138

اتحادیوں کے تحفظات تحریر حمیداللہ بھٹی

معینہ مدت کا نصف بھی نہیں گزرا لیکن حکومت کی چولیں ہلنے لگی ہیں پہلے وزرا نے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلانے شروع کیے جس سے واضح ہو گیا کہ عمران خان کو قائد ماننے والوں میں بھی کھینچا تانی ہے جو خودنمائی کے دوران اپنے ساتھیوں کو بُرا بھلا کہنے میں عار تصور نہیں کرتے ارے بھئی جس کشتی پر بیٹھے ہواگر اُسے ہی ڈبودوگے تو خود نقصان سے کیسے محفوظ رہو گے کابینہ سے لیکر حکمران جماعت کے ممبرانِ پارلیمنٹ میں وقفے وقفے سے الفاظ کی گولہ باری ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف حکومتی ساکھ پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ عوام بدطن ہو رہے ہیںمگر کروڑوں ملازمتوں کے وعدے ہوں یا لاکھوں گھر دینے کے عزم واِرادے ، کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا ، عزم و ارادے بھی وقت کی دھول میں گم ہو گئے ہیں شایدکسی کو احساس نہیں مرغیاں رکھنے کی اسکیم ہو یا جانور پالنے کے منصوبے ،سب ناکام ہو گئے ہیں آٹے اورچینی کا الگ بحران ہے جانے کون شیخ چلی کی طرح جیسی دانشمندی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور حکومت بھی ایسے دانشمندانہ منصوبوں کی جھٹ پٹ منظوری دے کر عوام کو سے اُلفت دکھارہی ہے سچ یہ ہے کہ عملی طور پر معیشت پر کیا مثبت اثر پڑتا کسی ایک گھرانے کو بھی فائدہ نہیں ہوا بلکہ شیخ چلی جیسے منصوبے اب محض کاغذوں میں ہیں لوگ حیران ہیں کہ ناتجربے کار لوگ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں ۔حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اپوزیشن میدان سے غائب ہے اگر میدان میں ہوتی تو اب تک حماقتوں کے افسانوں سے آگاہی کی مُہم چلا رہی ہوتی وہ تواپنے کیسوں سے بچنے کے لیے خاموش ہے اور عوام کو حالات کے دھارے پر بے یارومددگار چھوڑ کر رفو چکر ہو چکی ہے بہتر تو یہ تھا کہ اِن حالات سے حکومت فائدہ اُٹھاتی اور اپنے منشور کے مطابق ایسے اقدامات کرتی جس سے مہنگائی کم ہوتی اور عام آدمی کے مسائل حل ہوتے لیکن اب تو صرف فہمیدہ حلقوں میںہی نہیں ہر مکتبہ فکر میں یہ بات ہونے لگی ہے کہ بے ایمان سیاسی قیادت کو ہٹا کر ایماندار لانے کافیصلہ غلط سرزد ہوگیا ہے لیکن جان کیسے چُھڑائی جائے کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا جبکہ برسرِ اقتدار ٹولے کو کسی کی پرواہ نہیں وہ سمجھتے ہیں اُن کا کام بس سابق حکمرانوں کی مٹی پلید کرنا ہے حالانکہ لوگوں نے ووٹ مسائل حل کرنے کے وعدوں سے متاثر ہو کر دیے طعنے تو گلی محلے کی لڑائیوں میں دیے جاتے ہیں وزرا کا بھلا دشنام طرازی سے کیا کام ؟مگر سمجھدار کہتے ہیں کہ کچھ پہلوانوں کو گرانا نہیں پڑتا وہ اپنے وزن سے خود ہی گرجاتے ہیں لگتا ہے حکومت بھی اپنے وزن سے گرنے والے پہلوانوں کی طرح ہے لیکن خود گرنے سے قبل عوام کو خوشیوں کی چوٹی سے دکھوں کے پاتال کی طرف لڑھکا نا چاہتی ہے ۔حکومت تشکیل دینے سے قبل تحریکِ انصاف نے چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملاکر حکمران اتحاد بنایا اور حمایت کے بدلے میں اتحادیوں سے کچھ وعدے کیے لیکن جس طرح حکومتی چہرے بدلنے سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوابلکہ لوگ بلے کو ووٹ دینے پر پشیمان ہیں اُسی طرح اتحادی بھی وعدوں کی عدم تکمیل پر تلملارہے ہیں ناراضگی کی ابتدابی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے کی جلد ہی مہاجر قومی موومنٹ نے بھی ناراضگی کا اظہار کر دیا اور خالد مقبول صدیقی وزارت سے مستعفی ہو گئے ابھی حکومت منانے کی کوششوں میں تھی کہ اب مسلم لیگ ق بھی وعدے پورے نہ ہونے پر مضطرب ہے اور تلخ لہجے میں وعدے یاد دلانے لگی ہے وگرنہ اتحاد کے فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ دے رہی ہے بے زاری اور اُکتاہٹ اتنی بڑھ گئی ہے کہ لہجے سے کڑواہٹ محسوس ہونے لگی ہے جس سے فہمیدہ حلقے یہ پیغام لینے لگے ہیں کہ شاید party is over کی اسٹیج آگئی ہے لیکن جو لوگ عمران خان کوقریب سے جانتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ عمران ٹوٹ سکتا ہے جھک نہیں سکتااگر اتحادیوں نے زیادہ دبائو بڑھایا تو اسمبلیاں توڑسکتے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ جو خود جھک نہیں سکتا وہ دوسروں کو کیوں جھکانے پر تُل گیا ہے ؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ہر معاملے میں یوٹرن لینے والے وزیرِ اعظم نے سیاستدانوں سے ضدی رویہ رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے اگر یہ بات سچ ہے توپوائنٹ آف نو ریٹرن کی صورت میں وہ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں ۔پنجاب میں مسلم لیگ ق موجودہ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے جسے اتحادی بناتے وقت وعدہ کیا گیا کہ دو مرکزمیں اوردوہی صوبے میں وزارتیں دی جائیں گے شروع میں تو مرکز میں طارق بشیر چیمہ اور صوبے میں حافظ عمار یاسر کو وزارت دی گئی لیکن ہلکے سے احتجاج پر بائو رضوان کو بھی صوبائی وزیر بنا دیا گیا پنجاب میں ق لیگ کی دونوں وزارتیں بے اختیار قسم کی ہیں پھر بھی دو تین ماہ بعد سیکرٹری تبدیل کر دیے جاتے ہیں جس سے بداعتمادی نے جنم لیا ہے اور اتحادی جماعت یہ پیغام لینے لگی ہے کہ بے اختیار وزارتیں دے کر بھی حکمران جماعت خوش نہیں اور کچھ کرنے نہیں دینا چاہتی جس کا کامل علی آغا نے تزکرہ بھی کیا ہے حالانکہ اتحاد کے فارمولے کے نکات میں شامل تھا کہ روزمرہ کے معاملات میں مشاورت ہوگی ضلعی اور مختلف حکومتی اِداروں میں مسلم لیگ ق کو نمائندگی دی جائے گی ،پالیسی میکنگ میں شریک کرنے ،ترقیاتی فنڈز اور عوامی مسائل کے حل میں اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلنے کا معاہدہ ہوا لیکن حکومتی رویہ ایسا رہا جس سے عزت یا اہمیت کی بجائے مسلم لیگ ق کوتزلیل محسوس ہونے لگی ہے پرویز خٹک اور جہانگیر ترین نے کچھ مطالبات درست کہہ کر جلد حل کا وعدہ کیا مگر بات وعدہ تک ہی محدود رہی جب گورنر سرور کی سربراہی میں نئی کمیٹی بنی تو چوہدری برادران نے تضحیک تصور کی کیونکہ چوہدری سرور کچھ روز پہلے ہی بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہو کہہ چکے تھے کہ میری کال کا جواب ہی نہیں دیا جاتا ایک بے اختیار شخص سے کون اختیارمانگ سکتا ہے ؟اسی لیے اتحادی سیخ پا ہو ئے کیونکہ وہ سمجھنے لگے ہیں کہ طے شدہ معاملات کو التوا میں ڈالنے کے لیے پہلی کمیٹیاں ختم کرکے نئی بنائی جارہی ہیں عمران خان اور نئی کمیٹی کے سربراہ نے تو اتحادیوں سے رابطے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی اسی بے نیازی کے جواب میں وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود سے روایتی مہمان نوازی سے اجتناب کیا گیا ۔اتحادیوں کے تحفظات گھمبیر ہو نے لگے ہیں ایک طرف بے اعتنائی ہے تو دوسری طرف غم و غصہ ہے لیکن بے اعتنائی اور غم و غصے کا مطلب جلد حکومت کا خاتمہ سمجھ لینا ابھی ٹھیک نہیں اتحاد ٹوٹنے کی نوبت ابھی دور ہے چوہدری مونس الٰہی کی وزارت کے متعلق پراپیگنڈے پر کچھ وزرا سے چوہدری برادران نالاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وعدے پورے نہ کرنے پر شرمندگی کی بجائے بدنام کرنے کی مُہم کے پسِ پردہ بااختیار لوگ اُنھیں دیوار سے لگانا چاہتے ہیں اور وہ اتحادیوں سے فائدہ اُٹھانے کے چکر میں ہیں تھوک کے حساب سے ہونے والے تبادلوں میں بھی جو اعتماد میں نہیں لیتے وہ مزید بھی کوئی شرانگیزی کر سکتے ہیں جس سے اُن کی سیاست متاثر ہو سکتی ہے مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق میں تلخی ختم ہوچکی شریف اور چوہدری خاندان میں روابط بحال ہو چکے جلد ہی حمزہ شہباز کوسپیکر پنجاب میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا سکتے ہیںشریف اور چوہدری خاندان میں بڑھتی قربتوں پر حکمران جماعت کو سمجھداری سے کام لینا چاہیے مسلم لیگ ق نے حکمران جماعت کے ساتھ مشترکہ اجلاسوں کا بائیکاٹ کردیا ہے اگر مزید عرصہ پنجاب کو تجربہ گاہ ہی بنائے رکھاگیا اور اتحادیوں سے وعدے پورے نہ کیے گئے توممکن ہے سب سے پہلے تبدیلی کا جھونکا پنجاب میں آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں