88

وارسا میں مینگو ڈیپلومیسی: پولینڈ میں سفارتخانہ پاکستان کے کمرشل سیکشن کے زیراہتمام وارسا میں مینگو فیسٹیوال کا انعقاد

وارسا(خصوصی رپورٹ)جیسے جیسے سفارتکاری کے نت نئے طریقے دنیا میں رائج ہورہے ہیں، مختلف ممالک کی کوشش ہے کہ وہ ان طریقوں کو اپناتے ہوئے دیگر ممالک سے اپنے تعلقات کو فروغ دیں۔ اسی طرح کچھ ملکوں کو یہ قدرتی اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی سوغات اور مصنوعات کے ذریعے دیگر ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر اور مضبوط بناتے ہیں۔ پاکستان ایسے ممالک میں شامل ہیں جہاں کی کچھ مصنوعات اور سوغات اپنی مثال آپ ہیں۔ خاص طور پر پھلوں کا بادشاہ آم پاکستان میں بہت مشہور ہے اور اسے ذائقہ کے لحاظ سے دنیا کے بہترین پھلوں میں قرار دیا گیا ہے۔اگرچہ پاکستان نے پوری دنیا کو پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی آم برآمد کئے ہیں لیکن پولینڈ میں سفارتخانہ پاکستان کی کمرشل سیکشن نے اس بار پاکستان سے آئے ہوئے ان آموں کا فیسٹیوال منایا ہے۔بدھ کے روز اس فیسٹیوال کی افتتاحی تقریب سے سفیرپاکستان ملک محمد فاروق، پولش سفیر پیٹراوپالینسکی اور کمرشل قونصلر محمد زاہد بھٹی نے خطاب کیا۔ اس ایک روزہ مینگو فیسٹیوال میں پولش حکام، مختلف سفارتکار اور بڑی تعداد میں اہم سماجی و کاروباری شخصیات نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیرپاکستان ملک محمد فاروق نے کہاکہ پاکستانی آم ذائقے کے لحاظ سے پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے اور آم پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان پانچ نمبر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج کی تقریب پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا باعث بنے گی۔اس موقع پر پاکستان میں پولینڈ کے سفیر پیٹر اوپالینسکی نے پاکستان اور پولینڈ کے تاریخی تعلقات کا حوالہ دیا اور دوسری جنگ عظیم کے دوران برصغیر میں پولش باشندوں کی پناہ اورامداد کا بھی تذکرہ کیا اور کہاکہ کچھ پولش باشندے پاکستان سے واپس نہیں آئے تھے اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستانی شہریت دی گئی تھی۔ پولینڈ کے سفیر نے کچھ الفاظ اردو زبان میں بھی ادا کئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات کا مزید فروغ چاہتے ہیں۔اس دوران نظامت کے فرائض وارسا میں سفارتخانہ پاکستان کے کمرشل قونصلر محمد زاہد بھٹی نے انجام دیئے اور اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کا آم دنیا میں بہترین ذائقہ رکھتاہے اور پولینڈ اور اس سے قریب ریجن دنیا کے اس خوش ذائقہ ترین آم کے لئے بہترین مارکیٹ ثابت ہو سکتی ہے۔۔ اس دوران پس منظر میں پاکستانی گلوکاروں کی خوبصورت آواز میں پاکستانی ترانے بھی جاری رہے اور تقریب کے حاشیے میں پاکستانی آموں سے مختلف ڈشیں بھی سجائی گئی تھیں۔ تقریب میں شریک شخصیات نے اس فیسٹیوال کو بہت سراہا اور کہاکہ مینگو ڈیپلومیسی بھی تعلقات کو بڑھانے کا اہم ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کہنہ مشق پولش لکھاری و دانشور ماریک ستاویارسکی نے کہاکہ دنیا میں سفارتکاری کے بہت سے طریقے رائج ہیں۔ کلچرل ڈیپلومیسی سافٹ دیپلومیسی کی ایک قسم ہے اور پاکستان جیسے ملک کے پاس اس طرح کے بہت سے طریقے ہیں۔ پاکستانی آم کی دنیا میں بہت شہرت ہے اور اس سے پاکستان اپنے دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے سکتا ہے۔ تقریب میں شریک پاکستانی کمیونٹی کے ایک رہنما سید طاہرعلی شاہ نے اس تقریب کو بہت کامیاب قرار دیا اور کہاکہ اس کے دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو پاکستان کے خوش ذائقہ آموں کی تیار شدہ ڈشوں، مختلف ذائقوں میں مینگوجوس اور پاکستان کے دیسی کھانوں سے تواضع کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں