7

ایک پر امن آزادی مارچ ! تحریر ! لیاقت علی شفقت (مانچسٹر)

11 مئی2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں اقتدار کی تکون میں ایک کے مقابلے میں دو کی اکثریت سے فیصلہ کیا تھا کہ وزارت عظمیٰ کا قلمدان عمران خان نیازی کو دیا جائیگا۔ مگر الیکشن کے ہوتے ہی یہ سہرا نواز شریف کے سرباندھ دیا گیا ۔ وجوہات بہت تھیں ۔ جن میں ایک وجہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سبکی کی تھی، کہ اس نے عمران کو وزیر اعظم بنانے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور یقین دہانی تک کرائی ہوئی تھی۔مگر ایسا نہیں ہوا ۔ سول اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ اس وقت دہشتگردی کی نام نہاد جنگ کی کامیابی کیلئے ملک کی بگڑی ہوئی صورتحال ، تباہ شدہ معیشت اورعالمی سطح پر پاکستان کو ڈیفالٹ کرنے کی کوششوں کے باوجود اپنے مخصوص مقاصد کیلئے نواز شریف کو اقتدار سونپنے کا فیصلہ کیا۔2013 الیکشن کے نتیجے میں نواز شریف تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ جولائی 1993 میں پہلی بار اور فروری 1997 میں دوسری بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف نے اب تیسری بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی تمام تر توانائیاں ملک کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے لگادیں ۔ روائیتی انداز میں ملکی سیاست اپنی ڈگر پر چلتی رہی کہ یکا یک ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ایک بار پھرسامنے لا کھڑا کیا۔ چار حلقوں کو کھولنے کامطالبہ لیکر جب PTI میدان میں اتری تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ جلد ہی ملک میں طوفان بد تمیزی بپا ہونے والا ہے ۔اکتوبر 1999میںحکومت کا فوجی جرنیلوں کے تختہ الٹنے کے بعد پس زنداں میں موت کی نیند سلانے کی خواہش، جھوٹے مقدمات میںعدالتوں میں گھسیٹنا، کرپشن کی انتہا کرنے کے الزام کے ساتھ بدنام کرنے کی کوششیں ،اس کے باوجودعالمی سرپرستوں کی مداخلت پر نواز شریف کو جیل سے نکال کر جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرنے کیلئے خاندان سمیت سعودی عرب بھیج دینا ۔ نواز شریف کو بھولا نہیں تھا ۔ اسی سوچ کے ساتھ نواز شریف نے اپنی حکومتی ٹیم کے ساتھ ملک کو دہشتگردی کی لعنت کو قابو کرنے۔ اسکے نتیجے میں معیشت کی تباہی ، او ر خاص کرمعاشی حب کراچی میں جام کئے ہوئے پہیے کو رواں کرنے،لوڈشیڈنگ کے عفریت کے ہاتھوں جکڑے تاریک ملک کو روشن کرنے کیلئے ایک ساتھ تعمیر ترقی کے اتنے منصوبے شروع کرکے موٹر ویز کا جال بچھانے ،ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے اقدامات کرنے شروع دیئے ۔ اسی دوران چین سے سی پیک نامی منصوبہ لانے کیلئے چینی صدر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی ۔ ترقی کی منزل سامنے آنے اور نواز شریف کی مقبولیت میں اضافے کی پریشانی میں۔ لندن میں گھسے پٹے سیاستدانوں نے ایک ادارے کی کوششوں سے ایک خود ساختہ مذہبی لیڈر کو استعمال کرتے ہوئے اس حکومت کو گرانے کا ایک پلان بنایا گیا ۔ جو لندن پلان کے نام سے جانا جانے لگا ۔اسی کے تحت سیاسی حکومت کو گرانے کا آغاز ہوا۔ اس دوران عالمی سطح پر رونما ہونے واقعات میں واضع تبدیلیاں ہو رہی تھیں جہاں پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کی کوششیں ہو رہی تھیں وہیں پر اقتدار کی بندر بانٹ میں ناکامی پر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دارالحکومت اسلام آباد کو سیاسی بے چینی اور افراتفری کا مرکز بنایا گیا ۔ لندن پلان کے نتیجے میں ماڈل ٹائون لاہور میں ہونے والی اموات پرپاکستان عوامی تحریک اور الیکشن میں دھاندلی کے نام پر پی ٹی آئی کے دو گروہوں کو لا بٹھایا گیا ۔ اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی حکومت اپنے مشن میں لگی رہی۔ نواز شریف نے اپنے سامنے بڑھتے ہوئے اس طوفان بد تمیزی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے منشور اور سوچ پر عمل جاری رکھا ۔ اس طرح یہ احتجاجی مارچ اور دھرنے ناکام ثابت ہوئے۔ اصل کردار چونکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا تھا ، جو اب کسی صورت میں ناکام نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اسی بنا پرپانامہ کے اخبارات میں ایک خبر شائع کرائی گئی کہ دنیای بھر میں پانچ سو کے قریب پاکستانیوں نے اپنے اثاثے بنا رکھے ہیں ۔ ان میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے بچے بھی شامل ہیں ۔ اس پر عدالتوں میں جو کچھ ہوا وہ ہماری قومی تاریخ کا بھیانک باب ہے۔ اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ نواز شریف کوایک ایسے بھونڈے انداز میں نااہل قرار دے دیا گیا ۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اس نے مڈل ایسٹ میں جاری اپنے بیٹوں کے کاروبار میں ملازمت شوکی مگر وہاں سے تنخواہ نہیں لی ۔ یہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا اور نرالا فیصلہ سنانے والے ججز نے فوجی جرنیلوں کے دبائو پر گویا ملکی سیاست اور معیشت کی تباہی کا فیصلہ دے کر ایک بار پھر نواز شریف کو سیاست سے دور کرنے اور سیاسی مستقبل ختم کرنے کے دعوے شروع کر دیئے۔ اور پھر اپنے کٹھ پتلی لوگوں کو حکمران بنانے میں کامیاب ہوئے۔مولانا فضل الرحمٰن ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جو ایک مذہبی لیڈر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب سیاستدان کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔ اسٹیلشمنٹ سے انکے تعلقات کی حالت یہ تھی اقتدار میں بار بار تبدیلی ہوتی رہی مگر ان کا مقام وہیں موجود رہا ۔ ملکی سیاست اور اقتدار کی بندر بانٹ چونکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ، سول اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ کی تکون کرتی ہے، اس لئے مولانا نے اس سے کبھی قطع تعلق نہیں کیا۔ 2013 کے الیکشن میں مولانا فضل الرحمٰن کو سیاست سے دور کرنے اور اپنے چہیتے عمران خان کو آگے بڑھانے کیلئے جو کھیل کھیلا گیا اس سے مولانا کو صوبہ کے پی کے کی حکومت سے نکال کر عمران خان کو دیدیا گیا۔2018 کے الیکشن میں تو مولانا کو مکمل واش کرنے اور انہیں عمران خان کے ذریعے بدنام کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے جہاں ساری اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی وہیں پر مولانا فضل الرحمٰن کا بھی ناطقہ بند کردیا ۔ فضل الرحمٰن جب صدر پاکستان کیلئے سامنے آئے تو انکے خلاف جو جو چالیں چلیں اسی کا نتیجہ تھا کہ واضع کامیابی کے باوجود انہیں ہروا دیا گیا۔ مولانا سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے دوری اختیار کرلی، اور حکومت کو انہیں دبانے کا کیلئے کھلا ہینڈ دیدیا۔ الیکشن میں چلی گئی اس چال سے وہ مکمل باخبر تھے۔ اس لیئے انہوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکنے کی بجائے اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کی ٹھانی۔ اور پھر ایک دن یہ بھی آیا کہ ساری اپوزیشن کو انکی ہاں میں ملانا پڑی ۔ اپوزیشن کا الیکشن دھاندلی بارے متفقہ فیصلہ جہاں کامیابی بنا وہاں اسمبلیوں سے استعفے اور مخالف تحریک کا ن لیگ اور پی پی پی کی مخالفت نے ناکام بنا دیا۔ مولانا نے اپنی جدوجہد اور پارٹی کاوش سے لانگ مارچ اور دھرنے کا جو منصوبہ بنایا وہ اتنا اہم ثابت ہوا کہ ساری اپوزیشن کو ان کے ساتھ چلنا پڑا۔ آج آزادی مارچ کے نام سے کراچی سے خیبر تک سے لوگوں کو شامل کرکے یہ مارچ اسلام آباد میں پڑائو کیئے ہوئے ہے۔ پہلے کے کئی ملین مارچ اور اب یہ قومی تاریخ کا اتنا بڑا مارچ اسلام آباد میں گذشتہ چھ دن سے پڑائو کئے ہوئے ہے۔ اور حیرت کی بات ہے کہ اس سے جہاں ایک پتہ تک نہیں ٹوٹا وہیں پر کسی کیلئے مسائل بھی پیدا نہ ہوئے۔ مارچ کی کامیابی کو مارچ سے پہلے ہی عیاں ہو چکی تھی مگر مولانا کا ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو تمام دبائو، اختلافات، سازشوں اور مشکلات کے باوجودایک جگہ پر لانا بہت بڑی کامیابی ہے۔ حکومت کی بوکھلاہٹ اور کورکمانڈرز کانفرنس کے انعقاد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ۔ حکومتی کامیابیوں یا ناکامیوں سے توجہ ہٹ کر ساری توجہ مولانا فضل الرحمٰن پر مرکوز ہو چکی ہیں ۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی نواز شریف اور پی پی پی کی سیاست کو دفن کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی کوشش ہے کہ وہ اپنے مردہ سیاسی گھوڑوں کے ذریعے اس مارچ کو ناکام بنادے ۔ اس میں انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی ملتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ مولانا نیاب تک جو سیاسی بساط پر شترنج کے جو پتے کھیلے ہیں ، وہ بڑے کامیاب ثابت ہوئے ہیں عمران خان کے استعفے اور نئے الیکشن کا اعلان کا مطالبہ حکومتی ایوانوں میں تو بغاوت کے نام سے پکارا جا رہا ہے ۔ مگر جمہوریت میں اس کا حق ہر کسی کو حاصل ہے۔ مارچ کی کامیابی صاف نظر آ رہی ہے ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کااجلاس ، مذاکراتی عمل میں کسی سختی کا نہ ہونا ، اپنے مطالبے میں لچک دکھانا اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف واضع اور دوٹوک موقف ، ڈی چوک کی طرف نہ بڑھنے کا اعلان مولانا کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے۔ حکومتی اور سیاسی حلقے جانتے ہیں کہ مولانا کے ساتھ اسلام آباد آنے والے لوگ پرعزم اور بے خوف ہیں ۔ اسلام آباد میں آزادی مارچ طوفان یا ہلچل کا ایک ایسا پہاڑ بن چکا ہے کہ کوئی بھی ناعاقبت اندیشانہ چنگاری سے وہ پھٹ پڑے یا سب کچھ بہا لے جائے۔ ملکی اقتدار کی نائو کو چلانے والے ناخدائوں کا مولانا کے مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا، کیونکہ اتنا پر امن مارچ اور دھرناکہیں کسی دشمن کی چنگاری کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ اس سے ملک میں جو آگ لگے گی اس سے سب کچھ بھسم ہو جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں