28

خیر گھنسار کے نوجوان کا اغواء کے بعد قتل، پولیس کا مدعیوں سے ہتک آمیز رویہ

کوٹلہ ارب علی خان(نمائندہ خصوصی)خیر گھنسار کے نوجوان کا اغواء کے بعد قتل، پولیس کا مدعیوں سے ہتک آمیز رویہ، تھانے بلا کرمقتول کے والد کو دھکے ،بھائی کو تھپڑ دے مارے۔ قتل کے وقوعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش۔ مقتو ل کے گاؤں والے پریس کانفرنس میں پھٹ پڑے ،پریس کلب کوٹلہ کے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے اشکبار۔تفصیلات کے مطابق چوبیس اگست کو نواحی گاؤں خیر گھنسار سے نوجوان راجہ عثمان لاپتہ ہوا جس کی گمشدگی کی اطلاع پولیس تھانہ ککرالی کو دی گئی ۔اسی دوران گھر والوں نے نوجوان کے موبائل کی ڈاٹا حاصل کرکے خود بھی تلاش جاری رکھی ۔اس نوجوان کا آخری وقت میںنواحی گاؤں کے ایک شخص کے موبائل پر رابطہ تھا لواحقین نے جن کے ساتھ رابطہ تھا ان سے بھی ملاقات کی اور نوجوان کے بازیاب کرانے کی درخواست کی جس پر اس نوجوان نے بتایا کہ یہ سم میں نے اپنی چچا زاد کو لیکر دی تھی اب اس کے استعمال میں ہے جب لواحقین نے اس لڑکی کے گھروالوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہم لڑکے سے آپکا رابطہ کروا دیتے ہیں ۔لیکن دوسرے دن مغوی کی لاش قطب گولڑہ کے قریب ملی جس کا مقدمہ تھانہ گلیانہ میں درج کیا گیا۔پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے مطابق نوجوان کا گھلاگھونٹ کر قتل کیا تھا اور لاش تین دن پرانی تھی۔پولیس تھانہ گلیانہ نے جس لڑکی سے نوجوان کا رابطہ تھا اس کو اور اس کے چچا زاد کوتفتیش کیلئے حراست میں لے لیا جنہیں تین چار روز کے بعد مدعیان کو کوئی تفصیل بتائے بغیر رہا کردیا گیا۔ اسی دوران مدعیوں نے بتایا کہ مقتول عینک استعمال کرتا تھا وہ کہیں نہیں ملی تو دوسرے دن تفتیشی نے انہیں عینک بھی دکھا دی ، پتہ کرنے پر بتایا گیا کہ جائے وقوعہ سے بعد میں ملی، لیکن لواحقین نے چیک کیا تو بارش کی وجہ سے گیلی جائے وقوعہ پر کسی کیء جانے کے کوئی نشانات موجود نہ تھے۔اور نہ ہی ایس ایچ او کے علم میں یہ بات تھی۔ مقتول کے والد نے بتایا کہ موبائل کا ڈاٹا ہم نے فراہم کیا، فرانک لیب تک تفتیشی صفت اللہ کو ہم خود لیکر گئے ہر قسم کا ثبوت ہم خود مہیا کر رہے ہیں پولیس ہمیں محض طفل تسلیاں دیکر ٹرکا رہی ہے ،نشاندہی شدہ ملزمان کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی بلکہ انہیں بچانے کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے قتل کو خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔جبکہ جہاں سے لاش ملی وہاں ایسے کوئی شواہد نہیں کہ پتہ چلے کہ خود کشی ہوئی ہے۔ اور پوسٹمارٹم رپورٹ بھی گلا گھونٹنے سے موت واقع ہونیکا ثبوت ہے۔گزشتہ روز ہمیں تھانہ گلیانہ میں بلوا کر بند کمرے میں ملزمان سے راضی نامہ کرنے کا دباؤ دالنے کی کوشش کی گئی ۔تھانے میں مقتول کے بزرگ والدعبدالرحمن کو دھکے دئیے گئے اور مقتول کے بھائی پاک فوج کے ملازم حسنین کو تھپڑ مارے گئے ۔ لواحقین کے ہمراہ اہل دیہہ موجود تھے جنہوں نے پولیس کے نامناسب اور ہتک آمیز رویے کی شکایت کی ،مقتول عثمان کے لواحقین نے آرمی چیف، وزیر اعلیٰ ، ڈی پی او ، ڈی ایس پی سے اپیل کی ہے کہ اس کیس کی غیر جانبدار انکوائری کرکے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم ڈی ایس پی، ڈی پی او، وزیر اعلی ٰ ،اور وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں