115

خاک ہو جائیں گے تجھ کو خبرہونے تک۔۔۔ ۔تحریر( نصراللہ چوھدری)۔۔۔

خاک ھو جائیں گے۔
۔تم کو خبر ھونے تک۔۔۔
۔تحریر( نصراللہ چوھدری)۔۔۔
اہلیاں سپین جس طرح کرونا وائرس کے سانحہ میں قیامت کے مناظر کواس قدر قریب سے دیکھ رھےھیں۔اس کی سابقہ کسی ادوار میں مثال نیہں
۔اپنے چاھینے والوں۔ اپنے پیاروں کو اپنے سامنے جاتے ھوئے بے بسی سے دیکھ رھے لیکن کچھ کر نیہں سکتے۔
بے بسی کا عالم یہ ھے کہ جنازہ میں بھی سب شریک نیں ھو سکتے۔ایک ملک سے دوسرے ملک جانا بھی ممکن نیہں رھا۔
۔ یہ لوگ آپنےپیاروں سے کوسوں دور دیار غیر میں بےیاروں مد دگار کسی ایسے مسیحا کا انتظار کر رھے ھیں جو ان کے دوکھوں کا مدوا کرسکے۔
۔ان کے پیاروں کی ڈیڈ با ڈیز کو ھی اپنے گھر پیارے وطن پہنچا دے تاکہ دو گز زمین اور آپنے وطن کی مٹی تو کم از کم نصیب ھو سکیے۔
گزشتہ ایک ماہ سے اس موذی مرض کے ھاتھوں تقریبا ایک درجن کے قریب پاکستانی زندگی کی بازی ھار چکے ھیں اور ان کی معیتں سرد۔خانوں میں پٹری ھوئئ ھیں ایل خانہ نہ کسی کو بتا سکتے ھیں۔اور کچھ کے پاس تو یہاں زمین خرید کر دفنانے کے پیسے بھی نیہں۔
۔لیکن اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ھے۔پاکستانی کمیونٹی کی مختلف تنظیمیں کوشش کے باوجود انھیں پاکستان بھجوانے میں بری طرح ناکام نظر آتی ھیں
۔اور کچھ میرے مہربان جن کی اصل ڈیوٹی ھے ان لوگوں کی مدد کرنے کی ۔ ان کی جہدوجہد فیس بک پر بھرپور طریقہ سے نظر آتی ھے لیکن عملی طور پر زیرو ھے
لیکن یہ بات ضرور ھیں ان کے ھاشیہ بردار انھیں کسی ھیرو سے کم پیش نیہں کرتے اور یہی ھماری بدقسمتی ھے۔
جہاں تک پاکستانی حکومت کا تعلق ھے۔تواس نے اپنے ھی لوگوں کو تنہا چھوڑ رکھا ھے
اگرچہ یہ لوگ جو پردیس میں ھیں اپنے ھی لوگوں کے لیے اور ان کی اچھی زندگی کا خواب لے کر یہاں آئے تھے۔
اور گھروں سے بے گھر ھوئے اور یہ لوگ ھرمشکل گھڑی میں اپنی عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑےنظر اتے ھیں۔
لیکن ان حالات میں اور اس مشکل وقت میں
بدقسمتی سے اتنے دن گزر جانے کے باوجود حکومت جس بے حسی کا مظاھرہ کر رھی ھےسب کے سامنے ھیں ویسے تو ھر ایرے غیرت نتھو خیرے کے لیے خصوصی طیارہ بھی دیا جاتا ھے لیکن اپنے شہریوں کی میتیں لے جانے سپین حکومت سے بات کرنے میں یہ لوگ نااھل ثابت ھوئے ھیں ۔
اس مشکل گھڑی میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے چند ایک مخلص لوگ ھیں جو اپنی مدد آپ کے تحت کام کررھے۔ھیں جن میں سرفہرست مرد بحران نوید وڑائچ ھے اور عوام کو درست معلومات دینے والوں قانونی طور پر راھنما ھی کرنے والوں میں ملک عمران اور نوید احمد اندلئسی شامل ھیں۔
پاکستانی صحافی برادری کئی دنوں سے حکومتی ناخداوں کو بتا رھی ھے کہ ان کی مدد کی جائے لیکن کسی کہ کان پر کوئئ جو تک نیہں ریننگی۔ اور نہ انھیں ھوش آئی ھے۔
مخیر۔حضرات میں سے امتیازاکیہ۔ افتاب اشرف۔ جیسے چند ایک لوگ سامنے آئے ھیں۔باقیوں کو سانپ سونگ گیا ھے
پاکستانی کمیونٹی پاکستان حکومت اور وزیر اعظم سے سخت مایوس ھو رھی ھے اور اس بات کا عہد کرنے جارھی ھے کہ۔اگر اس وقت اورسیزز کی مدد نہ کی گی۔تو اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور آیندہ ملک کے نام پر بھیک بند کروا دی جائےگی ۔
اور مقامی حکومت سے گزارش کی جائے گی کہ اس مانگت گروپ کا داخلہ بند کر دیا جائے ۔
ویسے تو مایوسی گناہ ھے ۔اور کچھ درد دل رکھنے والوں اور اپنی مد دآپ کے تحت ان با ڈیز کو جلد پاکستان بھجوانے کا انتظام ھو جائے گا۔ لیکن حکومتی رویہ ھمشہ یاد رھے گا
اس وقت کچھ لوگوں اور حکومتی بے حسی پر دوکھ کے ان لمحات میں مجھے وہ پنجابی شعر یاد ارھا ھے۔
جھوٹے یار دی یاری جیوئے۔روکھ کھنجور۔دھوپ لگے تے چھاؤں نہ دیندا۔
بھوک لگے پھل دور۔

اپنا تبصرہ بھیجیں