151

محکمہ صحت میں تبدیلی تحریر : سید وقار جاوید نقوی

صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کیلئے نہایت اہم ہوتا ہے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کے لئے دو دہائیوں سے زائد جد و جہد کے دوران ہرموقع پر اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں جہاں دیگر بہت سے شعبہ جات پر بھرپور فوکس کیا جائے گا وہیں صحت عامہ ک ی سہولیات کو بین الااقوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق بنانے کیلئے وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ 2013میں خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد جہاں بہت سے شعبہ جات میں اسکی حکومت کی کارکردگی کو زبردست سراہا گیا وہیں صحت کے شعبہ میں اصلاحات پر ہر طبقہ فکر کے باشعور افراد نے بھرپور داد دی۔ گزشتہ عام انتخابات کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سازی کی تو وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور انکی ٹیم نے شعبہ صحت کی بہتری کیلئے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کا آغاز کر دیا اور آج محض ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد شعبہ صحت کی کارکردگی بیان کرنے کیلئے کچھ موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہے۔
٭ افرادی قوت: حکومت نے محکمانہ سطح پرمختلف وجوہات پر رکی ہو ئی بھرتیوں میں رکاروٹوں کو دور کیا۔ اب تک مجموعی طور پر تقریبا 26000 بھرتیاں کی ہیں۔ اب تک صرف ڈاکٹرز کی 14992بھرتیاں کی گئی ہیں جن میں میڈیکل آفیسرز کے علاوہ سینئر رجسٹرار اور پروفیسرز بھی شامل ہیں۔ اس سال میں 4889نرسز کی بھرتیاں کی گئی ہیں جبکہ مزید 5000نرسز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔ 4837پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر تکنیکی عملہ کی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ پہلی بار پنجاب کے 2503 بنیادی مراکز صحت میں سے 93 فی صد پر ڈاکٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ 288 ڈینٹل سرجن اور 440فارماسسٹس کی اسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ مزید براں 2500 ڈاکٹروں سمیت دس ہزار سے زائد بھرتیاں مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ پہلی بار عملہ کی کمی اب 25 فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
٭ اگلے دس سالوں کے لیے پنجاب ہیلتھ سیکٹر سٹر یٹیجی 19ـ2028:
٭ انفرا سٹرکچر: حکومت کی خصوصی توجہ بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکزصحت کی بہتری پر ہے۔ اسی لیے پرائم منسٹر ہیلتھ اینیشیٹیوکے تحت آٹھ اضلاع اٹک، چنیوٹ، ڈی جی خان، میانوالی، جھنگ، قصور، لودھراں اور راجن پور میں مخصوص بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی تعمیر نو اور تزئین کی جا رہی ہے۔ 35 دیہی مراکز صحت میں بچوں کی نرسریز کا قیام، اور ایمر جنسی بلاکس کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔اسی طرح 300 بنیادی مراکز صحت کا 24/7 کے مراکز میں شامل ہونا، 8 نئے وئیر ہاوسز کا قیام اور 16 اربن ہیلتھ سنٹرز کو بھی اپ گریڈ کیا جانا بھی شامل ہے۔
٭ بڑے ہسپتالوں میں کام: صوبہ بھر میں ان بڑے ہسپتالوں پر کام جاری ہے جن میں نشتر۔2 ملتان، چلڈرن ہسپتال بہاولنگر، ڈی جی خان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بہاولپور برن سنٹر۔اسی طرح12 ہسپتالوں میں ایمر جنسی کی بہتری، جناح ہسپتال میں سرجیکل ٹاور کی تعمیر، ڈی جی خان میں نئے بلاکس کی تعمیر کے علاوہ، میڈیکل کالج کی اپ گریڈیشن اور
٭ زچہ بچہ صحت کے پانچ نئے ہسپتال: موجودہ حکومت نے اس معاملہ پر پوری تندہی سے کام کیا ہے اور صوبہ بھر میں میانوالی، اٹک، راجن پور، لیہ اور بہاول نگر میں پانچ نئے زچہ و بچہ ہسپتالوں کی تعمیر پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ میانوالی میں تعمیر کا عمل شروع ہوچکا جبکہ دیگر پراجیکٹس کے لیے پلاننگ اور دفتری مرحلہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ گنگا رام ہسپتال لاہور میں 400 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ کواٹنری ہسپتال پر کام شروع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں ایک نئی چائلڈ ہیلتھ یو نیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
٭ سیکنڈری ہیلتھ کئیر: صوبہ بھر میں 40 ہسپتالوں کی ری ویمپنگ پر کام جا ری ہے جن میں 25 ڈی ایچ کیو اور 15ٹی ایچ کیو شامل ہیں۔گزشتہ حکومت نے ہسپتالوں کو ادھیڑ دینے کے بعد کام روک دیا تھا۔ اس کی رکاوٹوں کو دور کر کے کام شروع کیا جا چکا ہے۔پہلا مرحلہ تکمیل کے قریب ہے۔ اب اگلے مرحلے میں پچاسی مزید ہسپتالوں پر کام جاری ہے۔
٭ صحت انصاف کارڈز کی تقسیم: حکومت پنجاب کی جانب سے صحت انصاف کارڈز کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلایا جا رہا ہے اور گزشتہ ایک سال میں صوبہ بھر کے 32 اضلاع میں پچاس لاکھ گھرانوں میں یہ کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں جلد ہی صوبہ کے تمام 36اضلاع میں اس کا دائرہ کارپھیلا دیا جائیگا۔ اس کارڈ کے تحت ایک گھرانہ 720,00تک مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ رقم کی حدختم ہونے کی صورت میں اس میں اضافے کی سہولیات کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔
٭ مہمان خانہ جات: پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں مہمان خانہ جات بنائے جا رہے ہیں اور لاہور کے چار بڑے ہسپتالوں میں ان کو مکمل کر دیا گیا ہے۔ ان مہمان خانہ جات میں مریضوں کے لواحقین کو چھت اور کھانے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ پنجاب کے دیگر اضلاع میں ان پر کام جاری ہے
٭ پنجاب کا سب سے بڑا سکول ہیلتھ پروگرام: پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سکول ہیلتھ نیوٹریشن پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت کے تحت سکول جانے والے بچوں کے غذائی اور طبی معائینہ کیا جا رہا ہے۔ اضلاع میں موبائل ہیلتھ یو نٹس کے ذریعے بچوں کا معائنہ شروع کیا گیا ہے۔ بچوں کی نشوونما کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں سرکاری سکولوں کے پچاس ہزار بچوں کا طبی معائینہ کیا جا رہا ہے۔ اس کا دائرہ کارپرائیویٹ ہسپتالوں تک پھیلا یا جائیگا۔
٭ قوانین اور پالیسیز: حکومت نے پہلے سے موجود قوانین کا تکنیکی جائزہ لیا ہے اور سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ بننے والے معاملات میں انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔ نئے قوانین میں پی کے ایل آئی ایکٹ اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ شامل ہے۔جبکہ تکنیکی اور دیگر جائزے کے عمل میں تھیلیسیمیا اینڈجنیٹک ڈس آرڈر ایکٹ، ڈاکٹرز پروٹیکشن بل، ڈرگز ایکٹ، پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن ایکٹ، چلڈرن یونیورسٹی ایکٹ، پنجاب مینٹل ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ، پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ اورپنجاب ہیلتھ فاونڈیشن ایکٹ شامل ہیں۔
٭ صحت انصاف کارڈز کی تقسیم: حکومت پنجاب کی جانب سے صحت انصاف کارڈز کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلایا جا رہا ہے اور گزشتہ ایک سال میں صوبہ بھر کے 32 اضلاع میں پچاس لاکھ گھرانوں میں یہ کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں جلد ہی صوبہ کے تمام اضلاع میں اس کا دائرہ کارپھیلا دیا جائیگا۔ اس کارڈ کے تحت ایک گھرانہ 720,00تک مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ رقم کی حدختم ہونے کی صورت میں اس میں اضافے کی سہولیات کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔
٭ قوانین اور پالیسیز: حکومت نے پہلے سے موجود قوانین کا تکنیکی جائزہ لیا ہے اور سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ بننے والے معاملات میں انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔ نئے قوانین میں پی کے ایل آئی ایکٹ اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ شامل ہے۔جبکہ تکنیکی اور دیگر جائزے کے عمل میں تھیلیسیمیا اینڈجنیٹک ڈس آرڈر ایکٹ، ڈاکٹرز پروٹیکشن بل، ڈرگز ایکٹ، پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن ایکٹ، چلڈرن یونیورسٹی ایکٹ، پنجاب مینٹل ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ، پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ اورپنجاب ہیلتھ فاونڈیشن ایکٹ شامل ہیں۔
٭ اگلے دس سالوں کے لیے پنجاب ہیلتھ سیکٹر سٹر یٹیجی 19ـ2028:
حقیقی معنوں میں بہتری لانے کے لیے اگلی دہائی کے ٹارگٹ وضع کرنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے Sustainable Development Goals) کو مدنظر رکھتے ہو ئے پنجاب ہیلتھ اسٹریٹیجی 2019ـ2028 کے تحت دس سال کے لیے جدید بنیادوں پر محکمہ صحت کو روڈ میپ دیا ہے۔ بہترین افرادی قوت اورٹریننگ، ٹیکنالوجی کا استعمال، تعلیم، صحت عامہ کی آگہی، خواتین کے صحت اور فیملی پلاننگ، زچہ و بچہ کی صحت، خوراک اور ان سے جڑے مسائل بہت پیچیدہ ہیں ہیلتھ گورننس اور مانیٹرینگ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، افرادی قوت، ادویات،جدید ٹیکنالوجی، ایم ائی ایس، بچاؤ، مریض کی حفاظت، ہیلتھ ایمرجنسیز اور ون ہیلتھ کے معاملات کو اس سٹریٹیجی میں تفصیل سے وضع کیاگیا ہے
پی کے ایل آئی: پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ نئے پی کی ایل آئی ایکٹ کے بعدادارے میں انتظامی اور معاشی شفافیت لائی گئی ہے۔ ادارے میں سرجریز کا آغاز کر دیا گیا ہے اور 4 جگر ٹرانس پلانٹ کے علاوہ 66 گردوں کے ٹرانس پلانٹ کیے گئے۔ اس کے علاوہ ادارے میں اس سال، ایم آر آئی، لیتھورپسی، سپیکٹ اور پیٹ سکین، لیب ہیسٹو پیتھالاجی کی سہولیات کے علاوہ نئے ڈائیلا سز یونٹس کا آغاز کیا گیا۔ اس وقت 63 ڈایلاسزمشینیں عوام کو سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔
ریفرل نظام کا آغاز: پنجاب میں ریفرل نظام کا آغاز کر دیا گیا جس کے تحت بڑے ہسپتالوں اور ان کے قرب و جوار میں واقع ڈسپنسریوں کو آپس میں منسلک کر دیا گیا ہے۔ پراجیکٹ کے پائیلٹ کا آغاز جناح ہسپتال سے کیا گیا ہے۔ اب مریضوں کو بڑے ہسپتالوں میں لمبی لائینوں میں نہیں لگنا پڑے گا۔ فلٹر کلینیکس پر عمومی بیماریوں کی ادویات دے دی جائیں گی اور صرف اگلی سطح کے علاج والے مریضوں کو ہی بڑے ہسپتالوں میں بھیجا جائیگا۔ ان کو رنگ دار الیکٹرونک سلپ دی جائیگی جس پر ان کی تمام معلومات بڑے ہسپتالوں میں دستیاب ہونگی اور ان کو جاتے ہی ہسپتال میں داخل کر لیا جائیگا۔٭ بلاشبہ بزدار حکومت پنجاب میں وزیر اعظم پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے دن رات کوشاں ہے، انکی کاوشوں کو کامیاب بنانے کیلئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، سیکرٹری ہیلتھ بیرسٹر نبیل اعوان بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ضلع گجرات میں محکمہ صحت کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو ڈپٹی کمشنر /ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر خرم شہزاد ، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر زاہد تنویر، ڈی ایچ اوز ڈاکٹر ایاز ناصر، ڈاکٹر ذاکر علی رانا، عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عابد محمود غوری کی کاوشوں کو سراہنا قرین انصاف ہوگا۔ گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر گجرات کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی فراہمی کی شرح 90فیصد سے زائد ہے، سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز و عملہ کی حاضری یقینی بنانے کیلئے بائیو میٹرک حاضری کا نظام رائج کیا جاچکا ہے، صفائی پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ ضلع گجرات کے چار بنیاد ی مراکز صحت بشمول بھاگوال، بڑیلہ شریف، گورالہ ، پنجن کسانہ کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمشن سے 2024تک کیلئے لائسنس جاری کیا گیا ہے، مقامی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف کی تعیناتی سے مریضوں کوبہتر ہیلتھ کئیر فراہم کرنے میں مدد ملی ہے، میجر شبیر شریف شہید ہسپتال کنجاہ میں ایمرجنسی بلاک کی تعمیر کیلئے 100ملین روپے رکھے گئے ہیں،۔ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ضلع گجرات میں پولیو، ڈینگی جیسے امراض کی روک تھام کیلئے مہمات کی کامیابی کو ہر سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں