39

عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال کے بڑھتے مسائل حل کرنے میں ڈاکٹر عابد غوری ناکام

گجرات(افتخار احمد رانا) عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال کے بڑھتے مسائل حل کرنے میں ایم ایس عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عابد غوری ناکام دیکھائی دینے لگے۔ہسپتال میں آئے روز مریضوں کے ساتھ عملے کے ہونے والے جھگڑے سے مریض دربدر ہونے لگے۔ہسپتال میں مسائل دن بدن بڑتے جا رہے ہیں سیوریج بند ہونے کی وجہ سے جہاں مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہی ہسپتال کے ہاسٹل میں مقیم ڈاکٹر و لیڈی ڈاکٹرز شدید پریشان ہیں۔سالوں پرانے اس ہیڈ کواٹر ہسپتال کی سیوریج پرکبھی توجہ نہیں دی گئی۔جس کی وجہ سے سیوریج کے پائپ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ ہسپتال میں آنے والے لوگ جراثیم بھرا پانی پینے پر مجبور۔ذرائع کے مطابق ہسپتال میں لگے واٹر پلانٹ کا پانی بھی آلودہ ہے۔اس کے علاوہ مذکور ہسپتال میں عملے کی شدید کمی ہے جسکی وجہ سے مریض اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی اصل وجہ ایم ایس عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال کی سیاسی بھرتی اور بے جا سیاسی مداخلت ہے ۔ایم ایس عزیز بھٹی ہسپتال جو ڈاریکٹ سیکرٹری ہیلتھ کو رپورٹ کرتا ہے ہسپتال کے مسائل جن میں ہسپتال عملے کی کمی،روسٹر پر لڑائی،آلات کی خرابی اور ڈاکٹرز کی کمی وغیرہ کے علاوہ ہسپتال کی ذمہ داریوں سے کافی حد تک نا واقف ہے ۔ٹیچنگ ہسپتال ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ دن بدن ہو رہا ہے دوسری طرف مسائل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں حال یہ ہے کہ ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو اکٹھے لیٹانا پڑتا ہے مزید یہ کہ ٹیچنگ ہسپتال کے تمام ڈیپارٹمنٹ پروفیسروں اور عملے کی کمی کا شکار ہے جس کی ایک مثال ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ ہے جہاں ایک پروفیسر غیر ارادی طور پر موجود ہے جو اکثر چھٹیوں پر رہتا ہے ۔ اس غیر حاضری کا خمیازہ مریضوں کو در بدر ہو کر ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس فیکلٹی کو چلانے کے لیے دس سے بارہ پروفیسر ڈاکٹرز درکار ہیں جس کو پورا کرنے سے میڈیکل کالج کے ذ مہ داران دانستہ قاضر ہیں ۔نواز شریف میڈیکل کالج کے اپنے ٹیچینگ ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے عزیز بھٹی ہسپتال میں مریضوں کا رش شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ایم ایس ڈاکٹر عابد غوری ڈاکٹرز،عملے اور مریضوں کے مسائل پر قابو پانے میں مسلسل ناکام نظر آتے ہیں جبکہ ان ساری وجوہات کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جو گجرات کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے طلباء کی ہاؤ س جاب کے لیے آنے والے ڈاکٹر کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے حال یہ ہے کہعزیز بھٹی ہسپتال ایک ٹیچنگ ہسپتال ہے مگر اس میں جدید آلات کی جگہ آج بھی آپریشن تھیڑرمیں پرانے زمانے کی سئکنگ مشین اور آلات جراحی ہیں جو علاج کے لیے آنے والوں پر ظلم و ذیادتی ہے۔میڈیکل کالج کا پرنسپل ایک کٹ پتلی آفیسر ہے اس کی ساری ڈوریںیونیورسٹی آف گجرات کے ہاتھ میں ہیں ۔پرنسپل اتنا بے اختیار ہے کہ وہ یونیورسٹی آف گجرات کی اجازت کے بغیر ڈیلی ویجز پر ایک ملازم تک نہیں رکھ سکتا ۔ جس کی وجہ سےPGs ڈاکٹرز مشکلات کا شکار ہیں اور یہاں سے اپنا ٹرانسفر کروانے پر مجبور ہیں ٹرینی ڈاکٹرز کے ساتھ زیادتی اور پرنسپل کے عدم تعاون کی وجہ سے PMA,YDA پرنسپل اور ایم ایس کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہیں اس بارے عید سے پہلے دونوں تنظیموں کے اجلاس پہلے بھی ہو چکے ہیں۔سیاسی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کی سیاسی بھرتیوں کا نوٹس لیں اور کسی اہل اور ایماندار شخص کو ایم ایس عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال تعینات کریں تاکے ذلیل وخوار ہونے والے مریضوں کو صحت کی بنیادی سہولیات مل سکیں اور ہسپتال میں موجود مسائل حل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں