59

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ سے ملاقات

جنیوا(نمائندہ خصوصی) آزا د کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر 2018 ء اور 2019 ء میں رپورٹس دیں جو کہ ایک مستند دستاویز کی صورت میں ہمارے پاس آئی تھیں۔ جس سے بھارت دفاعی پوزیشن پر آگیا تھا کیونکہ ان رپورٹس میں ذکر تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ ایک غیر جانبدار تحقیقاتی مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے اور اس میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر احتجاج کیا گیا تھا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں جنیوا میں اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ برائے ایشیاء پیسیفک،مڈل ایسٹ، نارتھ افریقہ مسٹر فرانسیسکو موٹا( Mr. Francesco Motta) سے ایک تفصیلی ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن میں اس اہم ملاقات کے لئے خصوصی طور پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے آج ہی جنیوا پہنچے تھے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ برائے ایشیاء پیسیفک،مڈل ایسٹ، نارتھ افریقہ مسٹر فرانسیسکو موٹا کو مزید بتایا کہ میں ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کی طرف سے یہاں جنیوا میں اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کا دروازہ کھٹکٹانے آیا ہوںکیونکہ بھارت کی طرف سے 5 اگست کو آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کی مزموم کوشش کی ہے اور اسکے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں لگاتار کرفیو نافذ ہے جس سے مقبوضہ کشمیر میں خوراک، ادویات کی کمی کا سامنا ہے جبکہ میڈیا، ٹیلیفون، انٹرنیٹ پر پابندی ہونے کے باعث مقبوضہ کشمیر سے کوئی خبر نہیں آرہی ہے اور دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔ لہذا اقوام متحدہ وہاں پر میڈیا رسائی دے اور خوراک اور ادویات بھیجے تاکہ ایک بڑے انسانی سانحے سے بچا جا سکے۔ بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں آج یہاں عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے آیا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 2018 ء اور بعد ازاں 2019 ء میں انسانی حقوق کمشن کے مختلف ہائی کمشنرز کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں انسانی ھقوق کی پامالی پر رپورٹس پیش کیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی نسل کشی پر عالمی برادری کا خاموش تماشائی بنے رہنا کسی طور مناسب نہیں۔لہذامیںانسانی حقوق کی علمبردار تمام عالمی تنظیموں سے گزارش کرونگا کہ وہ مقبوضہ کشمیرتشویشناک صورتحال پر اپنا کردار ادا کریں کیونکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ایک کرب اور مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں انکی داد رسی کے لئے عالمی برادری فوری طور پر آگے آنا چاہیے۔***

اپنا تبصرہ بھیجیں