38

ہیجان نہیں تحمل:تحریر حمیداللہ بھٹی

کیا ہم سدھر سکتے ہیں یا نقصان اُٹھا کر بھی سرپھٹول نہیں چھوڑیں گے؟ہمیں کسی نے نہیں سمجھانا بلکہ اپنے قول و فعل کو مدنظر رکھتے ہوئے اِس سوال کا جواب خود تلاش کرنا ہوگا اِس میں کوئی شائبہ نہیںکہ کرونا سے حالات روزبروز خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر دیگر ممالک کے حالات کو پیشِ نظر رکھیں تو صورتحال کافی بہتر ہے جس میں موسمی حالات کا بھی بڑاعمل دخل ہے حکومت بھی ہیجان کا شکار نہیں ہوئی بلکہ تحمل سے حالات بہتر بنانے کی کوشش ہے وفاقی کابینہ نے نہ صرف سوارب کے ہنگامی فنڈ کی منظوری دی ہے بلکہ بارہ سوارب کا ریلیف پیکج بھی منظور کر لیا ہے سٹیٹ بینک نے قرضوں کی ادائیگی ایک برس کے لیے موخر کر دی ہے چین سے طبی آلات کی پانچ کھیپ پہنچ چکی ہیں مزید اربوں کا طبی سامان خریدنے کے آرڈر دیا جا چکا ہے خریدا سامان لانے کے لیے پانچ پروازیں چین بھیج رہی ہے جو این95 ماسک،گلوز،ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر طبی آلات لے کر آئیں گے جس کا مطلب ہے کہ حکومت میں لاکھ خامیاں سہی مگر وہ اپنی زمہ داریوں سے آشنا ہے لیکن اکیلی حکومت وبا پر قابو نہیں پا سکتی جب تک لوگ تعاون نہ کریں جو لوگ فلاحی کاموں میں حصہ لینے کی سکت نہیں رکھتے وہ کم ازکم احتیاطی تدابیر پر ہی عمل کر لیں تو کرونا کے پھیلاﺅ پر قابو پایا جا سکتا ہے ےاد رکھیں کرونا کو محدود کرنے کے لیے واحد حل آئسولیشن ہے آپ گھر بیٹھ کر نہ صرف خود محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اپنے پیاروں کو بھی کرونا کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔
سوشل میڈیا آگاہی کا زریعہ ضرور ہے مگر ہر بات مصدقہ یا مستند نہیں ہوتی بلکہ سنی سنائی بات آگے بڑھانے سے ہیجان پید اہوسکتا ہے یہ نہیں کہتے کہ آپ سوشل میڈیا ترک کردیں لیکن سنسنی پھیلانے میں حصہ نہ لیں بلکہ تحمل اور بردباری کا مظاہر کریں یہ ملک ہمارا ہے بگاڑ میں حصہ لینا پاکستانیت نہیںلہذا زمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کریںمسلم لیگ ن نے سنیئرپارٹی رہنماﺅں کی ویڈیولنک کے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا ریلیف فنڈ میں آنے والی بیرونی امداد اور استعمال کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے وگرنہ عالمی وبا کے خلاف امداد سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے نواز شریف اورشہباز شریف کو پاکستان سے بہت عزت ملی باوجود کئی طرح کی الزام تراشی کے باوجود اب بھی ملک کا بڑا طبقہ اُنھیں بے گناہ سمجھ کرووٹ دیتا ہے پھر بھی ایسا غیرزمہ داری کا مظاہرہ مناسب نہیں کیا وہ نہیں جانتے کہ بیرونی دنیا پہلے ہی پاکستانیوں کو بدعنوان اور بددیانت سمجھتی ہے زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے دنیا نے بڑھ چڑھ کر ہماری مددکی مگر سیاسی قیادت کی سرپھٹول سے اب کم ہی لوگ ہم پر اعتبار کرتے ہیں چین کے ہم سے مفادات وابستہ ہیں اور بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہمارامضبوط اور خوشحال ہونا اُس کی مجبوری ہے مگر ہم نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو یہ دوست بھی کھو بیٹھیں گے اِس لیے زمہ داری کا مظاہرہ کریں اور احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں
کرونا دنیا کی گیارہویں وبا ہے قبل ازیں طاعون ،خسرہ ،چیچک ،کالا یرقان ،ہیضہ ،فلو اور ایڈز سے دنیا میں کروڑوں لوگ جا ن سے ہاتھ دھو چکے ہیں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کرونا کا ابھی علاج دریافت نہیں ہوا ڈاکٹر ز بھی کرونا کے مریضوں کو پیناڈول اور وٹامن سی کی گولیاں وغیرہ دیکر علاج کر رہے ہیں یا پھرقوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے فروٹ میں کنو یا ایسا پھل جس میں وٹامن سی ہو کھلانے کی ہدایات پر اکتفا کیے ہوئے ہیں میرا مقصد کسی کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ سماجی میل جول ختم کرنے یا پھر مناسب فاصلہ رکھنے سے آپ بیماری کو گھر لانے سے بچ سکتے ہیں تو پھر کیا یہ مناسب نہیں کہ اپنی سرگرمیاں محدود کرلیں اور تعلیمی اداروں اور حکومتی دفاتر سے ملنے والی چھٹیاں دعوتیں کرنے اور کھلیوں کے مقابلے کرانے میں نہ گزاریں اگر آپ گھر میں بیٹھنا بیکارسمجھتے ہیں اور کچھ کرنا ہی چاہتے ہیں تو گھروں میں ماسک تیار کرکے اِردگرد تقسیم کردیں یا پھرکھانا تیارکرکرکے ہمسایوں یا ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں تک پہنچا دیں اِس سرگرمی سے آپ کافی لوگوں کا بھلا کرسکتے ہیں۔
ملک میں امتحان کی گھڑی ہے لیکن خوف وہراس کا شکار ہونا بھی غلط ہے کرونا جان لیوا مرض نہیں مگر کم قوتِ مدافعت کے حامل لوگوں کے لیے کرونا وائرس جان لیواثابت ہو سکتا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج سے زیادہ احتیاط کی طرف توجہ دی جائے تاکہ وائرس سے زیادہ لوگ متاثر نہ ہوں اِس حوالے سے اٹلی نے غیر سنجیدگی کا مظاہر ہ کیا جس کی بنا پراب نہ صرف تمام ممالک سے زیادہ اموات کا صدمہ اُٹھا رہا ہے بلکہ اِس وائرس کو یورپ کا گھر بنانے کا بھی باعث بن چکا ہے اگر اٹلی میں احتیاط کی جاتی اور چین کے تجربات سے استعفادہ کیا جاتا تو یورپ میں کلیسا عبادت کی بجائے تابوتوں کے مرکز نہ بنتے ایران نے بھی بروقت ادراک کی بجائے تساہل سے کام لیا اور اب نہ صرف خودصدمے میں ڈوبا ہوا ہے بلکہ پاکستان میں بھی اِس وائرس کے پھیلاﺅ کا راستہ بناہے۔
خیر کسی کو زمہ دار کیا ٹھہرانااب یہ وبا آگئی ہے تو یہ ہمارے طبی ماہرین کا امتحان ہے کہ وہ متاثر ہ ہم وطنوں کو کیسے صحت یاب ہونے میں مدد دیتے ہیں نیز کیسے ملک کو محفوظ رکھنا ہے یہ حکومت کی زمہ داری ہے مجھے تو یہ کہنا ہے کہ ہیجان کی بجائے تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں خدارافضول بھاگ دوڑ کی بجائے گھر بیٹھ کر اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا تحفظ کریں۔
hameedullahbhati@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں