11

جامعہ گجرات میں ایک پُروقار سیمینار”مسئلہ کشمیر: مشکلات و ممکنات” کا انعقاد

گجرات (جی پی آئی) جامعہ گجرات کے شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام ایک پُروقار سیمینار”مسئلہ کشمیر: مشکلات و ممکنات” کا انعقاد حافظ حیات کیمپس میںہوا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سابق وائس چانسلر بہاء الدین زکر یایونیورسٹی ملتان و سفیر پاکستان پروفیسر ڈاکٹر سید خواجہ علقمہ تھے۔ صدارت وائس چانسلر جامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق نے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر سید خواجہ علقمہ نے موجودہ تناظر میں مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوئووں اور حل کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان سے وابستہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل گہرے فکر و تدبر کا متقاضی ہے۔ دور حاضر میں کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے ہمیں علمی و معاشی جہاد کی اشد ضرورت ہے۔ انفرادی و اجتماعی سطح پر خود کو علم کے ذریعے مضبوط بنا کر مسئلہ کشمیر کو حل کر وایا جا سکتا ہے۔ پاکستان افرادی قوت اور قدرتی وسائل سے بھرپور سرزمین ہے۔ گلوبلائزیشن کے ذریعے امیر ممالک غریب دنیا کے وسائل پر قبضہ کی راہ پر گامزن ہیں۔ آج تمام دنیا میں علمی معیشتیں ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ معاشی ، سماجی اور علمی لحاظ سے مضبوط پاکستان کشمیر ی عوام کو بھارت کی چیرہ دستیوں سے نجات دلانے میں مددگار ثا بت ہو گا۔ سیمینار کے دیگر مہمانان اعزازی میں معروف تاریخ دان پروفیسر سید امتیاز حیدر شاہ ، ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر فوزیہ مقصود شامل تھے جبکہ چیئر پرسن ڈاکٹر محمد مشتاق نے نظامت کے فرائض سرانجام دئیے۔ پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق نے کہا کہ علاقائی امن کو قائم رکھنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر پاکستان کا عوامی مسئلہ بن چکا ہے اور پاکستانی عوام جذباتی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ کشمیری عوام بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہیں مگر آزادی ہمیشہ قیمت مانگتی ہے۔ جامعہ گجرات کشمیری عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کی راہ پر گامزن ہے۔پروفیسر سید امتیاز حیدر شاہ نے کہا کہ قومیں ہمیشہ معاشی و علمی برتری کے بل بوتہ پر جنگیں جیتتی ہیں۔ بھارتی حکومت کشمیری عوام کے متعلق مکمل بے حسی کا مظاہر ہ کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداوں کی رو سے کشمیریوں کو آج تک آزادنہ استصواب رائے کا حق نہیں دیا گیا۔ آج کشمیر میں انسانیت سسک رہی ہے اور کشمیریوں کی آزادی کو غصب کر لیا گیا ہے۔ سید امتیاز احمد حیدر نے خطۂ کشمیر کا تاریخی تناظر میں ایک سیر حاصل جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر فوزیہ مقصود نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے اصل محرکات و عوامل پر تحقیقی نکتہ نظر اختیار کرتے ہوئے ایک پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جذباتی کی بجائے تحقیقی و تفہیمی نکتہ نظر کشمیر ی عوام کو ان کے مصائب سے نجات دلا سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے اقوام عالم کو پاکستانی موقف سے روشناس کروانا جامعات کا قومی فریضہ ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی و استحصالی کے لیے آوازہ حق بلند کرنا پاکستانی قوم کا فرض اولین ہے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق نے سیمینار کے انعقاد کے لیےUOGپولیٹیکل سائنس سوسائٹی کے عہدیداران و کارکنان کا پرزورشکریہ اداکیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں