کرونا ایسی وبا نکلی جس نے ہم میں سے بہت سے درشنی پہلوانوں کو ننگا کر دیا خدمت خلق کے حوالے سے لمبے لمبے بھاشن دینے والے مہربان بھی ایکسپوز ھو گئے ھمارے کچھ سیاسی راھنما ایسے غائب ھوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
کرونا نے دنیا کویہ بھی بتا دیا کہ اصل طاقت اسی کے پاس ھے
یہ چھوٹے چھوٹے فرعون اس کے سامنے کچھ بھی نیہں ۔سپر پاور اسی کی ذات ھے۔اور پھران کو بھی جنجھوڑا جو پیسے کو ہی اپنی زندگی کا نصب العین سمجھتے ھیں ۔
میں اجکل۔سپین میں ھوں اور یورپ میں اٹلی کے بعد سب سے زیادہ متاثر ھونے والا یہی ملک ھے ۔اور مجھے اس بات کا بھی یقین ھے کہ یہاں مقیم بہت سے ناخداءوں نے ان حالات ابھی بھی سبق نیہں سیکھا ھوگا
وہ لوگ جو اپنی زمین جائیداد بیچ کر یہاں آئے ان لوگوں کا استحصال کرتے ھیں خاص طور پر میرے کچھ ھم وطن 12 گھنٹے مزدور سےکام لے کر اور 8 گھنٹے کی بجائے 4 گھنٹے کا کنٹریکٹ کرتے ھیں اور تنخواہ بھی کم دیتے ھیں اور آخر میں لاکھوں روپے لے کر کنٹریکٹ بییچھتے ھیں ۔ان نودولتیوں کے بارے میں پھر تفصیل سے بات کروں گا ۔
اس وقت اھم ترین مسئلہ اوورسیز اور خاص طور پر سپین میں کرونا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارنے والے میرے ھم وطنوں کا یہ ہے کہ ان کی باڈی لے کر جانے والا کوئئ نیہں ۔
پہلے تو جس انداز میں ان کے بارے میں اعلانات کئے گئے اور ان کی تذلیل کی گئی ۔وہ اپنی جگہ قابل مذمت ھے
وہ لوگ جو ملکی معیشت میں بے پناہ کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے بارے میں الفاظ کا چناؤ مناسب نیہں تھا۔
اب بارسلونا اور سارے سپین میں موجود پاکستانی کمیونٹی گزشتہ دوھفتے سے مطالبہ کر رھی ھے کہ ان ڈیڈ باڈیز کو پاکستان بھجوانے اور اسپیشل فلائٹ کا انتظام کیا جائے۔تاکہ یہ لوگ کم از کم۔اپنی مٹی میں تو دفن ھو سکیں۔
بارسلونا میں بہت سے درد دل رکھنے والے لوگ ھیں جو اپنی مدد آپ کے تحت بہت سے گھرانوں کا خرچہ برداشت کر رھےھیں۔
ھمارے دوست نوید وڑائچ ایک مخلص اور درد دل رکھنے والا نوجوان ھے جس نے یہ بھی کہہ دیا ھے کہ اس مسئلہ پر اگر حکومت پاکستان نے اپنے اوورسیز بھائیوں کی مدد نہ کی تو میں پارٹی چھوڑ دوں گا ۔اور یہ حقیقت ھے کہ اس سے پہلے اوورسیز پاکستانی اپنی حکومت سے مایوس ھوں انھیں فورا فلائٹ کا انتظام کرنا ھو گا۔اور خاص طور پر اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ھو گا۔
وگرنہ
اس وقت سے ڈریں جب ان سے پورپ میں پروٹوکول کی جگہ ان سے سلام لینے والا بھی نظر نہ ائےگا۔ سیاستدانوں کو تو پتہ ھوتا چاھے۔
دل کے دریا کو ایک روز اتر جانا ھے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کہ گھر جانا ھے۔۔۔۔
اوورسیز سمیت دنیا بھر کے لوگوں کے لیے یہ امتحان کا وقت ھے ۔فیس بک پر لوگ معافیاں تو مانگتے ھیں لیکن اپنے ہمسایہ کا پھر بھی خیال نہیں رکھتے
۔اور سیاسی راھنما جس طرح الیکشن کے دنوں میں عوامی رابطہ مہم چلاتے ھیں۔اسی طرح آج بھی چلائیں تو ووٹ کے ساتھ ساتھ اس کا آجر بھی ثواب کی صورت میں ملےگا

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔