پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں یہاں مفاد کی بنا پر دشمن بھی دوست بناتے دیر نہیں لگتی اور کسی کی ضرورت نہ رہے تو برسوں کے تعلقات ختم کرنے میں عار محسوس نہیں کی جاتی سیاستدان اسی تاک میں رہتے ہیں کہ کب، کہاں، کسے اور کیا داﺅ لگانا ہے؟ کہ حریف کو چاروں شانے چت گرایا جائے ہماری سیاست بہت بے رحم ہیں یہاں کوئی کسی کا احسان یاد نہیں رکھتا البتہ استعمال کرنے کے ہُنرمیں سبھی تاک ہیں ایک دوسرے کو کاری ضرب لگانے کے لیے تاک میں بیٹھے سیاسی شرفا اصولوں پر تو سمجھوتہ کر لیتے ہیں لیکن مفاد کی قربانی کسی طور گوارہ نہیں کرتے یہ کوئی اچھا چلن نہیں مگر کیا کریں ملک کی تہتر سالہ تاریخ ایسی مثالوں سے عبارت ہے اقتدار کی خاطر ملک توڑنے پر رضامندہو جاتے ہیں لیکن اقتدار سے دوری برداشت نہیں کرتے سیاست میں تعلق ،احترام یا دوستی کچھ بھی حرفِ آخر نہیں حالات کے ساتھ کہے سے پھرجانا عام بات ہے پاکپازچہرے کی تلاش میں سیاسی منظرنامے پر نظریں دوڑائیں تو چند ایک بزرگ چہروں کے سواکوئی متاثر کُن تصویر نظر نہیں آتی۔  
    بے نظیر بھٹو کی رحلت کا زمہ دار پرویز مشرف کو قرار دینے کے ساتھ مسلم لیگ ق کو قاتل لیگ جیسے القابات سے نوازا گیا نیک سیرت چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف ایسی زہرناک مُہم شروع کی گئی کہ لوگ دنگ رہ گئے یہ وہ وقت تھا جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں تازہ تازہ رومان تھا دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے پر صدقے واری ہورہی تھی اور مل کر پرویز مشرف سے ملک کے سیاسی منظر نامے کو پاک کر نے پر کمر بستہ تھی حیران کُن طور پر انتخابی عمل کے نتائج اُن کے حق میں آگئے پھر چشمِ فلک نے منظر دیکھا کہ بظاہر حریف کے طور پر انتخابی عمل میں حصہ لینے والی جماعتوں نے مشترکہ حکومت بنالی مسلم لیگ ن کی ترجیح پرویز مشرف سے نجات کا آصف زرداری کومکمل ادراک تھا وہ ایوانِ صدر میںبیٹھنے کا داﺅ لگانے کو پہلے ہی تیارتھے اسی لیے مسلم لیگ ن کی ہر بات پر ہاں کرتے رہے جونہی مشرف سے نجات کی جھلک واضح ہوئی مسلم لیگ ن کی پی پی کو ضرورت نہ رہی پھر وعدے قرآن وحدیث نہ ہونے کا شہرہ آفاق موقف اپنا لیا اتحاد کے خاتمے کو آصف زرداری نے اہمیت نہ دی کیونکہ اِ س وقت تک وہ ایوانِ صدرمیں بیٹھنے کی راہ ہموار کر چکے تھے اور اُن کا یہ خواب نواز لیگ کو الگ کیے بنا آسانی سے پورا نہیں ہو سکتا تھا علیحدگی سے پی پی نے سکھ کا سانس لیا مگر نواز لیگ کے الگ ہونے سے حکمران جماعت کی ایوانوں میں اکثریت ختم ہو گئی حکومت برقرار رکھنے کے لیے اب اِ دھر اُدھر تانک جھانک کی جانے لگی ۔
     حکومت بچانے اور اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پی پی نے بہت ہاتھ پاﺅں مارے چند ایک ممبرانِ اسمبلی کوتوڑبھی لیا مگرمقصد پوراہوتا نظر نہ آیا تو مسلم لیگ ق سے اتحادکی ضرورت محسو س ہوئی بیک ڈور چینل سے رابطے کیے جانے لگے وزارتوں کے ساتھ کئی دیگر عہدوں کی آفرہونے لگی مگر ق لیگ نے فوری اعتبار کی بجائے محتاط رویہ اپنایا تو وزیر قانون بابراعوان کو منت سماجت کرنے چوہدری بردران کے گھر بھیج دیا اور ماضی کی غلطیاں بُھلا کر اختلافات ختم کرنے کی درخواست کی حیران کُن طور پر اینٹی بھٹو سیاست کرنے والے چوہدری برادران مان گئے اور حکومت میں بطور اتحادی شرکت کر لی اِس اتحاد کا پیپلزپارٹی نے پورا فائدہ اُٹھایا اورعدالتی فیصلے سے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے باوجود راجہ پرویز اشرف کو وزیرِ اعظم کے منصب پر با آسانی منتخب کراکر مدتِ اقتدار پوری کر لی لیکن یہ اتحاد دونوں جماعتوں کی قیادت کے لیے سخت مُضر ثابت ہوا 2013کے انتخاب میں دونوں جماعتیں بُری طرح ہار گئیں مگر وضع دار چوہدری برادران شکوہ کرنے یا کسی کو زمہ دار قرار دینے کی بجائے شکست تسلیم کر تے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھ گئے انتقامی جذبات سے مغلوب نواز لیگ نے ق لیگ کے اراکین توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی تاکہ چوہدری برادران کا ملکی سیاست سے کردارختم کیا جا سکے لیکن چوہدری خاندان کی سیاسی حثیت کم نہ ہوئی اوروہ 2018کے انتخاب میں چند نشستیں لینے کے باوجود حکومتوں کی تشکیل میں اہم ترین حثیت اختیار کر گئے حمزہ شہباز سمیت رانا ثنا اللہ جو مسلم لیگ ق اور چوہدری برادران کی سیاست کا اپنے تئیں خاتمہ کرچکے تھے اب روابط کے لیے منت سماجت کرتے ہوئے عہدوں کا دانہ ڈالنے لگے بات پھر بھی نہ بنی انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے چوہدری برادران نے ملاقات کا وقت دینے سے بھی اجتناب کیااور اپنا وزن پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈال دیا۔
    دوبرس میں ہی چند ایک فیصلوں سے تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق کے مراسم میں گرمجوشی کم ہو رہی ہے جن کی بنا پر قربتیں اگر ختم نہیں ہوئیں تو کم ضرور ہوچکی ہیں خواجہ سعد رفیق جوبطور وزیر ریلوے چوہدری برادران کو ہدفِ تنقید بناتے وضع داری اور مروت کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھے حالات کی مجبوری نھیں ایک بارپھر چوہدری برادران کی چوکھٹ پر لے آئی ہے بطور وزیر بات بات پر چوہدری پرویز الٰہی جیسے زیر ک اورسینئر سیاستدان کو طعنے دینے والے اب بظاہرکرونا وائرس سے بچاﺅ اور تدارک کے لیے تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے پر مبارکباد پیش کرنے لگے ہیں چوہدری پرویز الٰہی انتقامی نہیں رواداری کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں بدترین انتقامی کاروائیوںکے باوجود بطور سپیکر انھوں نے حمزہ شہباز اور خواجہ سلیمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے حالانکہ گزشتہ دور میںچوہدری مونس الٰہی کو یہ سہولت نہ دی گئی جس کا اعتراف کرتے ہوئے خواجہ رفیق کے صاحبزادوں نے تشکر کیا اور پرانے تعلقات کا حوالا دیتے ہوئے غلطیاں و کوتاہیاں ملاقاتوں سے دور کرنے کی بات کی مگر یاد رکھیں سیاستدان جب مل بیٹھتے ہیں تو صرف وہی کچھ نہیں ہوتا جو منظرِ عام پر آتا ہے بلکہ جن امور پر اتفاق ہوتا ہے وہ ضرورت کے وقت ہی طشت ازبام ہوتے ہیں حریف جماعتوں کے اہم رہنماﺅں کی ملاقات بدلتے سیاسی منظر نامے کا نکتہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے ۔
    چوہدری خاندان سیاسی مخالفت کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ اقتدار کے دوران حریفوں پر بھی احسان کر جاتے ہیں اسی لیے ملک کے تمام سیاستدان اُن کا احترام کرتے ہیں کبھی بابر اعوان اُن سے اپنی جماعت کی حکومت بچانے کے لیے درخواست لیکر آئے تھے آج خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ ن سے تعاون کے متمنی نظر آتے ہیں یادرہے دوبرس بیت چکے سال یاڈیڑھ سال تک اگلے انتخاب کی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی جس کے لیے سیاسی جماعتیں صفیں درست کرنے لگی ہیں ایک ایسے وقت میں جب مسلم لیگ ق کے واحد وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ وزارت کے باوجود ناخوش ہیں چوہدری مونس الٰہی وزارت لینے سے انکاری ہیں ملاقات کواِس تناظر میںدیکھا جائے تو بہت کچھ سمجھ میں آجاتا ہے شہبازشریف سے مل کر خواجہ سعد رفیق کا آنااور پھر مرضی کی روداد زرائع ابلاغ کو جاری کرنا عیاں کرتا ہے کہ اگرنیا اتحاد نہیںبھی ہورہا تو بھی قربت پید اہوچکی ہے وگرنہ بیس برس بعد اچانک ملاقات کی کچھ سمجھ نہیں آتی پی ٹی آئی کو اسمبلی میں سخت وقت دینے کا ماحول فوری طورپر بعید از قیاس ہے حالات سے مجبور مسلم لیگ ن کو بیساکھی فراہم کرتے ہوئے ماضی کی رنجشوں سے چوہدری برادران کا صرفِ نظر کرنامناسب نہیں ہوگا پی پی سے اتحادکے زریعے بہت نقصان اُٹھا چکے مفاہمت کا کوئی بھی نیافیصلہ کرنے سے قبل بہت کچھ سوچنا ہوگا اقتدار کی تاک میں بیٹھی مسلم لیگ ن اتحاد میںدراڑ ڈال کرداﺅ لگانے کوتیار ہے مگر یہ نظر انداز کرنا مناسب نہیں کہ پی ٹی آئی میں لاکھ خامیاں سہی عمران خان کا ماضی اور حال دیکھ کر باآسانی کہا جاسکتا ہے کہ وہ شریف خاندان کی طرح نہ تو منافق ہے اور نہ ہی چُھپ کر وار کرنے کا عادی ہے۔ 

hameedullahbhati@gmail.com

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔