آج کرونا ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کے سدِ باب کیلئے بہت زیادہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ دنیا کے تقریباََ 200سے زیادہ ممالک تک پھیل چکا ہے اور 8لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ہر طرف خوف و ہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں مگر بھوک افلاس کے مارے سہم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کیونکہ فورسز بھی لاک ڈاؤن میں حکومت کی معاونت کر رہی ہیں۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نہایت تنددہی اور فرض شناسی سے ہسپتالوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ یہ بھی قوم کے اعلیٰ ترین سپوت ہیں جن کی خدمات کو کسی حال میں بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس کی جرأتوں اور ہمتوں میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ سنا ہے کہ ایک نرس بھی جامِ شہادت نوش کر چکی ہے۔ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیا ت ہے
شہید کا جو لہو ہے وہ قوم کی زکوٰۃہے
اب قربانیوں کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ سٹاف نے وقت کی پابندی بھی پیش کر دی ہے۔ رات دن خدمات کیلئے اپنے آپ کو ملک و قوم کیلئے حاضر کرنا بھی ایک بہت بڑی قربانی ہے۔ قوم کے تفکرات بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ ملکی سطح پر ہر دن کا سورج نئے اعداد وشمار لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ فیس بک پر نئے نئے نسخہ جات اس وائرس سے نمٹنے کیلئے منظرِ عام پر آرہے ہیں۔ نیم حکیم بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ابھی تک اس موذی وائرس کا علاج یا ویکسین دینے سے قاصر ہے اور صرف اور صرف احتیاط ہی کو بہترین علاج کہا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ڈاکٹرز یہ نرسیں اور دیگر پیرا میڈکس سٹاف ہماری مدد جان پر کھیل کر اور خود کو مصیبت میں ڈال کر کر رہا ہے۔ نہتے فوجی آخر کہاں تک اور کب تک لڑیں گے۔ ابھی جذبہ ایمان کی طاقت سے مقابلہ کیا جا رہا ہے مگر دعا کے ساتھ ساتھ دوا کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اس عبرت انگیز فضا میں اگر کوئی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے تو یہ بہت بڑے حوصلے اور جرأت کا کام ہے۔ ڈاکٹر مسیحا ہوتے ہیں اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سر شار ہوتے ہیں انسانیت کو موت کے منہ سے واپس لے کر آنا اور پیار بھرے جذبات کو پیش کرنا صرف اور صرف انہی کا کام ہوتا ہے۔ اگر یہ مریضوں کو رسیوں سے باندھیں نہ تو یہ فرشتوں کا دوسرا روپ ہوتے ہیں۔ کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں۔ ہمیں ان سے آگاہ رہنا چاہیے۔ آج کل جس وباء سے ان کا پالا پڑا ہوا ہے اور جس طرح سے یہ حالات و واقعات سے نمٹ رہے ہیں اس کی مثال قطعاََ پہلے دستیاب نہیں ہے۔ نہ حفاظتی لباس مکمل، نہ آلات مکمل، نہ ادویات مکمل مگر پھر بھی اَن دیکھے قاتل سے یہ لوگ بے خوف ہو کر لڑ رہے ہیں۔ جان کی پرواہ کیے بغیر اور قوتِ ایمانی کے جذبات سے سرشار ہو کر یہ ہماری نرسز اور ڈاکٹرز میدانِ عمل میں ہیں۔ میں ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کی جرأتوں اور ہمتوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔ قرآ نِ مجید میں ہے ” جس نے ایک جان بچائی گویا ا س نے پوری انسانیت کو بچایا”سنا ہے کہ ڈاکٹر رضوان اور سید بابر گجرات میں عزیز بھٹی ہسپتال میں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبان کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔آمین!
حکومت ڈاکٹرز اور ہسپتال کے دیگرسٹاف کو حفاظتی کِٹس اور ٹیسٹنگ کِٹس وغیرہ فراہم کرنے میں کچھ سنجیدہ نظر آرہی ہے مگر بیچارگی کا عالم بھی حکومتی چہروں پر نمایاں نظر آرہا ہے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ خود کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ حفا ظتی سازوسامان کے بغیر ہیلتھ پروفیشنلز کا کام کرنا اللہ توکل ہے۔ خدا نہ کرے کہ کسی مصیبت کا پیش خیمہ ہو۔ویسے بھی جنگیں ہر دور میں جذبوں کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں سے لڑی جاتی رہی ہیں۔ قرنطینہ میں ڈیوٹی پر مامور عملہ کو خصوصی طور پر حفاظتی آلات سے لیس ہو کر ڈیوٹی سر انجام دینی ہو گی۔ ان کو جلد از جلد کرونا سے متعلق سازو سامان مہیا ہونا چاہیے۔ میڈیا بیانات کا ڈھیر لگا ہوا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ خدارا ہر کام کو سنجیدہ ہو کر کیا جائے۔ ہیلتھ پروفیشنلز کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان ہونا چاہیے۔ پنجاب حکومت نے خصوصی اعزازی تنخواہ کا اعلان کر کے پیرا میڈکس سٹاف کے دلوں میں گھر بنانے کی کوشش کی ہے اس سے ڈاکٹروں میں اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے۔ یہ لوگ ہمارے ہیروز ہیں ان کے سب جائز مطالبات کو حل ہونا چاہیے۔ بہر حال مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے تمام ڈاکٹرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز اس موذی وائرس کے سدِ باب کیلئے رات دن کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم کسی صورت بھی سوز ِ یقیں سے محروم نہیں ہوں گے۔ این آئی بی ڈی میں ڈاکٹر طاہر شمسی صاحب نے پلازمہ ٹیکنیک سے اس کا علاج دریافت کر لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس میں ونٹی لیٹرز کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ جانے کہاں تک یہ بات درست ہے۔ ہم عوام ہیں اور عوام کو تو کسی ایسے مسیحا کی ضرورت ہے جو زندگی کو امان دے سکے۔ انسانیت کو پھر سے اک نئی منزل کی جانب رواں دواں کر دے۔ کرونا کے بارے میں جب میں نے ایم ایس شیخوپورہ ڈاکٹر اظہر امین صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بڑے دلیرانہ انداز میں کہا کہ اگر ڈاکٹر اسامہ ریاض اپنی جوانی کو قربان کر سکتے ہیں تو ہم بھی پاکستان کی عظمت اور انسانیت کی امان کیلئے قربانی دینے کو فخر سمجھیں گے۔ زندہ دل اور جذبہ خدمت سے سر شار نرس میڈم آسیہ پروین نرسنگ SP اور ان کی آل نرسز نے مجھے روک کر کہا کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہماری اولادیں بھی پاکستان اور انسانیت کی خدمت کیلئے حاضر ہیں۔ ہمیں کسی تمغے کی ضرورت نہیں ہے صرف ربِ کائنات کی رضا چاہیے۔ انسانیت کی فلاح چاہیے۔
اے وطن تیر ا اک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا
اے میرے پروردگار! ہمارے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ارادے نیک ہیں۔ بہت قریب آکر ہماری امان کی دعاؤں کو قبول فرما اور اس موذی وائرس سے جلد از جلد ہمیں نجات عطا فرما۔ انسانیت کو تباہی سے بچا۔ہمارے حکمرانوں کی پریشانیوں اور نیّتوں کو انسانیت کی فلاح اور بقا کیلئے راہِ مستقیم پر مامور کرتے ہوئے مائل بہ کرم فرما۔
خونِ دل دے کے نکھارے گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
آخر میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ یہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس ہمارے ہیروں ہیں۔ اللہ پاک ان کی عزت وناموس میں اور اضافہ فرما دے۔ ان کے دلوں کو جذبہ خدمتِ عوام الناس سے مامور فرما دے۔ ان کے ہاتھوں میں ابنِ مریم جیسی مسیحائی کی طاقت رکھ دے۔ یہ ہاتھ انسانیت کیلئے محبت بانٹنے والے ہاتھ بن جائیں۔امیدِ واثق ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ کرونا سے نجات بخش دے گا کیونکہ میرے رب کو بھی انسانیت سے پیار ہے اور ہم پیار کے طلب گار ہیں۔حضرت محمد ﷺ و آ لِ محمدﷺکے صدقے یا اللہ ہمیں معاف فرما دے۔آمین!

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔