153

ناروے۔ انتہا پسندی، نسلی اور مذہبی تعصبات کو روکنے کے لیے مشترکہ جہدوجہد کرنا ہوں گی۔نارویجن وزیراعظم ایرنا سولبرگ

اوسلو(عقیل قادر) مسلم ورلڈ لیگ اور ڈائیلاگ فور پیس کے زیر اہتمام انتہا پسندی، نسلی و مذہبی منافرت کو روکنے کے لیے ایک اہم سیمینار کا انعقاد اوسلو کے لٹریچر ہاؤس میں کیا گیا جس میں ناروے کی وزیر اعظم ایرنا سولبرگ، ناروے کے سابق وزیر اعظم شیل مانگنے بوندویک، چیئر مین ڈائیلاگ فور پیس عامر جاوید شیخ کے علاوہ مختلف ممالک کے سفیروں نے شرکت کی جن میں امریکہ، سعودی عرب، ترکی، فلسطین، انڈونیشیا، مصر، عرب امارات اور بوسنیا شامل ہیں۔ سیمینار سے ناروے کی وزیر اعظم ایرنا سولبرگ نے خصوصی خطاب کیا اور مسلم ورلڈ لیگ کے جنرل سیکریڑی اور سعودی عرب کے سابق وزیر انصاف ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی اورنسلی و مذہبی منافرت کو ختم کرنے کے لیے دنیا کے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ وزیر اعظم ایرنا سولبرگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناروے میں چند نسلی اور مذہبی تعصبات رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور انکو روکنے کے لیے قومی سطح پر مختلف ایکشن پلان ترتیب دے چکے ہیں اور کچھ پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہاانتہا پسندی، نسلی اور مذہبی تعصبات کو روکنے کے لیے معاشرے کے تمام لوگوں کو اجتماعی طور پر اسکے خلاف جنگ لڑنا ہو گی۔ اہلسنت امام کونسل ناروے کی نمائندگی کرتے ہوئے پیر سید نعمت علی شاہ بخاری نے وزیر اعظم ناروے کو اسلام اور دیگر مذاہب کی تضہیک کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے کے لیے تحریری خط پیش کیا۔ عامر جاوید شیخ نے اس موقع پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ سیمینار کے دوسرے حصے میں جن مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں Manuela Ramin-Osmundsen,Ingrid Rosendorf Joys,، جاوید مشتاق، ڈاکٹر عثمان رانا، لِندا نور اور Josef Yohannes شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں