قدرتی آفت ایک ایسا حادثہ ہے جو منفی انداز میں معاشرے اور ماحول پر اثر اندازہوتا ہے۔بنی انسان پر کسی بڑی مصیبت کا آجانا جو موجب تباہی ہو قدرتی آفت کہلاتا ہے اسی طرح کرونا وائرس یعنی ایک سمجھدار جراثیم جو انسان کے جسم میں داخل ہو کر چودہ دن تک اپنی موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔جو بات کرنے سے ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے جسم میں چپکے سے گھر کر لیتا ہے۔ایک اعذاب اور وارننگ کی صورت میں پوری دنیا پر نازل ہوا ہے اس کی نظر ہزاروں زندگیاں ہو گی اور لاکھوں زندگیاں نگلنے کے درپے ہے اللہ کی جانب سے مختلف ادوارمیں اس طرح کی آزمائش وباء کی صورت میں نازل ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔کائنات کے نظام میں اللہ کے ضابطے اٹل اور ناقبل تبدیل ہیں انفرادی اور اجتمائی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کے قوانین کی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے لیکن اللہ پاک فرماتاہے کہ جو مصیبت تم پر آتی ہے تمہارے اعمال کے سبب آتی ہے اور بہت سی باتوں کو اللہ پاک معاف فرما دیتا ہے۔آج پوری دینا ایک طرح سے جیل میں قیدی کی مانند ہے۔آج ہر کسی کوہرکسی سے خطرہ ہے ایک افراتفری کا عالم ہے۔لوگ گھروں میں محدود ہیں۔ان تمام حالات کے پیش نظر ہم کو یہ دیکھانا ہے کہ ہم نے اس عذاب سے جو ہم نے خود پر نازل کیا ہے کچھ سیکھا ہے؟کیا ہم نے غور کیا ہے کہ کیوں ہماری بے وقت کی آذان توبہ اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول نہیں ہو رہی ہے؟آج پندرہ دن کے لگ بھگ ہو گئے ہیں لاک ڈاؤن اور قیدی بنے ہوے لیکن کیا ہم نے اس سے کچھ سیکھا؟ کیا ان برے حالات میں ہم نے منافع خوری چھوڑ دی؟ کیا ہم نے کرپشن چھوڑ دی؟ کیا ہم بہنوں کو وراثت کا حصہ دینے پر آمادہ ہوگئے؟ کیا ہم نے فرقہ واریت میں تقسیم ہونا چھوڑ دیا اور شعیہ سنی دیوبندی کی نقسیم سے نکل آئے؟ کیاہم نے جھوٹ کا کاروبار چھوڑ دیا؟ کیا ہم نے ظلم کے خلاف کھڑاہونے کا اردا کر لیا؟ کیا ہم نے غریب کی امداد کے نام پر تذلیل چھوڑ دی؟ کیاہم نے سود چھوڑ دیا جس کے متعلق نبی پاک ﷺکا فرمان ہے جس نے سود لیا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلان جنگ کیا کیا ہم نے اپنے نبیﷺ سے جنگ چھوڑ دی؟؟؟ تو جواب آے گا نہیں بلکہ اس ساری عذاب ناک صورت حال میں ہمارا اور بھیانک چہرہ نکل آیا ہے ہم بالکل ایسی قوم یعنی بنی اسرائیل کے نقش قدم پر ہیں جو عذاب کی صورت میں پیغمبروں کے ذریعے اللہ سے رجوع کر کے توبہ طلب کرتے اور بعد میں پیغمبروں کو قتل کر ڈالتے۔لیکن ہم سیکھ سکتے ہیں قدرت کے اشاروں سے دین اسلام کے بتائے ہوے اصولوں سے اللہ کی نافذ کی ہوئی حدود سے۔اسلامی روایات کے مطابق کاروباری معاملات صبح فجر سے شروع ہو کہ مغرب تک منڈیاں بند ہو جاتی تھی۔اور لوگ عشاء کی نماز گھروں میں ادا کرتے تھے جیسا کہ آج کا مسلمان بوجہ مجبوری کر رہا ہے،اسلام میں فضول خرچی سے ممانت کی اورآج تمام فوڈ پوائنت پارلر، کیفے اور نجانے کیاکیا آفتیں ہم نے خودد پر عذاب کی صورت نافذ کیے ہوے ہیں سب بند ہیں اور لوگ سوچ سمجھ کر پیسہ خرچ کر رہے ہیں آج غریب سے زیادہ امیر ڈر رہا ہے جو زمین پر اکڑ کے چلتا تھا آج وہ اس آفت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہے جو اس نے نجانے کتنے لوگوں کا حق مار کے اکھٹا کیا ہے۔ہم وہ طریقہ کار جسے ہم احتیاطی تدابیر کا نام دیتے ہیں اس عذاب کے بغیر اپنا کے چودہ سو سال پہلے نبی پاکﷺ کے بتاے ہوے راستے پر چل کے اپنے رب اور اس کے رسول کو راضی کر سکتے تھے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم سیکھیں گے؟

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔