156

نوجوان افرادی قوت ایک اثاثہ تحریر حمیداللہ بھٹی

    پاکستان کا شماردنیا کے چند ایسے بڑے ممالک میں ہوتا ہے جن کی آبادی کا نصف سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے جن سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا اگرنوجوان فرادی قوت سے فائدہ اُٹھایا جائے تومعاشی مسائل پر بڑی حد تک قابو پایاجاسکتا ہے مگر بدقسمتی سے نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے ملک کا ناکارہ طبقہ سمجھ لیا گیاہے اسی بناپر قوم کواِس قوت سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا نوجوان بے قدری کا شکاراوربے روزگاری کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہےں جس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اُٹھانے اور اُنھیں کارآمد بنانے کے لیے جس دلچسپی کی ضرورت تھی اُس کا مظاہرہ نہیں کیا گیا حالانکہ موجودہ حکمران جماعت کو اقتدار دلانے میں نوجوانوں کا ہاتھ ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ملکی تاریخ میںپہلی بارووٹ ڈالنے کی شرح پچاس فیصد کا ہندسہ کراس کرگئی قبل ازیں ہر انتخابی عمل میں ووٹ ڈالنے کی شرح تیس سے چالیس کے درمیان رہی مگرجب نوجوان متحرک ہوئے اورانتخابی عمل کا حصہ بنے تو ووٹ ڈالنے کی شرح میں خوشگواراضافہ ہوا جس کی بنا پرتیس سے چالیس کی شرح یکلخت پچاس سے پچپن فیصد سے تجاوز کر گئی جس کا سہرا بحرحل عمران خان کی کرشماتی شخصیت کو جاتا ہے انھوں نے بدعنوانی کے خلاف ایسی شاندار اور زوردار مُہم چلائی جس نے نوجوانوں کو نہ صرف جگایا بلکہ اُنھیں ووٹ ڈالنے پر مجبور کردیا اب بھی اگر مقبولیت جانچنے کی کوشش کی جائے تو اِس امر میں شائبہ نہیں کہ ملک کے طول و عرض میں عمران خان کے حامیوں کی اکثریت اب بھی نوجوان طبقے پر مشتمل ہے مگرحکومت کی نوجوانوں کے حوالہ سے کارکردگی دیکھیں تو ایسا کوئی تاثر نہیں ملتا کہ اُسے اپنے حمایتیوں کی اکثریت کا احساس ہے یاوہ حمایتی اکثریت کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کی ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو یہ پہلو باآسانی محسوس ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں نے اقتدار میں آکر بے روزگار نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کیا جس کا خمیازہ گزشتہ عام انتخاب2018 میں بھگتنا پڑا کیا تحریکِ انصاف بھی سابق حکمران جماعتوں کے نقشِ قدم پرچلنا چاہتی ہے ؟حکومتی ترجیحات کو مدنظرِ رکھیں تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ حکمران جماعت کو ھریف جماعتوں سے کچھ مختلف کرنے کی زمہ داری کا احساس نہیں۔
    کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے حکومت نے معقول رقم مختص کی مگر قرضہ لینے کا طریقہ کار اِتنا مشکل اور پچیدہ ہے کہ کوئی شرائط پوری ہی نہیں کرسکتا اسی لیے مختص رقم کا نصف بھی استعمال نہیں ہوسکا وجہ یہ ہے کہ عام نوجوان کے پاس گروی رکھنے کے لیے یاتو اثاثے نہیں اور اگراثاثے ہیں تو مطلوبہ فنی صلاحیت نہیں اسی بنا پر کامیاب پروگرام سے کسی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوابلکہ یہ منصوبہ کاغذوں کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے علاوہ ازیں جو چند ایک قرضہ پاس کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں شرح سود اِتنی زیادہ ہے کہ کاروبار سے اِتنی زیادہ قسط کی ادائیگی ممکن ہی نہیں اسی بنا پر نوجوان کامیاب ہونے کی بجائے ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں اگر حکومت نے اپنی مقبولیت برقراررکھنا اور اُس میںاضافہ کرنا ہے تو نوجوانوں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے روایتی پالیسیوں پر چلنے کی بجائے کچھ منفرد کرنا ہوگا یہ بات شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ عمران خان کو نوجوانوں نے آخری امید سمجھ کر ووٹ دیے ہیں اگر آخری امید بھی پوری نہیں ہوتی تو نوجوان نسل کی مایوسی میں اضافہ ہو گا۔
    عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کی 22کروڑ آبادی کا چونسٹھ فیصدایسے نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر تیس برس کم ہے اِتنی بڑی افرادی قوت کو روزگار دینے کے لیے پاکستان کو اپنی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں سالانہ سات فیصداضافہ کرنا چاہیے عالمی بینک نے بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے تکنیکی اور پیشہ وارانہ تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت پربھی زور دیا ہے تاکہ ملکی اور عالمی مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق افرادی قوت کو تیار کیا جا سکے کرونا کی حالیہ وبا کے تناظر میں عالمی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگلے برس کے دوران دنیا کو پانچ کروڑ پینسٹھ لاکھ ہنر مندوں کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
    جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد نوجوان آبادی کے لحاظ سے پاکستان دوسرابڑا ملک ہے لیکن فنی مہارت کے حوالے سے پاکستان میں قائم اِداروں پر نگاہ دوڑائیں تو کوئی خوش کن تصویر نظر نہیں آتی ہمارانوجوان جدید دنیا کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہے جس کی بڑی وجہ فرسودہ نظامِ تعلیم ہے ہمارانظامِ تعلیم کلرک تو بڑی تعداد میں مہیا کر رہا ہے لیکن پیشہ وارانہ مہارت کا فقدان ہے فنی تعلیم وتربیت کے جو اِدارے ہیں اُن کا بھی معیار بہت پست ہے اسی لیے فارغ التحصیل کی دنیا میں کوئی مانگ یا اہمیت نہیںضرورت اِس امر کی ہے کہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایسے نوجوان تیار کیے جائیں جو نہ صرف دنیا سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکیں بلکہ ملک کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوں۔
     ہمارے نوجوان ملک میں روزبروز روزگار کے کم ہوتے مواقع دیکھ کر نہ صرف دلبرداشتہ ہو رہے ہیں بلکہ مایوسی کا شکار ہو کر چورراستوں سے بیرونِ ملک بھاگ رہے ہیں ایسے نوجوان راستوں کی مشکلات کے باوجود اگر منزل پر پہنچ بھی جائیں تو سوائے مزدوری کے کچھ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ زبان نہ جاننا اور ہُنر مند نہ ہونا ہے اسی بنا پر اِ ن کاحق کثر مڈل مین مار جاتے ہیں مگر یہ نوجوان زبان سے لاعلمی کی بنا پر اپنے حقوق کا بھی صیح طرح تحفظ نہیں کر سکتے اسی لیے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی کا بڑا حصہ بطور مزدور گزار دیتے ہیں اگر ترقی کرنی ہے اور جدید دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں طریقہ کار بدلنا ہوگا بڑی افرادی قوت کوملک میں کھپانے کے لیے ہمارے پاس مواقع محدود ہیں مگر عالمی مارکیٹ میں نوجوانوں کو اچھا روزگار دلایا جا سکتا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ نظام تعلیم میں تبدیلیاں لائی جائیں اور ملک میں پیشہ وارانہ تربیت و مہارت کے اِداروں کا جال بچھایا جائے جہاں سے مختلف شعبوں کے ماہر پیداکیے جائیں جو نہ صرف اپنے شعبوں کے ماہر ہوں بلکہ انھیں مختلف زبانوں پر بھی عبور ہو۔
     بھارت کی مثال لے لیں سچ یہ ہے کہ ہندوملک ہو کر اُس نے ہم سے عرب ممالک کی مارکیٹ چھین لی ہے عرب ممالک میں پاکستان کی بجائے بھارتیوں کومہارت کے ساتھ زبان جاننے کی وجہ سے ترجیح دی جاتی ہے اسی بنا پر اعلٰی عہدوں پرہندوکو رکھا جاتاہے لیکن پاکستانی اکثریت مزدور پیشہ ہے جو کم تنخواہ کے ساتھ زلت بھی اُٹھاتے ہیں اور گھرسے دوری کے باوجود ملک یا اپنے خاندان کے لیے زیادہ فائدہ مندبھی ثابت نہیں ہوتے مختلف شعبوں کے ماہر اور دیگر زبانوں سے آراستہ کرنے سے عالمی مارکیٹ میں نوجوان افرادی قوت کو باعزت روزگار دلایا جاسکتا ہے لیکن یہ کام تبھی ہوگا جب حکومت اپنا کام کرے سفیر دیگر ممالک میں عیاشی کرنے نہیں بلکہ ملکی مفاد کا تحفظ کریں اور ہم وطنوں کو روزگار دلانے کے لیے روابط بڑھائیں نظام ِ تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں لانے کاکام حکومت نے کر لیا تو نہ صرف بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا بلکہ نوجوان ووٹر کا اعتماد بحال رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی اورملک کو معاشی لحاظ سے بھی مستحکم کیا جا سکتا ہے ۔

hameedullahbhati@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں