70

ٹرمپ کی نظر میںتنازعہ فلسطین کا حل تحریر حمیداللہ بھٹی

ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سُننے یا سمجھنے کی بجائے اپنی سنانے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے زبردستی کرنا یا کسی کو مجبور کرنا مگر ایسا کرتے ہوئے شاید انھیں یہ یاد نہیں رہتا کہ انسانوں کو مخاطب کررہے ہیں تبھی تو ایسے درشت رویے کا مظاہرہ کرجاتے ہیں جیسے جانوروں کو ہانکا لگایا جاتا ہے دلیل کی بجائے تزلیل سے بات منوانے کا طرزِ عمل بہتر نتائج نہیں دیتا ایسا نہیں کہ ٹرمپ سفارتی آداب نہیں جانتے اور کوئی اُجڈ شخص ہیں صرف مسلمانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھیں سفارتی آداب کا خیال نہیں رہتا اور ایک غیر تہذیب یافتہ اُجڈ شخص کی طرح بات کرتے ہیں لہجے میں اپنائیت والی کوئی بات نہیں ہوتی بلکہ الفاظ سے نفرت جھلکتی ہے ٹھیک ہے وہ دنیا کی واحد سُپر طاقت کے صدر ہیں لیکن بات کرتے ہوئے انھیں یہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ساری دنیا اُن کی مطیع و فرمانبردار نہیں بلکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی جداگانہ سوچ رکھتے ہیں اور معاملات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر رکھتے ہیں ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ تنازعہ فلسطین کاموجودہ حل مظلوم کو دبانے اور اُن پر حل تھوپنے کے مترادف ہے مجھے نہیں لگتا کہ عام فلسطینی اِس حل پر راضی ہوجائیں گے محمود عباس نے ٹرمپ فارمولا یکسر مسترد کر دیا جب کہ ترکی نے بھی ٹرمپ معاہدہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا اقوامِ متحدہ نے بھی اپنی منظورکردہ قراردادوں سے متصادم کہہ دیا ہے لیکن ٹرمپ کسی کی سُننے یا سمجھنے کی بجائے زبردستی اپنی سنانے اور سمجھانے پر بضد ہیں ۔ٹرمپ کی بات اگر اسلامی ممالک کے حکمران تسلیم کر لیتے ہیں تو انھیں ہمیشہ کے لیے مسجد اقصیٰ اسرائیلی کنٹرول میں دینا پڑے گی بیت المقدس غیرکے حوالے ہو مسلمان رضا مند نہیں ہو سکتے ٹرمپ کی حمایت کرنے والے اسلامی ممالک انتشاروافراتفری کا شکار ہوجائیں گے اگر مسلم ملک کا کوئی حکمران اقتدار کے لالچ میں حمایت کرنے کی حماقت کرے گا بھی تو اقتدار سے محرومی کا صدمہ برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ ٹرمپ کے پیش کردہ نئے معاہدے کے نکات کے مطابق یروشلم اسرائیل کا غیر مشروط اور غیر منقسم دارلحکومت ہوگا جس کا 2017 میں بھی وہ اعلان کر چکے ہیںاور فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم دینے کی بات کی گئی ہے جس میں کوئی مقدس مقام نہیں عرب لیگ نے فلسطینی صدر کی جانب سے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں ٹرمپ کا دوریاستی منصوبہ مسترد کر دیا ہے عرب ممالک کی طرف سے امریکہ سے تعاون نہ کرنے کا عندیہ سامنے آیا ہے فلسطینی صدرمحمود عباس نے امریکہ اور اسرائیل سے سیکورٹی سمیت ہرطرح کے تعلقات ختم کر نے کا اعلان کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عرب لیگ اپنے کہے پر قائم رہے گی؟اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفاد متاثر ہوسکتے ہیں لیکن کہنے اور عمل کرنے میں فرق ہوتا ہے ۔ مسلمان ہوں یا عیسائی یا یہودی ،تینوں مذاہب یروشلم کو مقدس سمجھتے ہیں یہ ایسا قدیم شہر ہے جہاں عیسائیوں کا مقدس ترین چرچ ہے یہودیوں کے عقیدے کے مطابق مغربی دیوار ہی وہ جگہ ہے جہاں دنیا کی بنیاد رکھی گئی اور اسی جگہ ہی حضرت ابراہیم اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو قربان کرنے لائے تھے جبکہ مسلمانوں کے لیے اسی شہر میں بیت المقدس ہے جہاں سے خاتم النبین حضرت محمدۖ معراج شریف گئے اور اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کی شہر کی حساسیت کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے اِس کو بین الاقوامی کنٹرول میں لے لیا اور جب 1980میں اسرائیل نے دارلحکومت قراردیا تو یواین او نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا لیکن اب کیونکہ اُسے دنیا کی واحد سُپر طاقت کی آشیر باد بھی حاصل ہوگئی ہے اِس لیے وہ توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے اور برسوں سے اپنے وطن کے لیے قربانیاں دینے والے مظلوم فلسطینیوں کو مارنے اور بے گھر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے صدر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدے کا ڈرافٹ اُن کے داماد جیراڈکشنر نے تحریر کیا ہے وہ ایک کٹریہودی ہیں جن کی اسرائیل نوازی کسی سے پوشیدہ نہیں معاہدے کے نکات لکھتے ہوئے انھوں نے اسرائیلی حکام سے مشاورت کی ہے لیکن تنازعے کے دوسرے فریق فلسطین کی نمائندہ قیادت کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اسی بنا پر بنیا مین نیتن یاہونے بخوشی رضامندظاہر کی ہے کیونکہ 180 صفحات پر مشتمل معاہدے کے نکات تحریر کرتے ہوئے فلسطین کوڈبے میں بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کاغذوں کی حد تک تو فلسطین ملک ہوگا لیکن عملی طور پر اُس کا کوئی اختیار نہیں ہوگا کیونکہ ایک شہر کو دوسرے شہر سے ملانے والی نہ صرف شاہراہیں بلکہ تمام زمین اور سمندری راستوں پر اسرائیل کا کنٹرول رہے گا ظاہر ہے اِس طرح تو وہ جب چاہے گا ناکہ بندی کرنے پر قادر ہو گاعلاوہ ازیں تاریخی فلسطین کے محض پندرہ فیصد حصے تک نیا فلسطین محدود ہو کررہ جائے گا۔ تنازعہ فلسطین کا بانی برطانیہ ہے جس نے 1917میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد فلسطین پر قبضہ کر لیا اور اسی برس نومبر میں اعلان بالفور اعلامیے کے تحت فلسطین میں یہودیوں کو اپنا گھر بنانے کی خوشخبری سنا دی1919 میں فلسطینیوں نے یہودیوں سے نجات کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا لیکن کامیابی نہ ملی بلکہ یہودیوں نے منہ مانگے داموں جائیدادیں خریدنے کا سلسلہ جاری رکھا 1947 میںاقوامِ متحدہ نے فلسطین کو یہودی اور عرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کی اور ساتھ ہی شہر کی حساسیت کے پیشِ نظر یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں لے لیا 1948کی جنگ میں اسرائیل نے فلسطین کے 78فیصد حصے پر قبضہ کر لیا 1967کی جنگ میں بقیہ 22فیصدبھی اسرائیلی کنٹرول میں چلا گیا اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے اسرائیل نے آبادکاری شروع کردی اور سینکڑوں یہودی بستیاں بسا دیںجن کے خلاف امریکہ کے سواسیکورٹی کونسل کے تمام ممبران ووٹ دے چکے ہیں لیکن اب انھی غیر قانونی آبادکاریوں کو ٹرمپ منصوبے میں جائز قراردیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی تنازعہ ختم کرانا مقصد نہیں بلکہ اسرائیلی جارحیت کو فلسطین اور عربوں سے تسلیم کرانا ہے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ غیرقانونی آبادیہودیوں کو بے دخل کرنے کی بجائے 1948کی جنگ میں بے گھر ہونے والے سات لاکھ فلسطینیوں کو واپس اپنے گھروں میں آنے کا حق نہیں دیا گیا حالیہ منصوبے کے تحت فلسطین میں پانچ مقامات پر اسرائیلی فوجی اڈے موجود رہیں گے لیکن فلسطین اپنی فوج نہیں رکھ سکے گا ویسٹ بنک اور غزہ کی پٹی جیسے مسلم اکثریتی علاقے فلسطین کی بجائے اسرائیل کے حوالے کر دیے گئے ہیں یہ نا انصافی ہے اور لگتا ہے ٹرمپ مسلم دشمنی میں حقائق کو بھی فراموش کررہے ہیں ٹرمپ کے منصوبے کو ڈیل آف دی سینچری قراردینے والے مت بھولیں اگراِس ڈیل پر عملدرآمد ہوتا ہے تو فلسطین جنگ کیے بغیر دنیا کے نقشے سے ختم ہوجائے گا28جنوری کو ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیا مین نیتن یاہو کے ساتھ امن منصوبہ پیش کیا امریکی سینٹ میں ٹرمپ کاٹرائل ہورہا ہے جبکہ نیتن یاہوپربھی کرپشن اور فراڈ کے کیس چل رہے ہیں بظاہرایسے دکھائی دیتا ہے کہ امن کے وہ متمنی نہیں بلکہ مسلمانوں کو کچل کر سیاسی زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں