24

کشمیرکونسل یورپ کے زیراہتمام برسلز میں بھارتی مظالم کے خلاف اجتجاجی مظاہرہ

کشمیرکونسل یورپ (کے۔ سی۔ ای۔ یو) کے زیراہتمام برسلز میں یورپی ہیڈکوارٹرز کے سامنے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف اجتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ بھارتی مظالم کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ مظاہرہ جس کی قیادت چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کی، میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے متعدد رہنماوؤں اور انکے ہمدردوں نے شرکت کی جن میں چوہدری خالد جوشی، سردار صدیق، راؤ مستجاب، راجہ خالد، ملک اجمل، ندیم مہر، راجہ عبدالقیوم، سلیم احمد، شیخ الیاس، سید انصار شاہ، عثمان جوشی، اصغر بٹ اور ظہیر زاہد قابل ذکر ہیں۔اس موقع پر چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نےعالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ بھارتی حکام کے متعصبانہ رویئے اور سنگین مظالم کا فوری نوٹس لے۔دنیا کو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ بھارتی حکام کے ظالمانہ رویئے اور بھارت میں اقلیتوں اور پس ماندہ طبقات کے ساتھ مودی حکومت کے تعصبات و زیادتیوں کو روکنا چاہیے۔دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بھارتی مظالم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے ستم زدہ عوام کے لیے پچھلی سات دہائیوں سے سکھ کا سانس لینا دشوار ہوگیا ہے۔ اب تک گیارہ ماہ گزر ہوگئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھارت کی طرف سے مسلط کردہ لاک ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں۔ مودی حکومت نے پچھلے سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کرفیو لگا دیا اور وہاں کے لوگوں کے بنیادی شہری حقوق تک سلب کردیے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالمانہ تسلط اور متعصبانہ طرز عمل کو سات عشرے گزرگئے ہیں اور کشمیری عوام کے پاس پرامن احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں۔علی رضا سید نے کہا کہ ہم یورپی یونین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیرکے عوام اور بھارت میں پس ماندہ طبقات اور اقلیتوں پر مودی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرے۔ مظاہرہ کے دیگرمقررین کہناتھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والے آزاد کشمیر کے باشندے بھی بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے محفوظ نہیں۔ پاکستان کے علاوہ چین اور نیپال سمیت بھارت کے دیگر ہمسایوں میں بھی بھارت کی متعصبانہ پالیسیوں پر تشویش اور پریشانی پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں بھارت کی چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی سب کے سامنے ہے۔مقررین نے یورپی یونین کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و زیادتی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔مظاہرین کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے سماجی فاصلے اور چہرے پر ماسک کے استعمال سمیت تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کیاگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں