94

امریکہ اور طالبان امن معاہدے کے اثرات تحریر حمیداللہ بھٹی

طالبان اور امریکہ نے 29فروری کو دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس سے مسلہ افغانستان کے حل کی رمق نظر آنے لگی ہے معاہدے کی رو سے امریکہ اور اتحادی چودہ ماہ میں افغانستان سے تمام افواج نکال لیں گے اگر طالبان معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں توامریکہ نہ صرف طالبان پر عائد پابندیاں ختم کر دے گا بلکہ یو این او کو بھی ایسا کرنے کے لیے قائل کرے گا جب کہ طالبان اپنے علاقے میں القائدہ ،داعش یا ایے کسی شدت پسند گروپ کو سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دے گا معاہدہ کامیاب ہوجاتا ہے اور تمام فریق طے شدہ امور پر صدقِ دل سے عمل کرتے ہیں تو خطے میں قیامِ امن کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں جس سے مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار ہوگی اور صرف افغانستان ہی نہیں پاکستان ،ایران اور ترکی سمیت تمام ہمسایہ ممالک سکون سے معیشت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر سکیں گے اگر خرابی ہوتی ہے جس کاہندوستان بھی خواہشمند ہے تو پھر انتشار کاشکار خطہ مزید خلفشارکی لپیٹ میں آجائے گا جس سے انسانی آبادی کی مہاجرت میں اضافہ ہوسکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے امن معاہدے کو اہم قرار دیتے ہوئے طالبان رہنمائوں سے ملنے کا عندیہ دیا ہے لیکن ساتھ ہی گڑبڑکی صورت میں معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی ہے یہ گاجر اور چھڑی والی پالیسی ہے بظاہر واحد سُپر طاقت لڑائی اور نقصانات سے تھک گئی ہے اورمحازکی بجائے زوال پذیر معیشت پرتوجہ دینا چاہتی ہے اُس کی ترجیح فوجیوں کو واپس بلانے کے لیے محفوظ اور مضبوط راستہ ہے اِس لیے معاہدے کی کامیابی کا امکان ناکامی سے زیادہ ہے کیونکہ دوحہ میں دستخط کی تقریب میں مائیک پومپیو کا موجود ہونا ظر کرتا ہے کہ امریکہ کی اولیں آرزو افغان مسلہ سے جان چھڑانا ہے امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زادجبکہ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر نے جب معاہدے پر دستخط کیے تو ہال میں اللہ اکبر کے بلند نعرے لگے لیکن کوئی اعتراض نہیں ہواجوامریکی اخلاص کا اغماض ہے۔ اُسامہ بن لادن کی حوالگی کے مطالبے کی آڑ میں سات اکتوبر 2001سے امریکی قیادت میں اتحادنے افغانستان پر چڑھائی کر دی لیکن اُنیس برس کے بعد غلطیوں کا احساس ہوا ہے اسی لیے اب امریکہ بات چیت رضا مند ہواہے جن کاکبھی نام سُننے کا روا دار نہ تھااب افغانستان اسلامی امارت پر بھی معترض یہ بہت بڑی پیش رفت ہے اِس کا مطلب ہے کہ اُس نے طالبان کو اصل قوت تسلیم کر لیا ہے لیکن طالبان کو اپنی حثیت منوانے کے لیے اُنیس برس جہاد کرناپڑا معاہدہ کی رو سے دونوںفریق قیدیوں کی رہائی پر بھی متفق ہو گئے ہیں جس کے تحت رواں برس دس مارچ تک پانچ ہزار طالبان قیدی رہائی پائیں گے جس کے جواب میں طالبان ایک ہزار افغان اہلاکاروں کو رہائی دیں گے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو سمجھ آگئی ہے کہ طالبان کو راضی کیے بنا فوجوں کا باحفاظت انخلا ممکن نہیںاور اگر افغانستان کو فوری چھوڑاجاتا ہے تویہ سرزمین دیگر جنگجو گروپوں کو مرکز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اُنیس برس کی طویل جنگ امن معاہدے سے ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے معاہدے کا افغانوں نے سڑکوں پرنکل کر جشن منا کرخیرمقدم کیا ہے لیکن معاہدے پر عملدرآمد ایک اور مشکل مرحلہ بھی ہے جو طالبان اور افغان انتظامیہ کے درمیان ممکنہ مزاکرات ہیں کیونکہ طالبان افغان انتظامیہ کو فریق سمجھنے کوبھی تیار نہیں اسی لیے دوحہ مزاکرات کا حصہ نہیں بننے دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف اپنی سرزمیں استعمال نہ ہونے کی گارنٹی دیکرطالبان نے جس طرح غیرملکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ منوایا ہے کیا اب وہ افغان انتظامیہ کے بارے لچک دکھاتے ہیں یا حالات کی تبدیلی کے تناظر میں لچک نہیںدکھا تے تو یہ صورتحال اشرف غنی جیسے کمزور شخص کی سیاسی موت پر منتج ہو سکتی ہے حامد کرزئی پہلے ہی مخالفت میں متحرک ہیں دوستم جیسے کئی علاقائی سردار بھی نئے دھڑے بندی میں مصروف ہیں مسائل کا بوجھ جو انتظامیہ اُٹھانے سے پہلے ہی قاصرتھی امن معاہدے نے طالبان کو برتر قوت کا درجہ دے دیا ہے وہ بھلا اشرف غنی کے کیونکر محتاج ہو سکتے ہیں؟افغان طالبان کے سربراہ ملاہیبت اللہ اخونزادہ کا مخالفین کو عام معافی دینے کا اعلان امن کی نوید بن سکتا ہے لیکن اشرف غنی،عبداللہ عبداللہ ،دوستم سمیت تما م لوگ اکٹھے بیٹھیں گے یا نہیں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ افغان صدارتی انتخابات سے بھی صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کے درمیان محاز آرائی ختم نہیں ہو سکی عبداللہ عبداللہ کی طرف سے متوازی حکومت بنانے کی دھمکی کا امریکہ نے عارضی حل یہ نکالا ہے کہ اشرف غنی سے حلف برداری کی تقریب ملتوی کرادی ہے لیکن ایسا کب تک چلے گا کیونکہ اشرف غنی قبل ازیں انتخابی عمل ملتوی کرنے کا امریکی مطالبہ رد کر چکے ہیں معاہدے کے وقت امریکی وزیرِ دفاع کابل میں نہ ہوتے تو خرابی کا اندیشہ تھا اِس لیے امریکہ اور طالبان دونوں فریقوں کو ہی محتاط رہنا ہوگا ۔دوحہ مزاکراتی عمل کی کامیابی میں پاکستان کا اہم کردار ہے سچ یہ ہے کہ پاکستان کی ناراضگی کے خدشے کے پیشِ نظر ہی مزاکراتی عمل سے بھارت کو الگ رکھا گیا حالانکہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی وجہ سے وہ بھی مسلہ افغانستان کا اہم فریق بن چکا ہے اشرف غنی کے فیصلوں پر بھی اثر اندازہونے کی صلاحیت رکھتا ہے معاہدے میں شریک نہ کرنے کی بنا پر ظاہر ہے نا خوش ہے اِس لیے اُ س کی اولیں آرزوہوگی کہ کسی طرح معاہدے کو ناکام بنایاجائے یہی اشرف غنی کی تمنا بھی ہوسکتی ہے کیونکہ دونوں کا پاکستان بارے معاندانہ رویہ ہے اور کلیدی کردار ملنے کی وجہ سے چاہیں گے کہ کسی طرح پاکستان کی اہمیت کم کی جائے معاہدے سے پاکستان کو جوفوری فائدہ ملا ہے وہ شمال مغربی سرحد سے خطرت کی کمی ہے اِس لیے بھارت اپنے طفیلی اشرف غنی کے زریعے معاہدے کو سبوتاژ کر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو افغان مسلہ مزید گھمبیر ہوجائے گا جس کا توڑ کیسے کرنا ہے امریکہ اور طالبان کو نظر رکھنے اور سوچنے کی ضرورت ہوگی۔امریکہ طالبان معاہدے نے میزبان قطر کو عالمی مرکز بنا دیا ہے حالانکہ سعودیہ سمیت کئی ملکوں نے قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے مگر دو متحارب دھڑوں امریکہ اور طالبان میں صلح کرانے کی تقریب کی میزبانی جس میںبیک وقت پچاس ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی اُسے منفرد حثیت دلا دی ہے جس سے قطر کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے معاہدے کاسعودی عرب نے بھی خیرمقدم کیا ہے موجودہ حالات کے تناظر میںیہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ جلد ہی بائیکاٹ کرنے والے ممالک قطر سے مراسم اُستوار کر لیں گے کیونکہ بائیکاٹ کا قطر کو اِتنا ہی فرق پڑا ہے کہ درآمدی اشیا ء کے راستے تبدیل کرنے پڑے ہیں مگر یہ کہنا کہ وہ عالمی سطح پر تنہا ہوچکا ہے درست نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بائیکاٹ سے سعودی قدرومنزلت متاثرہوئی ہے زیادہ درست ہے۔بھارت کا پاکستان کو گھیرنے کا خواب امن معاہدے سے چکنا چور ہوگیا ہے طالبان کی موجودگی میں بھارت و افغان ایجنسیوں کو اب مشترکہ آپریشن کر نے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ پاکستان نے جنیوا میں بھی افغان مجاہدین کو بھیج کر اپنی اہمیت واثر دکھانے کے ساتھ خلوص ظاہر کیا چارعشروں سے جاری جنگ و جدل سے افغان عوام تنگ ہیں اور امن کے لیے بے تاب ہیںاگر معاہدے پر صیح معنوں میں عمل ہوتا ہے تو یہ افغان عوام پرپاکستان کا ایک احسان ہوگا اور اگر پاکستان میں پناہ گزین افغانستان واپس چلے جاتے ہیں جن پر پاکستان کا بہت اثر ہے تو بھارت کی پوزیشن مزید پتلی ہو جائے گی جس سے مستقبل میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے مواقع ختم ہو جائیں گے۔ جہاں تک افغانستان کی موجوہ سیاسی قیادت کا تعلق ہے وہ مستقبل کے افغان منظر نامے پر زیادہ دیر نہیں ٹھہر تی دکھائی نہیں دیتی جوعوام کی بجائے امریکی امداد کی بیساکھیوں کے سہارے قائم ہے اگر امداد کی اکسیجن کا سلسلہ منقطع ہو تو اُس کاسیاسی طور پر زندہ رہنا محال ہے افغانستان میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے روسی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اب بھی اگر کوئی خاطر خواہ بندوبست نہ کیا گیا تو خانہ جنگی کا نہ رُکنے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اِس لیے بہتر تو یہ ہے کہ افغان اِداروں کو پائو ں پر کھڑا کرنے تک معاونت کی جائے یواین او کی امن فورس تعینات بھی تعینات کی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں