53

روہنگیا کے بعد آسام کا المیہ تحریر حمیداللہ بھٹی

ایک طرف تو دنیا میں انسانی حقوق کی باتیںرہی ہے اور غربت کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا جارہا ہے امیر ممالک اور تنظیمیں بے گھروں کی مشکلات کم کرنے کی خاطر امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں مگر زمینی حقائق یہ ہے کہ غربت کم کرنے ،بے گھروں کو چھت فراہم کرنے اور اُنھیں محفوظ رکھنے کی جتنی کوششیں جاری ہیں اُن کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہورہا جوں جوں شدت پسندی فوغ پا رہی ہے غربت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور بے گھر ہونے کے ساتھ شناخت کا مسلہ بھی شدت اختیار کرتاجا رہا ہے صاف ظاہر ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں بہتری لانے کی باتیں تو کرتی ہیں لیکن عملی طور پر کام کرنے میں امتیاز برتتی ہیں اسی وجہ سے کمزور پر طاقت ورکوستم ڈھانے کی شہ ملتی ہے اوروہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے حالات میں مستقبل قریب میں بھی بہتر ی کے آثار نہیں عین ممکن ہے اپنے جیسے انسانوں کا خون بہانے کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرجائے کیونکہ جن کوبے گھر ہونے یا شناخت کا مسلہ درپیش ہے اُن میں سے اکثریت مسلمانوں کی ہے اسی لیے اقوام ِ عالمِِ اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سُست روی کا شکاررہتی ہیں غیرمسلموں کی بات ہو تو عالمی اقوام اور تنظیمیں پوری طاقت صرف کردیتی ہیں اور محکوم کو حقوق دلا کردم لیتی ہیں سوڈان ا ورانڈونیشیاکی تقسیم سمجھنے کے لیے بہترین مثالیں ہیں مگرمسلم کشمیر،فلسطین ،بوسنیا ،عراق،شام،لیبیا،روہنگیا کے مسائل حل کرنے میںخا صی تاخیر سے دکھائی جاتی ہے جب تک ممکن ہو قتلِ عام سے چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے بلکہ کچھ ممالک حقوق دلانے کے نام پر کاروائیاں ہی مہلک ہتھیاروں سے کرتے ہیں لیکن لاکھوں انسانوں کو خاک کا رزق بنا کر شرمندہ نہیں ہوتے یہ مزہبی تفریق انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانبداری کی عکاس ہے۔بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پچاس لاکھ سے زائد افراد کو شہریت اورشناخت کا مسلہ درپیش ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اِ ن میں سے بیس لاکھ افراد کے نام قومی رجسٹر آف سیٹزن(این آر سی )سے نام نکال دیے گئے ہیں اور موقف یہ اپنایا ہے کہ جن کے نام نکالے گئے ہیں وہ بھارتی شہری نہیں بلکہ بنگالی ہیں اِس لیے وہ اپنے وطن بنگلہ دیش جائیں آسام بنگلہ دیش سے ملحقہ ایسی ریاست ہے جس کی کل آبادی 3کروڑ39لاکھ میں سے 34فیصد مسلمان ہیں جن میں ستر لاکھ بنگالی ہیں جو ناخواندہ ہونے کے ساتھ غریب ہیں اور کاشتکاری کرتے ہیں 1979میں آل انڈیا آسام سٹوڈنٹس نے غیر قانونی آباد کاروں کے خلاف تحریک چلائی 1984میں دوبارہ پُرتشدد واقعات ہوئے جن میں پچیس سو تارکین وطن کو ہلاک کر دیا گیامرنے والوں میں اکثریت مسمانوں کی تھی کیونکہ مسلہ مسلمانوں کا تھا اسی لیے راجیو گاندھی حکومت نے فیصلہ کیا کہ جو شخص 24 مارچ 1971سے پہلے آسام میں سکونت کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا اُ س کا ووٹ انتخابی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا لیکن یہ معاہدہ تو ہو گیا مگر عملدرآمد کبھی نہ ہو سکاجونہی بی جے پی کی انتہا پسند حکومت آئی اُسے تو مسلمانوں کو تنگ کرنے کا بہانہ مل گیا ریاستی باشندوں کی فہرست مرتب کی گئی اور اب اُنیس لاکھ آسامی مسلمانوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے جن کے ووٹ ختم کرنے کے ساتھ اُنھیں نظر بند کرنے کے لیے درجن کے قریب جیلیں تعمیر کی جا رہی ہیں متوقع احتجاج کچلنے کے لیے اسی ہزار پولیس اہلکار اور بیس ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں میانمار اسی طریقہ کارکو اپنا کر دس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے بھگا چکا ہے جو ہمسایہ ممالک میں بطور پناہ گزین مقیم ہیں اِس المیے پر دنیا سے جو ردِ عمل آنا چاہئے تھا نہیں آیا اسی لیے ہندوستان کو بھی شہ ملی ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی سے جان چھڑالے ابتلا کا وقت کتنا طویل ہوگا یا ختم ہوگا بھی کہ نہیں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا البتہ اِتنا کہہ سکتے ہیں کہ آسامی مسلمانوں کی مشکلات جلد جلد ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں ۔بھارت میں بڑھتی قوم پرستی اور انتہا پسندی کی لہر سے صرف مسلمان ہی غم و اندوہ کا شکار نہیں عیسائی اور سکھ بھی مظالم کا شکار ہیں فرق یہ ہے کہ عیسائی اور سکھ اکثریت زیرِ عتاب نہیں جس طرح مسلمان ظلم وتشدد کا سامنا کررہے ہیں گائو رکھشا بریگیڈ آئے روز گائے کا گوشت رکھنے کا الزام لگا کر مسلم افراد کو تشدد سے قتل کر دیتے ہیں حالانکہ سچ یہ ہے کہ بھارت دنیا میںگائے کا گوشت برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن گائو رکھشا بریگیڈ نظر نہیں آتا انھیں بس یہ نظر آتا ہے کہ مسلمان گائو ماتا کا گوش کھاتے ہیں اِس لیے ماتا کے گوشت خوروں کو مارنا جائز ہے لیکن بھارت میں ایسے تضاد عام ہیں۔شناخت و شہریت کے مسلے سے دوچار آسامی مسلمان شدید ازیت کا شکار ہیںلیکن دنیا بھی اِس مسلے کو سنجیدہ نہیں لے رہی ابھی تو بیس لاکھ افراد کا دنیا کو علم ہوا ہے مگر غیر جانبدار حلقے شہریت کے مسائل سے دوچارافراد کی تعدادپچاس لاکھ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں آسامی مسلمانوں کی بڑی تعداد کو کیمپوں میں قیدکا سامنا ہے جہاں مسلم بچیوں کی اجتماعی آبروریزی عام بات ہے سیکورٹی اہلکار آئے روز خواتین کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور جب تک جی نہیں بھرتا عصمت دری کرتے ہیں اور جب جی اوبھ جاتا ہے تو اُٹھائی گئی عورت قتل کر دی جاتی ہے وگرنہ گھر والے بھی قبول نہیں کرتے اور وہ دربدرہو کررہ جاتی ہے ایسی کہانیاں آسام کے طول وعرض میں عام ہیں مغوی خاتون کے لیے آواز اُٹھانے والے کو موقع پر ہی مارنا بھی عام ہے اسی لیے ڈروخوف کے مارے اکثر ورثا چُپ رہتے ہیں انتہا پسند بھارتی حکومت مسلمانوں سے دھرتی پاک کرنے کی ہر سازش کی سرپرستی کرتی ہے بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم حسینہ واجد پر بھارت کے عشق کا بھوت سوار ہے اسی لیے اُسے کچھ نظر نہیں آتا وہ پاکستان دشمنی میں اتنی اندھی ہوگئی ہے کہ آسام میں مسلم نسل کشی بھی دیکھنے سے قاصر ہے اسی لیے شناخت و شہریت کے مسلے سے دوچار آسامی مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ُن کے مسائل دنیا کے سامنے لانے اور حق کے لیے آواز اُٹھانے کم ہیں جنھیں ہندو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں۔ بے شناخت اور شہریت کے مسلے سے دوچار عام لوگ ہی نہیں بلکہ پولیس اور فوج میں خدمات انجام دینے والے بھی ہیں عوامی عہدوں ریاستی اسمبلی میںممبران،کونسلر اور لوکل باڈی کے اداروں میں سربراہ رہنے والے بھی ہیں صاف نظر آتا ہے بھارت کے سابق صدر کے خاندان کے افراد بھی مسلمان ہونے کی وجہ سے اسی ازیت کا شکار ہیں کیونکہ بھارت ہندوریاست بننے کے لیے کوشاں ہے اور مسلمانوں کا وجود مٹانے کے درپہ ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بیس لاکھ افراد کی شہریت منسوخی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور نیم عدالتی اداروں کے فیصلوں کو امتیازی اور جانبدار قرار دیا ہے فورم فار سول رائٹس کے چیئرمین منصور آغا نے سارے معاملے کو سیاسی کہتے ہوئے اقلیتوں کو ہدف بنانے سے تعبیر کیا ہے آسام کے سابق وزیراعلٰی ترون گوگوئی نے کاروائی پر ناخوشی ظاہر کی ہے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے امیت شاہ کو زمہ دار قرار دیا ہے جبکہ بیالیس سالہ سائرہ بیگم نے فہرست میں نام نہ آنے پر کنویں میں کود کر خود کشی کر لی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اب بنگلہ دیش سمیت مسلم امہ اور عالمی رہنما کیا کرتے ہیں عین ممکن ہے امارات کی طرح حسینہ واجد بھی مودی کے لیے کوئی اعزاز کا اعلان کر دیں مگر مہذب دنیا کی چُپ المیے کی شدت میں اضافہ کر دے گی المیے کو روکا نہ گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں