213

جنونی بھارت میں انصاف کی موٹ .تحریر:حمید اللہ بھٹی

گزشتہ برس مئی میں بی جے پی انتخاب جیت کر دوبارہ حکومت میں آئی تو کچھ مبصرین کا خیال تھا کہ مودی اب ہندوقوم پرستی کے بیج بونے کی بجائے شایدکچھ کارکردگی کی طرف توجہ مبذول کریں لیکن ایسا خیال کرتے ہوئے وہ بھول گئے کہ انتخابی اکھاڑے میں اُترتے ہوئے بھاجپا نے منشور میں ایسے ہی نکات شامل کیے جن سے ہندو اکثریت خوش ہواور بڑی اقلیت مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے بھی اجتناب کیا حالانکہ محتاط اندازے کے مطابق مسلم آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے آسام ،اُترپردیش ،کیرالہ کا مسلم ووٹر نتائج پر اثر انداز ہونے کی قوت رکھتا ہے پھر بھی بے اعتنائی اِس امر کی دلیل ہے کہ بی جے پی ہندوستان کی معاشرتی تقسیم پر سیاست کر رہی ہے جنونی بھارت میں مسلمان بدترین ناانصافی کا شکار ہیں انتخاب میں جموں وکشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا تاکہ مسلم اکثریتی ریاست میں دیگر مزاہب کو آباد کیا جاسکے یہ طریقہ کار فلسطین میں یہودی بستیاں بسانے سے مماثلت رکھتا ہے دوسری باربھاری مینڈیٹ ملنے سے مودی نے یہ مطلب لیا کہ جیت ہندو اکثریت کو خوش رکھنے اور مسلم مخالف پالیسیاں بنانے میں ہی پنہاں ہے اسی سوچ کی وجہ سے تین طلاق کا متنازعہ فیصلہ کیا گیا اِس فیصلے کی مخالفت میں مسلمانوں کی آواز کمزور تھی جس سے مودی حکومت مزیدشیر ہوگئی اور جموں کشمیر کی خصوصی حثیت سے متعلق آئین کی شق 370 کا خاتمہ کردیا یہ ایسا فیصلہ تھا جس سے کشمیر میں بغاوت کی فضا بن گئی جسے دبانے کے لیے مسلسل کرفیو لگا رکھا ہے کشمیر کے حالات سے دنیا کو بے خبر رکھنے کے لیے زرائع مواصلات پر پابندیاں لگا رکھی ہیں مگر کشمیریوں میں غم و غصے کے باوجودبھارت میں بڑے پیمانے پر ہلچل دیکھنے میں نہ آئی بلکہ جنونی ہندئوں نے شادیانے بجائے ایک احمق وزیر نے خصوصی حثیت کے خاتمے کو کشمیری خواتین سے شادیاں رچانے کے مواقع ملنے سے تعبیر کیا جدید دور میں ایسی طفلانہ حرکتیں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتیں مگر جنون کے زیرِ اثربھارت میں وزیروں کے منہ سے ایسی بدکلامیاں عام ہیں موثر مخالف آواز نہ اُٹھنے پر مودی ،امیت شاہ اور اُن کے مشیرِ خاص اجیت دوول کو یہ حوصلہ ہوا کہ بھارت سے مسلم شناخت ختم کرنے کے لیے ٹھوس طریقہ کار بنایا جائے سوچ بچار کے بعد شہریت کے متعلق نیا قانون بنایا گیا یہ قانون بننا تھا کہ برسوں سے دبے ہوئے مسلمانوں کا خوف جیسے یکلخت ختم ہو گیا وہ بے خوف ہوکر سڑکوں پر آگئے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی لہر نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے یونیورسٹیوں سے لیکر شہروں ،دیہاتوں اور بازاروں میں مظاہرے ہورہے ہیں دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ میں خواتین اور بچے احتجا ج میں شریک ہیں جسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر لی گئی ہے لیکن احتجاجی تحریک کا زور ختم نہیں ہو رہا بلکہ دہلی کے نواحی علاقے سے اُٹھنے والی تحریک مسلسل زور پکڑ رہی ہے حکومت کا ہر حربہ غیر موثر ثابت ہو رہا ہے ۔مسلمان برسوں سے بھارتی معاشرے میں دب کر زندہ رہ رہے ہیں ستم ظریفی تو یہ ہے کہ عدالتوں میں بھی جنون کی لہر دَر آئی ہے اور انصاف کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں عدالتوں میں فیصلے کرتے ہوئے مزہب کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے2002 میں گجرات میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات ہوئے جن میں ہزاروں انسانوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا جن میں سے چند ایک پر قانونی کاروائی ہوئی اور کچھ جنونیوں کو سزا ہوئی اتنا انصاف بھی سپریم کورٹ کو اچھا نہیں لگا اور اُس نے 33 مسلمانوں کو کو زندہ جلانے والے سترہ انتہا پسند رہا کردیے ہیںحالانکہ اُن پر الزام ثابت ہوچکا کہ انھوں نے 22 خواتین سمیت تینتیس مسلمانوں کو پہلے ازیتیں دیں اور پھر زندہ جلا کر ہلاک کر دیا سپریم کورٹ کی رحمدلی جنونیوں کی رہائی تک محدود نہیں رہی بلکہ فیصلے میں رہائی پانے والوں کو دوحصوں میں تقسیم کیاایک گروپ کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور جب کے دوسرے کو جبال پورہ بھیجتے ہوئے دونوں شہروں کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ رہائی پانے والے مجرموں کو سماجی اور عوامی خدمات کے اِداروں میں رکھاجائے اور اُن کے روزگار کا بھی بندوبست کیا جائے ایسی سہولتیں کارنامہ سرانجام پانے والوں کو دی جاتی ہیں لگتا ہے عدالت نے 33مسلمانوں کو جلانا کارنامہ تصور کیا ہے جب مزہب کی بنیاد پر فیصلے ہونے لگیں تب افراد کے ساتھ انصاف کی بھی موت موتی ہے اور بھارت کے طول وعرض میں ایسا عام ہو رہا ہے مگر دنیا خاموش ہے جو مہذہب ہونے کے دعویدار ہیں اُنھیں بھی چُپ سی لگ گئی ہے جب بھارت کی بات ہوتی ہے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس جاری کرنے والے لب سی لیتے ہیں ۔جمہوری ملکوں میں اختلافِ رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور جسے کوئی فیصلہ یا بات اچھی نہ لگے وہ مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں لیکن بھارت میں مظاہروں کی اجازت صرف اکثریت کو ہے مسلمانوں پر جتنا بھی ظلم ہو اُنھیں بولنے کی آزادی نہیں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلمان سڑکوں پر نکلتے ہیں تو پولیس تشدد کرنے لگتی ہے اور یہ تشدد مظاہرے تک محدود نہیں رہتا پولیس مسلمانوں کے گھروں پر دھاوابول دیتی ہے اور کہیں بھی کوئی نقصان ہو تلافی کے لیے مسلمانوں کو جرمانے کیے جاتے ہیں دلت،سکھ ،عیسائی اور بُدھ مت پر بھی ظلم ہوتا ہے لیکن اُن کی بھارت میں تعداد محدود ہے اسی بنا پر کم نفرت کی جاتی ہے کچھ جنونیون نے بھارتیوں کے زہنوں میں بٹھا دیا ہے کہ چند دہائیوں تک انڈیا میں مسلمانوں کی اکثریت ہوجائے گی اور ہندواقلیت میں بدل جائیں گے مودی کے فیصلوں سے لگتا ہے وہ بھی اقلیت ہونے کے خوف کا شکار ہیں اور بھارت کو ہندئووں کا ملک رکھنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھارت میں ہر جگہ مظاہرے ہورہے ہیں کیونکہ جو لوگ سی اے اے کے تحت شہریت حاصل کریں گے انھیں اپنے مزہبی عقائد کے شواہد بھی دینا ہوں گے حالانکہ بھارتی آئین کے تحت مزہبی عقائد کی بنیاد پر قانون سازی ممنوع ہے لیکن مودی حکومت مزہب کی بنیاد پر ہی پالیسیاں بنانے اور قانون سازی میں مصروف ہے یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے لوگ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ بھارتی معاشرے میں مزہبی تفریق پروان چڑھتی رہی تو ملک کے امن و سکون کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے لیکن جنونی حکومت کو رتی برابر پرواہ نہیں وہ تعلیمی اِداروں میں اپنے زیلی ونگوں سے دنگا فساد کراتی ہے جب کہیں ایسا واقعہ ہورہا ہوتا ہے تو پولیس خاموش تماشائی بن جاتی ہے اور کسی حملہ آور کو پکڑنے میں دلچسپی نہیں لیتی جس کا مطلب ہے کہ پولیس حملہ آوروں کی حفاظت کرتی ہے اور ایسا ہدایات کی بنا پر ہی ممکن ہے وگرنہ امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت کیون دیتا ہے؟جنونی سب سے پہلے انصاف کا خون کرتے ہیں اور بھارت میں روز انصاف کی موت ہوتی ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں آبادی کے تناسب سے کئی گُنا زیادہ مسلمان جیلوں میں بند ہیں لیکن کسی جج کو رحم نہیں آتا ہندوکسی مسلمان کوقتل کرے ، زندہ جلائے،املاک نظرِ آتش کر ے جونہی مقدمہ جج کے سامنے رکھا جائے گا جج کوہندوپر رحم آجا تا ہے لیکن مسلمانوں کا نام آئے تو جج بے رحم بن جاتے ہیں ہندوتو گائے کا گوشت رکھنے کا جھوٹا الزام لگاکر تشدد کرتے ہیں لیکن آج تک کسی مظلوم خاندان کو انصاف نہیں ملا جنون کی لہر نے پورے بھارت کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ جنون انصاف کو مارنے کے بعد اور کیا گُل کھلائے گا ؟سمجھنا مشکل نہیں یہ جنون انصاف کے بعد خطے کے امن کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے جس پر دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے بھارتی وزیرِ دفاع راجناتھ نے کیرالہ میں شہریت کے متنازعہ قانون کے حق میں نکلنے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ بھارت پر حملہ ہوا تو مراکش سے ملائشیا تک کسی کو امن سے نہیں رہنے دیں گے سوال یہ ہے کہ جنونی بھارت میں انصاف کی موت پر دنیا خاموش ہے کیا دنیاکاامن درہم برہم کرنے پر بھی خاموش ہی رہے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں