ملک کا سیاسی منظرنامہ ہیجان کا شکار نظر آتا ہے پہلے مولانا فضل الرحمٰن کے رویے میں لچک تھی اور وہ بات چیت پرآمادہ وتیار نظر آتے تھے مگر حکومت کی طرف سے باربارتزلیل اور اہمیت نہ ملنے پراب بے لچک موقف اپناچکے ہیں صورتحال کی تبدیلی سے حکومتی رویہ متاثر ہوا ہے اور اب وہ بات چیت کے لیے نہ صرف کمیٹی بنا چکی ہے بلکہ آزادی مارچ روکنے کے لیے کافی نرمی پر بھی آمادگی ظاہر کرنے لگی ہے لیکن لگتا ہے رویے میں نرمی لانے میں حکومت نے خاصی تاخیر کردی ہے اگر حریف جماعتوں کوچڑانے سے احتیاط کی جاتی تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے ہمارے سیاسی بزرجمہر اقتدار میں آتے ہی بدل جاتے ہیں اپوزیشن میں جو باتیں اچھی لگتی ہیں وہی حکومت ملتے ہی بُری معلوم ہونے لگتی ہیں یہی موجودہ حکومت کر رہی ہے ارے بھائی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے آپ نے دھرنا دیاجی بھر کر سب کو بُرابھلاکہاوزیرِ اعظم سے استعفٰی مانگا اگر وہ سب کچھ ٹھیک تھا تو اب آپ بھی کچھ برداشت کریں اور تنقید سُننے سے نہ بھاگیں کچھ حوصلہ کریں مارچ سے پہلے ہی کیوں ہاتھ پائوں پھولے ہوئے ہیں؟ نواز شریف کے ججز بحالی مارچ کی طرح موجودہ آزادی مارچ کی کامیابی کے آثار بہت کم ہیں طاہرالقادری کے دھرنے کی طرح ناکام ہو نے کی صورت میں تو حکومت کو تقویت مل سکتی ہے جس کے بعد نہ صرف مدت اقتدار پوری ہوجائے گی بلکہ آئندہ انتخابات میں بھی جیت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے مگر ابھی سے حکومت سہمی بیٹھی ہے تنقیدسب کا جمہوری حق ہے جب آپ باہر جا کرہر ملک میں بے ایمان اپوزیشن کا ورد کریں گے تو اپوزیشن کے منہ سے کلمہ خیر کیسے نکل سکتا ہے؟۔واقفانِ حال کہتے ہیں سب کچھ اچھا نہیں کہیں نہ کہیں خرابی پیداہوچکی ہے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مکینوں میں اگر دوریاں نہیں بھی تو بھی کچھ سرد مہری جنم لے چکی ہے حالانکہ اپوزیشن لاڈلا،چہیتااور سلیکٹڈکہتی ہے لیکن لاڈلا اور چہیتا جیسے الفاظ مناسب نہیں رہے اب واقفان ِ حال کہاں تک درست ہیں اور اُن کے قیافوں میں کتنی صداقت ہے یہ تو راولپنڈی اور اسلام آباد والے زیادہ بہتر جانتے ہیں سرِدست خرابی کی بات میں کچھ زیادہ وزن نظر نہیں آتا مگر مولانا فضل الرحمٰن جیسے سردوگرم چشیدہ کے بارے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتے بلکہ سیاسی موسم کے بارے سُن گُن لے کر ہی قدم اُٹھاتے ہیں اب وہ اچانک کیوں بپھرگئے ہیں؟لگتا ایسے ہی ہے جیسے اُنھیں کوئی مصدقہ خبرنما خوشخبری ملی ہے اگر سُن گُن لیے بنا قدم اُٹھاچکے ہیں تو یہ بات ہضم نہیں ہو تی کیونکہ آزادی مارچ سے پہلے ہی کچھ تبدیلی تو نظرآنے لگی ہے مثال کے طور پر حکومتی رویے میں لچک پیدا ہوچکی ہے اور پہلی بار ڈیزل کے بغیر چلنے والی اسمبلی کی بات کرنے والے وزیرِ اعظم میں پہلے جیسا اعتماد اب عنقا ہے بلکہ کمزوری کا تاثر بڑھنے لگا ہے علاوہ ازیں حکومتی ترجمانوں کی قینچی کی طرح چلنے والی زبانیں بھی کچھ سُست ہوگئی ہیں حالانکہ ایسا رویہ پہلے اپنایاہوتا توپہلی بار اقتدار میں آنے والی پی ٹی آئی جیسی جماعت کو ایک سال بعد ہی مارچ اور دھرنے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔مولانا فضل الرحمٰن مارچ یا دھرنے کو کتنا بھی ضروری قراردیں ایک بات طے ہے کہ انھوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ایسے حالات میںجب پاکستان کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور کشمیریوںکا مقدمہ لڑنے کے لیے پوری قوم کو یکجا نظر آنا چاہئے وہ انارکی کا سامان کر رہے ہیںآزادی مارچ کی صورت میں اتحادکی بجائے ایسا تاثربن رہا ہے جیسے ہم بحثیت قوم کسی معاملے میں بھی سنجیدہ نہیں ہوتے اورخطرات کے باوجود سرپھٹول چھوڑنے کو تیا ر نہیں پاکستان میں سیاسی انتشار سے بھارت ہی خوش ہو سکتا ہے اور پھرڈنڈہ بردارباوردی ملیشیا انصارالاسلام سے سلامی لینے کے لیے بھی ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جب پاکستان حکومت گرے لسٹ سے نکلنے کے جتن کر رہی تھی درپیش حالات کے تناظر میں حکومت کا انصارالاسلام پر پابندی لگانے کا فیصلہ درست لگتا ہے اگر جے یو آئی سے اتفاقیہ حرکت سرزد ہوئی ہے تو بھی وطن کے حالات کا تقاضہ ہے کہ سیاسی رہنما سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں اور اقتدار کی ہوس میں ملک کی نیک نامی کو داغدار نہ کریں اگر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وقت کا نتخاب کیا گیا ہے تو مجھے یہ کہنے دیجیے کہ اقتدار کو اوڑھنا بچھونا سمجھنے والوں کو قوم پہچانیں اور محاسبہ کرے جے یو آئی کا ماضی بھی کوئی شاندار نہیں جو پاکستان بنانے کو غلطی اور حصہ دار نہ ہونے کی بنا پر فخر کرے اُسے جو اچھا محسوس لگتاہے پاکستان چھوڑکروہیں چلی جائے مولانا فضل الرحمین کی گرفتاری کی صورت میں اسفند یارولی کی قیادت کرنے کی باتوں سے بھارت کے سوا کون خوش ہو سکتا ہے؟مارچ کے اعلان سے حکومتی حلقے پریشان ہیں مگریہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ حالات کو اِس نہج تک لانے میںزیادہ کردار بھی اُنھی کا ہے ڈیزل کی پھبتی کسنے والے اب زراسی آفتاد پر دُبک گئے ہیں حکومتی کمیٹی سے جے یو آئی نے بات چیت پر آمادگی دکھائی ہے اور اتوار کی رات جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفورحیدری نے ساڑھے آٹھ بجے کا وقت دیا ہے جس میں مولانا فضل الرحمٰن تو خیر نہیں ہوں گے پھر بھی یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ فریقین نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے اگر مزاکرات سے فرار ہوا جائے تو معاملات کو بند گلی میں لیجانے سے کوئی روک نہیں سکتا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو اگرمارچ سے دلچسپی ہے تو محض اتنی کہ کسی طرح عمران خان کو سیاسی منظر سے ہٹایا جائے اور احتساب کے عمل میں رکاوٹیں ڈالی جائیں عین ممکن ہے موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت لُٹیرے سیاستدانوں سے نرمی کرلے اور مارچ والے وزیرِ اعظم کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائیں ابھی تو بات کرنے سے قبل ن لیگ چاہتی ہے کہ عمران خان دھرنے پر معافی مانگیں جبکہ جے یو آئی کے پی کے سے امیر مولانا عطا الرحمٰن کا کہنا ہے مارچ روکا گیا تو پختون روایات کے مطابق جواب دیں گے جبکہ حکومتی مزاکراتی کمیٹی کے ممبران میں سنجیدگی نام کو بھی نہیں اورابھی تک ایک جگہ بیٹھنے پر بھی اتفاق نہیں کرسکی قوم تو اِتنا چاہتی ہے مارچ اور مزاکرات کا کھیل کھیلتے ہوئے ملکی مفاد مقدم رکھا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔