48

افغان امن عمل کاخاتمہ تحریر حمیداللہ بھٹی

نائن الیون کی اٹھارویں برسی پر امریکہ نے کئی تنظیموں حماس،پاسدارانِ انقلاب،داعش،القائدہ پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اِن سے منسلک پندرہ افراد سمیت تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نورولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے مفتی نورولی کو 2018میں ایک ڈرون حملے میں ملافضل اللہ محسود کے مارے جانے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کاسربراہ چُنا گیابظاہر پابندیوں کا مقصد دہشت گرد حملوں کو روکنا بتایا گیا ہے مگر افغانستان میں چاہے امریکی سفارتخانہ ہویا فوجی ابھی تک طالبان کا نشانہ بن رہے ہیں اورپینٹا گون باوجود کوشش کے حملوں کا خاتمہ تو درکنا رکمی بھی نہیں لاسکا گزشتہ اکتوبر سے جاری مزاکرات کے 9دور ہوئے جس کے نتیجہ میں رواں ماہ کے دوران دونوں فریقوں میں چند نکات پر اتفاق بھی ہوگیا اور معاہدے کی خوشخبری بھی سنا دی گئی پھر اچانک کابل میں امریکی فوجی کی ہلاکت کو بنیاد بنا کر کئی ماہ سے جاری ناصرف مزاکرات امریکی صدر ٹرمپ نے ختم کردیے بلکہ طالبان کو کچلنے کا عندیہ ظاہر کیا جس پر طالبان نے حیرت ظاہر کی اور دوحہ میں طالبان دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ معاہدے کی منسوخی کا نقصان امریکہ کو ہی ہوگا اِس لیے امریکہ اپنی افواج کی سلامتی کے لیے معاہدہ کرے وگرنہ نتائج خطرناک ہوں گے۔افغان جنگ کے خاتمے کے آثار کی ابھی جھلک ہی نظر آئی تھی لیکن کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل ہی امریکہ اورطالبان کے درمیان دوطرفہ تنائو میں اضافہ ہوگیا ہے مزاکرات کے آغاز پر امریکہ نے افغان جنگ سے دامن چھوڑانے کی جتنی جلدی ظاہر کی وہ اب ناپید ہے مگر صورتحال پر نظر رکھنے والے اب بھی مزاکرات کے حوالے سے پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ جلد ہی بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا مگر توقعات تو قیافے اوراندازے ہوتے ہیں جوکبھی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں اور کبھی غلط ثابت ہوتے ہیں اور جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسا کردار ہو تب وثوق سے کچھ کہنابہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن امریکی حلقوں تک رسائی رکھنے والوں کو یقین ہے کہ سلسلہ جنبانی کی جلدبحالی ممکن ہے ۔ بات چیت کے آغاز پر طالبان نے کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا تھا بلکہ امن معاہدے سے قبل شرائط رکھیں تھیں کہ امریکہ فوجی انخلا یقینی بنایاجائے نیز افغان حکومت کو کٹھ پُتلی قرار دیتے ہوئے کسی نوعیت کی گفتگو سے انکار کر دیا جس پر صدراشرف غنی بہت سٹپٹائے اور بات چیت کے عمل پر تحفظات ظاہر کیے مگر طالبان سے باعزت واپسی کا راستہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ نے اپنے ہی بنائے سیٹ اپ کی نہ صرف پرواہ نہ کی بلکہ اپنے سیکورٹی اِداروں کی بھی نہ سُنی اسی لیے وائٹ ہائوس اور سیکورٹی اِداروں کے درمیان تضاد نظر آتا رہا اب ٹرمپ کہتے ہیں طالبان سے ایسے سختی سے نپٹیں گے کہ لوگ جوہری ہتھیاروں کو بھول جائیں گے مگر وہ عزم کرتے ہوئے یہ نظر انداز کرگئے کہ امریکہ نے جوہری ہتھیاروں کے بعد سب سے بڑے بم جسے بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے استعمال کرکے دیکھ لیا ہے لیکن امن کی بحالی کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکی اب اگر مزید وہ مزید گولہ و بارود کی برسات سے خوفزدہ کرنے کا عمل جاری رکھتے ہیں تو کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ کہ طالبان جنگجو ہتھیار پھینک کر امریکہ کی تابعداری کرنے لگیں جنھوں نے روس جیسے قریبی ہمسائے کو مار بھگایا وہ ہزاروں میل دور سے آئے امریکیوں کی کیا پرواہ کریں گے آج نہیں تو کل جنھوں نے چلے جانا ہے وہ افغانستان کو اگردوسرا ویت نام بنانے پرآمادہ ہیں توانھیں بے عزت ہو کر جانے کو بھی تیار رہنا چاہیے۔افغانستان سے با عزت واپسی کی تمنا باراک اوبامہ نے بھی کی اور رچرڈ ہالبروک کو نمائندہ بنا کر فریقین کو مزاکرات کی راہ ہموار کرنے کا فریضہ سونپا مگر وہ اسی لیے ناکام رہے کیونکہ افغان طرزِ معاشرت سے ناواقف تھے اور حامد کرزائی جیسے طالبان کے سخت ناقدنے بات چیت کی راہیں مسدود کیے رکھیں خیراب بھی اشرف غنی نے کافی شور وغوغا کیا مگر اِس لیے سنی نہ گئی کیونکہ ٹرمپ کے لیے آمدہ الیکشن میں کامیابی افغانوں سے زیادہ اہم ہے اور وہ باعزت واپسی کے لیے ہر حد تک جا نے کو تیار ہیں لیکن سیکورٹی اِداروں کی ترجیحات مختلف ہیں چین کا بڑھتا عالمی کردار اور کشمیر جیسے سلگتے مسلے سے وہ چشم پوشی نہیں کر سکتے اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو علاقے میں امریکی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں اسی لیے وہ سوچ سمجھ کر قدم اُٹھانا چاہتے ہیں مگر جلد باز ٹرمپ کو دوسری مدت کے لیے صدر بننے کی تمنا امریکی مفادات پر حاوی ہوگئی ہے وہ کہتے ہیں نائن الیون کے زخم ابھی نہیں بھولے اب دشمن کے ساتھ وہ ہوگا جو پہلے کبھی نہیں ہوامگر وہ بڑھکیں لگاتے ہوئے بھول گئے کہ اٹھارہ برس سے طالبان کا پیچھا کر رہے ہیں مگر خاتمہ نہیں کر سکے بلکہ پہ درپہ ہونے والے نقصان سے بچائو کے لیے امن معاہدے پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ افواج کی باعزت اور محفوظ واپسی ممکن ہوسکے جب پہلے کوئی تیر نہیں مار سکے تو اب کون سا قلعہ فتح کر لیں گے جب طالبان افغان اور امریکی گٹھ جوڑ پر ہر لحاظ سے حاوی ہیں۔ٹرمپ اپنی پالیسیوں کا اعلان ٹویٹر پر کرتے ہیں جس کا مطلب مشاورت کا فقدان ہے اور وہ جو سوچتے اورچاہتے ہیںفوری اظہار کر دیتے ہیں لیکن میرے خیال میں بات کافی آگے جا چکی ہے اور جلد ہی فریقین کو بات چیت کی طرف آنا ہوگااس لیے موجودہ تعطل کو عارضی کہہ سکتے ہیں افغان مسلہ کا سیاسی حل ہی ممکن ہے ابھی تو شاید ٹرمپ اُس لابی کے دبائو میں آگئے ہیں جو طالبان سے معاہدے کو امریکی سرنڈر تصور کرتے ہیں مگرزہن نشین رکھنے والی بات یہ ہے کہ فوجی حل سے دونوں ہی فریقوں کا نقصان ہوگا اگر طالبان حملے کرتے اور امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں تو غصے میں امریکی فوج بھی کاروائیاں کرے گی جس کی زد میں طالبان آئیں یا نہ آئیں افغان عوام ضرور متاثر ہوں گے سب سے پتلی حالت افغان حکومت کی ہے جسے نہ امریکی اہمیت دے رہے ہیں نہ ہی طالبان فریق کے طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں اشرف غنی تواین ڈی ایس کااحمد ضیاسراج کونیا سربراہ مقرر کرتے ہوئے طالبان سربراہ مولوی ہیبت اللہ کو ویڈیو کانفرنس پر بات کرنے کی پیشکش تک آ گئے ہیں یہ کافی حیرانگی والی بات ہے مزاکرات کی سربراہی ملاعبدالغنی برادر کررہے ہیں جوکچھ عرصہ اسلام آباد میں سفیر رہے اورپھر طویل عرصہ پاکستان میں قید بھی رہے اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان خطے پر رحم کھاتے ہوئے کب امن کی طرف آتے ہیں کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ افغانستان سے رخصت کے باوجود امریکہ ا ڈے کی صور ت میں موجودگی چاہتا ہے جس پر طالبان تیار نہیں اور یہی نُکتہ اتفاق کی راہ میں حائل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں