیٹھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں