جب سے کرونا کی وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لیا ہے سوشل میڈیا استعمال کرنے والا تقریباََہرفردہی معالج کی طرح مشورے دینے لگا ہے موبائل فون آن کرتے ہی طرح طرح کے پیغامات ملنے لگتے ہیں جنھیں پڑھ کر حیرانگی ہوتی ہے میں بھی کوئی بچہ نہیں زندگی کی پانچ دہائیاں گزار چکا ہوں کئی بار بیماری کا شکار بھی ہوا مگر جلد ہی اللہ کی رحمت سے تندرستی بھی مل گئی ہونے والے تجربات کی روشنی میں اب اگر کبھی طبعیت بوجھل ہوتی ہے تو علاج بل غذا پر اکتفا کرنا ترجیح ہوتی ہے مگرکبھی بے جا ادویات کے استعمال کی نوبت نہیں آئی طبعیت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں معالج کے مشورے کے علاوہ ایلو پیتھک یا ہومیو پیتھک ادویات کے استعمال سے گریز کرتا ہوں مگر کرونا کیا آیا ہے لگتا ہے سوشل میڈیا پر معالجوں کی بھرمار ہو گئی ہے اِتنے مشورے تو شایدکسی شعبے کے اسپیشلسٹ ڈاکڑ کے پاس بھی نہیں ہوں گے جتنے مشورے آجکل سوشل میڈ یا پر گردش کررہے ہیں نت نئی ادویات تجویز کی جارہی ہیں کوئی جڑی بوٹیوں سے علاج کے مشورے دے رہا ہے بھانت بھانت کی بولیاں سُن کر اچھا بھلا بندہ بھی خود کو چُغد محسوس کرنے لگتا ہے۔
    کرونا وائرس کا ابھی کوئی علاج دریافت نہیں ہوا بلکہ علاج کے متلاشی سائنسدان ابتدائی نوعیت کے تجربات میں مصروف ہیں جن مریضوں میں کرونا کی تشخیص ہوجاتی ہے ادویات کا استعمال شروع کراتے ہوئے ڈاکٹر مریض کی جسمانی حالت کے مطابق نسخہ تجویز کرتے ہیں کوئی مستند دوا نہ ہونے کی بنا پر مختلف بیماریوں کی ادویات پر مشتمل نسخہ لکھا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ مریض کی قوتِ مدافعت میں اضافہ کیا جائے نسخے کے ساتھ خوراک بہتر دی جاتی ہے جو جسمانی لحاظ سے صحت مند وتوانا ہوتے ہیں وہ جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں جو قدرے کمزور ہوتے ہیں انھیں بیماری سے جان چھڑانے میں زیادہ دن لگ جاتے ہیں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ کرونا کے شکار زیادہ تر بزرگ ہوتے ہیں نوجوانوں پر یہ بیماری کم حملہ کرتی ہے نیز گرم موسم بیماری بھگانے میں مددگار ہوتا ہے مگر نئی تحقیق میں اِن باتوں کی نفی کردی گئی ہے ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا ہر عمر کے فرد کو نشانہ بنا سکتا ہے تحقیق کی تصدیق اِ س امر سے بھی ہوتی ہے کہ پاکستان میں اِس بیماری کا شکار ساٹھ فیصد نوجوان ہیں جہاں تک گرم موسم سے بیماری کے خاتمے کی توقعات ہیں اِ ن میں کتنی صداقت ہے؟ کوئی حتمی بات سامنے آئے بنا کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔
    ڈاکٹری نسخے پر بات کرنا اِس لیے مناسب نہیں کہ نفع و نقصان کے بارے حتمی رائے بحرحل نسخہ تجویز کرنے والے کی ہی ہو سکتی ہے اگر وہ بے بسی ظاہر کرتے ہیں تو ایسا  وہ یقینی طورپر اپنے علم و تجربے کی بنا  پر ہی کہتے ہیں واجبی سی تعلین رکھنے والے عام فرد کی رائے کوبحرحل کسی اسپیشلسٹ ڈاکٹر پر ترجیح نہیں دی جاسکتی اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو نہ صرف بیماری کو طول دینے کاباعث بنے گا بلکہ عین ممکن ہے کسی بڑے نقصان سے بھی دوچار ہوجائے۔
    آپ کرونا سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے خاندان کو بھی اِ س موزی مرض سے بچانا چاہتے ہیں تو بہترین حل یہ ہے کہ ہاتھوں کو باربار کسی جراثیم کش صابن سے دوائیں اور بغیر کسی اشد ضرورت کے گھرسے نکلنے سے گریز کریں پُرہجوم جگہوں پر جانے سے حتی الامکان احتیاط کریں بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اگر باہر نکلنے کی کوئی مجبوری ہے تو منہ پر ماسک ضرور چڑھا لیں ہمارا جو مزاج ہے وہ گھروں میں بیٹھنے والا نہیں بلکہ اکثریت ہلے گلے پر یقین رکھتی ہے مگر مہربانی کریں ہلا گلہ چند دن کے لیے ملتوی کردیں جب کرونا کا خطرہ ختم ہوجائے گا تو اپنے شوق پورے کر لینا چند ایک احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے نہ صرف آپ خود ایسی بیماری جس کا کوئی علاج ہی نہیں سے محفوظ ہو جائیں گے بلکہ اپنے خاندان اور اپنے پیاروں کو بھی بچا سکتے ہیں اگر بے احتیاطی سے کام لیں گے تو نہ صرف آپ خود کو خطرے میں ڈالیں گے بلکہ اپنے خاندان اور اپنے پیاروں کو بیماری منتقل کرنے کے گناہ کے مرتکب ہوں گے کیا کوئی چاہے گا کہ وہ سب سے الگ وتنہا سسک سسک کر زندگی کے ایام گزارے؟یا کسی کی خواہش ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھرانے کے ساتھ دوست احباب اور محلہ داروں کو بیمار کرے؟ ہر گز نہیں۔کوئی بھی ایسا نہیں چاہے گا تو بہتر ہے لاک ڈاؤن کی پابندی کریں یہی بیماری کو محدود اور ختم کرنے کی کاوشوں میں معاونت کرنے کے مترادف ہے۔
    مہربانی کریں بچوں کو اگر سکولوں و کالجوں سے چھٹیاں ہیں تو اُنھیں گھر رہنے کا پابند رکھیں شادی بیاہ کے فرائض کچھ عرصہ ملتوی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں جب حکومت نے دفاتر سے چھٹیاں دے رکھی ہیں تو گھر انے کے افراد کے ساتھ ہی وقت گزرایں خاندان کو وقت نہ دینے کا یہ بہانہ کیا جاتا تھا کہ زندگی ہی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ فرصت کے لمحات ہی نہیں ملتے اب اگر فرصت ہے تو اپنے خاندان کووقت دینے میں کیا قباحت ہے؟ اگر خوراک کا مسلہ ہے تو وہ بھی حکومت نے حل کر دیا ہے خراب معاشی صورتحال کے باوجودعوامی حکومت احساس پروگرام کے تحت مستحقین کی بارہ بارہ ہزارامداد کر رہی ہے تاکہ آپ کو کھانے پینے کے اخراجات کی پریشانی نہ ہو یہ سب کرونا پر قابو پانے کے لیے کیا جارہا ہے آپ کے تعاون کے بغیراِس وباکو کو محدود نہیں کیا جاسکتا  اگر حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کررہی تو آپ کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنے علاقے اور اپنے وطن کو لاعلاج مرض سے محفوط رکھنے میں تعاون کر یں اور یہ تعاون تب تک موثر نہیں ہو سکتا جب تک سماجی دوری  اختیارنہیں کی جاتی گلے ملنے،ہاتھ ملانے اور گھومنے پھرنے سے بیماری کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے اِس کوتاہی سے خاندان،دوست احباب اور اپنے علاقے کو بھی لاعلاج مرض کے منہ میں دینے کا باعث بن سکتے ہیں صحتمند معاشرے کے لیے ہر فرد کو کردارادا کرنا ہو گا وگرنہ حکومت کی کاوشیں ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں سوشل میڈیا کے معالجین سے بھی احتیاط اشد ضروری ہے سوشل میڈیا کا ہر فرد معالج نہیں اِس لیے سُنی سنائی باتوں پر عمل کرنے سے گریز کریں اور بیماری سے نجات کے لیے حکومت اور طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کریں آپ کے تعاون سے معاشرے کو صحت سے متعلق لاحق خطرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے کرونا جان لیوا نہیں توبھی خطرناک مرض ہے جس سے بچنا ہی عقلمندی ہے۔

hameedullahbhati@gmail.com

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔