99

پریس کلب کھاریاں کا سیکرٹری تقریبات اورصحافت کا ایک اور خوبصورت ستارہ غروب ھوگیا..تحریر:نصراللہ چوہدری ایڈووکیٹ

پریس کلب کھاریاں کا سیکرٹری تقریبات اورصحافت کا ایک اور خوبصورت ستارہ غروب ھوگیا امجد حسین امجد سے قبل ان کا ھی کزن مرید حسین جعفری جو چند ماہ قبل اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا تھا ۔ابھی تو جعفری صاحب کا غم بھی نہ بھول پائے تھے کہ امجد حسین امجد بھی راہ عدم کا مسافر بن گیا اللہ تعالی جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔پریس کلب کے تمام ارکان نے امجد کی بیماری میں اس کا بھر پور ساتھ دیا صدر پریس کلب اور دیگر عہداران بھی دن رات امجد کی تمیارداری اور ھر لحاظ سے اس کی مدد کرتے رھے ۔
مجھے امجد کی شعبہ صحافت میں آمد اور اس کی بھرپور جہدوجہد کا مختصر سفر بڑی اچھی طرح یاد ھے میرے دفتر کچہری میں اس کا آنا جانا لگا رھتا تھا اور شروع میں تو بہت جذباتی تھا پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے شعبہ صحافت میں اپنا منفرد مقام پیدا کر لیا تھا میں اکٹر اس سے مزاق کرتا رھتا تھا اس پر بھی وہ مزید خوش ھوتا اور حقیقت یہ یہ انتہائی مخلص انسان تھا اور محنتی آدمی تھا اس نے دن رات محنت کی اور معاشرہ میں اپنا مقام بنایا ایسے مخلص اور اپنے کام میں ڈوب جانے والے بہت کم لوگ ھوتے ھیں
۔سب سے زیادہ وہ اس دن خوش تھا جب میں نے بطور صدر پریس کلب اسے شان کھاریاں ایوارڈ دیا اپنے دفتر میں۔۔
جس کا اس نے بہت چرچا کیا ۔ھر وقت خوش رھنے والا اور پریس کلب کی رونق امجد حسین امجد اج ھم میں نہیں اس کے جانے کا دلی افسوس ھوا لیکن اللہ تعالی سے ھر آنے والے کا اس دنیا میں کنٹریکٹ ھے کہ اس نے جانا ھے اللہ تعالی کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
اور میرے دیگر ممبران پریس کلب جن میں عبدالعزیز گوندل اور اعجاز مرزا کو جلد صحت عطا فرمائے ۔جو چند روز قبل علیل ھو گے تھے
۔لگتا ھے پریس کلب کو کسی کی نظر لگ گی ھے۔ امجد کا تعلق نواحی گاوں پیر جعفر سے تھا اور اس کی اپنے گاوں کے لیے بھرپور جہدوجہد یہ ھوتئ تھی کہ اپنے گاوں کے مسائل حل کروئے اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رھا
۔امجد حسین امجد کا نام سیاسی سماجی حلقوں میں معتبر سمجھا جاتا تھا ۔ اور ھر وقت اپنے فرایض کی ادیئگی کے لیے متحرک نظر اتا تھا
جوانی میں ھی اپنے گھر والوں دوستوں کو چھوڑ جانے والے امجد حسین امجد ایک خوبصورت انسان تھے۔جنہیں مدتوں یاد رکھا جائے گا اور ان کا مسکراتا چہرہ آج بھی بہت یاد ارھا ھے۔
اک مسافر تھا کچھ دیر ٹھہرا یہاں
منزل اپنی کو آخر روانہ ھوا ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں