عمران خان نے بڑی محنت سے نہ خو دکھاتا ہے نہ کھانے دیتا ہے کا تاثر بنایا تھا مگر یہ تاثر چینی بحران اورآٹے کے حوالے سے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ سے ختم ہو گیا ہے رپورٹ میں زمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے حکومت میں شریک طاقتور افراد کوزمہ دارقرار دیا گیا ہے جنھوں نے اپنے مفاد کے لیے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرایا اور خود ہی فیصلے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اربوں روپے جیب میں ڈال لیے تحقیقاتی رپورٹ سے لوگوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ خود نہیں بھی کھاتا تو کسی کو کھانے سے منع بھی نہیں کرتا، کسی کومنع نہ کرنے میں کیا حکمت ہے یا کون سی مجبوریاں ہیں عوام کو اِس سے غرض نہیں وہ سوال کرتے ہیں کہ چینی برآمد پر سبسڈی دینے والے اپنے ملک میں کیوں ارزاں نرخوں پر اشیائے کردنوش کی فراہمی کیوں یقینی نہیں بناتے؟ یہ سوال نہ صرف حکمرانوں کی مقبولیت پر اثر انداز ہورہا ہے بلکہ سیاستدانوں کی بدنامی کا باعث بھی ہے اب اگر نیک نامی کے بارے یہ جواز پیش کیا جائے کہ وزریرِ اعظم نے رپورٹ آتے ہی مخفی رکھنے کی بجائے عام کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے اِس میں صداقت نہیں نہیں کیونکہ فیصلے سے قبل ہی زرائع ابلاغ کے نمائندے رپورٹ کے کچھ حصے منظرِ عام پر لے آئے تھے جس کی بنا پر مجبوراََحکومت کو بھی رپورٹ عام کرنے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔
    حکمران جماعت میں دھڑے بندی کسی سے مخفی نہیں حکومت میں شامل کئی ایسے چہرے ہیں جن کے آپس میں تعلقات اچھے نہیں بلکہ باہمی کھینچا تانی ہے یہ دھڑے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مُہم میں پیہم مصروف رہتے ہیں اپنی اپنی طاقت بڑھانے کے لیے گروپ بنا تے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں آزاد ارکان کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور حکومت کا حصہ بنانے میں جہانگیر ترین کا اہم کردار ہے اسی بنا پر اُنھیں عمران خان کی قربت ملی یہ قربت اُن کے مخالف دھڑے کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اوروہ جہانگیر ترین کی مقتدر حثیت ختم کرنے کے متمنی ہیں واجدضیا کی رپورٹ افشا کرنے سے قبل ہی  زرائع ابلاغ کے نمائندوں اور اپوزیشن سیاستدانوں تک پہنچانا اسی مخالف دھڑے کی مہربانی ہے اسی بنا پر جہانگیر ترین خدمات کے باجود قربان کر دیے گئے مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ممبران پارلیمنٹ کی بڑی تعدادسے اُن کے اچھے مراسم ہیں اور اِن ممبران پارلیمنٹ کے فیصلوں پر جہانگیرترین اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔
    نوازشریف اور بے نظیر حکومتوں کی طرح اب یہ باتیں عام ہونے لگی ہیں کہ یہ حکومت اپنا عرصہ اقتدار پوری نہیں کرے گی خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حکمرانوں پر بدعنوان ہونے کی مُہر لگ چکی اب تبدیلی کے خواہشمندوں کو بدعنوان حکمران ہٹانے سے کون منع کر ے گا؟ ظاہرہے عوام کی خواہش ہوگی کہ بدعنوانوں کو ہٹاکرایسے نیک نام لوگوں کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا جائے جو ملکی وسائل سے جیبیں بھرنے کی بجائے عوام کی حالتِ زار بہتر بنائیں ایف آئی اے کی رپورٹ سے اِ س امکان کو تقویت ملی ہے کہ سیاستدانوں کو رسواکرنے کے منصوبے پر کام جاری ہے جس کے لیے حسبِ روایت واجد ضیا نے کٹھ پتلی کے طورپرکندھا پیش کیا ہے سیاسی نبض شناس کہتے ہیں کہ تبدیلی کا عمل ممکن ہے رواں برس کے اختتام سے قبل ہی شروع ہو اور حکومتی کہانی کا اختتامی موڑ آجائے۔
    واجد ضیا ایسا کردار ہیں جنھوں نے سیاستدانوں کو بدنام کرنے میں کبھی رعایت نہیں کی نواز شریف کو بھی اُن کی رپورٹ پر ہی کوچہء اقتدار سے معینہ مدت سے قبل رخصت ہوناپڑااب جو فضا بن گئی ہے وہ زرعی ٹاسک فورس کی چیئرمینی،زراعت کے وزیر کی سبکدوشی یا چند تبادلوں سے ختم ہوجائے گی؟کسی صورت میں نہیں جہانگیر ترین سے عمران خان فاصلہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تویسی صورت میں تحریکِ انصاف میں اضطرابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جہانگیر ترین خود اعتراف کرتے ہیں کہ عمران خان سے پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے خسروبختیار کی سزا وزارت کی تبدیلی مگر ترین پر غصہ انصاف نہیں ناانصافی ہے وزیرِ اعظم کے پرنسپل سے ترین  شاکی ہوچکے جواب میں اگر وہ حکومت کو جھٹکا لگاتے ہیں تو یہ جھٹکا کہانی کے اختتام پر منتج  ہو سکتاہے 
    چینی بحران کے زمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے رپورٹ میں تحریکِ انصاف کے ساتھ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے کئی اہم نام شامل ہیں مگر اپوزیشن جماعتیں حکومتی صفوں میں شامل افراد کے محاسبے کا مطالبہ کر رہی ہے حالانکہ فائدہ اُٹھانے میں اُن کے اپنے بھی بری زمہ نہیں مگر یہ کہنا کہ سبسڈی پر چینی عالمی منڈی میں بیچ کر جُرم کیا گیاہر گزدرست نہیں زرِ مبادلہ کے زخائر بڑھانے کے لیے اکثر ممالک برآمدات بڑھانے کے لیے سبسڈی دیتے ہیں ہمارے ہمسایہ ممالک چین اور بھارت کی مثال لے لیں یہ دونوں ممالک سبسڈی دیکر تجارت کرتے ہیں کیونکہ عالمی منڈی کے تاجر اچھی اور سستی چیز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں زیادہ سے زیادہ ڈالرجمع کرنے کے لیے سبسڈی دیناحکومتوں کی مجبوری ہے خیر چین اور بھارت کے پاس زرعی اشیا کے ساتھ عالمی منڈی میں بیچنے کے لیے ادویات،کمپیوٹر اور فولاد سے تیار ہونے والا سامان بھی ہے مگر پاکستان میں بیرونی تجارت کے لیے محدود زرائع ہیں اور عام طور پر ٹیکسٹائل،چینی،چاول،نمک برآمد کرنے پر انحصار ہے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دور میں بھی ڈالر جمع کرنے کے لیے اسی طریقہ کار پر عمل کیا جاتا رہا لیکن موجودہ بھونچال جس طرح انہوناظاہرکیا جارہا ہے سے مترشح ہے کہ بات عالمی منڈی میں چینی سستی بیچنے سے بڑھ کر ہے اور عمران خان کچھ حلقوں کے اب منظورِ نظر نہیں رہے تبھی بات کاجو بتنگڑ بنایا گیا ہے یہ خالی ازعلت نہیں اختتامی نکتے سے قبل پہلے بھی ایسی ہی فضا بنتی رہی ہے۔
    واجد ضیا کی چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ میں فائدہ اُٹھانے والوں میں چوہدری مونس الٰہی کا خاص طور پر تزکرہ کیا گیاجس کی وجہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کچھ عرصے سے چوہدری مونس الٰہی باربار بُری حکمرانی پر تنقید کر رہے ہیں اورتو اور چوہدری پرویز الٰہی بھی غیرجانبداری اور خفگی کا اظہار کرتے ابہام نہیں رکھتے کرونا وائرس پر پارلیمانی کمیٹی واضح ثبوت ہے اسی لیے ملز انتظامیہ سے تعلق نہ ہونے کے باوجود اُن کے بیٹے اور جانشین کوبدنام کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت چوہدری برادران پردباؤڈال کر حمایت برقرار کھنے کی خواہشمند ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ چوہدری برادران کے چند ووٹوں کی مرہونِ منت حکومت سے شاکی حلقے یہ بیساکھی ہٹائے بغیر آسانی سے تبدیلی نہیں لا سکتے کیونکہ چوہدری برادران اگر الگ ہوتے ہیں تو مرکز کے ساتھ پنجاب میں بھی تبدیلی لانا بہت آسان ہے مگر کسی اور اتحادی کو الگ کرنے سے اِس طرح مقصد پورا نہیں ہوسکتا واجد ضیا نے چوہدری مونس الٰہی کا نام رپورٹ میں ڈال کر ایک طرف حکومت کی خوشنودی حاصل کر لی ہے دوسری طرف تبدیلی کے خواہشمندوں کا بھی دل جیت لیا ہے سچ یہ ہے کہ اگر چوہدری برادران کی پنجاب میں فیصلہ کُن حثیت نہ ہوتی تو چوہدری مونس الٰہی کا نام ہرگز شامل نہ ہوتا مگر اب تو واضح طورپر حالات اختتامی مراحل کی طرف جاتے نظر آتے ہیں اور کہانی کا انجام خوشگوار ہوتا ہے یا ناخوشگوار،نگاہ پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے۔

hameedullahbhati@gmail.com

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔