503

خطرناک اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی گرفتار

گجرات(پ ر)بین الاضلاعی کرائے کا قاتل ،ڈکیت،اغواء کار اور خطرناک مجرم اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی فیصل آبادسے گرفتار ۔تفصیلات کے مطابق ڈی پی او سیدعلی محسن کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے انتہائی محنت ،جانفشانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے درندہ صفت کرائے کا قاتل اور خطرناک مجرم اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی ولد علی احمد قوم آرائیں سکنہ چک نمبر 655/6گ ب تھانہ لنڈیانوالہ تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آبادکو گرفتار کرلیا۔جوکہ معاشرے کیلئے ناسور بن چکا تھا اور اس نے تھانہ صدر سرائے عالمگیر کے علاقہ ڈھوری میں 27لاکھ روپے لے کر1۔شرجیل ولدشبیر حسین 2۔ محمد اعظم ولد راج ولی 3۔ شیر باز ولد محمد اعظم ا قوم اعوان سکنائے ڈھوری کوساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ کرکے قتل کیا ،اس وقوعہ کے دو ماہ بعد درندہ صفت قاتل نے ساتھیوں کے ہمراہ مسمی ساجد اقبال ولد محمد اعظم کو بھی 25لاکھ روپے کے عوض فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتارا ۔ یکے بعد دیگرے چار افراد کے قتل نے سرائے عالمگیر کے علاقہ میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا اورخطرناک قاتلوں کی گرفتاری مقامی پولیس کے چیلنج بن گئی ۔جسیمورخہ 08.12.18 کو پولیس ٹیم نے محکمانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کے آبائی گاؤں سے گرفتار کرلیا ۔جس کے قبضہ سے تین عدد رائفل کلاشنکوف، 2عدد پسٹل 30بوراور وارداتوں میں استعمال ہونے والا ایک عدد موٹر سائیکل برآمد ہوا ۔ذوالقرنین عرف ذولی واردات کرنے سے پہلے مکمل منصوبہ بندی کرتا اور خود کاراسلحہ سے لیس ہو کر گاڑی میں جائے وقوعہ کے قریب پہنچتا اورپھر وہاں سے موٹرسائیکل پرسوار ہوکر واردات کرتا ۔قتل کے بعد موٹر سائیکل پر سوار ہوکر فرار ہوجاتا اور پھر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ کر اسلحہ وغیرہ لے کر دور دراز نکل جاتا ۔دوران انٹیروگیشن مجرم اشتہاری ذوالقرنین نے بتایا کہ اس نے سال 2011میں جرم کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے گاؤں کے انسپکٹر فیض احمد کے بیٹے محمد بلال کوتھانہ لنڈیانوالہ کے علاقہ سے تاوان کیلئے اغواء کیا اور تاوان ادا نہ کرنے پرانتہائی بے دردی سے قتل کردیا۔بعد ازاں لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نہر میں پھینک دی ۔ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 8مورخہ 08.01.11جرم/201/34/7ATA 302/365A تھانہ لنڈیانوالہ درج ہوا ، جس میں اسے مقامی پولیس نے گرفتار کرکے حوالات جوڈیشل بجھوایا ،جہاں سے وہ رہا ہو کر دوبارہ بڑا مجرم اور کرائے کا قاتل بن گیا ۔مجرم نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سرائے عالمگیر کے گاؤں ڈھوری میں دو گروپوں ملک رشید اورملک بشارت عرف بشارتی کے درمیان قتل کی دشمنی چل رہی تھی ، دونوں گروپوں نے سال 2017میں آپس میں ایک دوسرے گروپ کے افراد کو قتل کیا۔ ملک رشید کا بیٹا عادل رشید اور اس کے دیگر رشتے دارجو بیرون ملک ہوتے ہیں،انہوں نے ملک رشید کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اسے اوراس کے ساتھی محمود عرف دولا سکنہ ننکانہ سے رابطہ کر کے اپنے مخالفین کو قتل کرانے کا سودا طے کیا۔ جو مورخہ 14.03.18کومسمیان3کس 1۔شرجیل ولدشبیر حسین 2۔ محمد اعظم ولد راج ولی 3۔ شیر باز ولد محمد اعظم ا قوام اعوان سکنائے ڈھوری کو رقم مبلغ 27لاکھ روپے لے کر قتل کیا ۔جس پر مقدمہ نمبر 73مورخہ 14.03.18جرم 302/148/149/109ت پ تھانہ صدر سرائے عالمگیر درج ہوا اور مقدمہ ملک رشید گروپ کے بیٹے عادل رشید اور دیگر رشتے داروں پر درج ہو گیا۔جبکہ ذوالقرنین اپنے ساتھی کے ہمراہ اسلحہ لے کرموقع سے فرار ہوگیا ۔مورخہ 06.05.18کوذوالقرنین نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 25لاکھ رقم لے کر مسمی ساجد اقبال ولد محمد اعظم کو قتل کیا اور موقع سے بسواری موٹر سائیکل فرار ہو گئے ۔جس کا مقدمہ ملک عادل رشید کے رشتے داروں اور 2کس نامعلوم کے خلاف مقدمہ نمبر 106مورخہ 06.05.18جرم 302/324/148/149/109ت پ تھانہ صدر سرائے عالمگیردرج رجسٹر ہوا اور مسمی ذوالقرنین عرف ذولی ساتھی کے ساتھ فرار ہو گیا ۔گرفتار قاتل نے مزید انکشا ف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے تھانہ لنڈیانوالہ ضلع فیصل آباد میں دہشت گردی ،اغواء برائے تاوان، قتل ،اقدام قتل ،ڈکیتی ،رابری اور پولیس مقابلے کی14مختلف وارداتیں کررکھی ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں